افغانستان کی جانب سے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاکستان کی سول آبادی پر گولہ باری – ڈاکٹرز اور متاثرہ افراد کے اہم بیانات سامنے آگئے
افغان طالبان رجیم نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں شہری آبادی پر حملہ کردیا.سکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 اپریل کو افغان طالبان نے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقے میں شہری آبادی پرگولہ باری کی،افغان طالبان کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ شہری کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر گرا جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کے 5 افراد زخمی ہوگئے،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل آفیسر ڈاکٹراشفاق کے مطابق اسپتال میں3 بچوں سمیت 5 زخمی اسپتال لائے گئے ہیں جو بلاسٹ انجری کا شکار ہیں، متاثرہ بچوں کو فوری طور پر ایڈمٹ کر کے علاج شروع کر دیا گیا ہے،
ڈاکٹر کے مطابق ایک مریض کا فریکچر ہے اور اس کے ایلبو جوائنٹ کی بیک سلیب کے ذریعے اسٹیبلائزیشن کر دی گئی ہے، ڈاکٹر کے مطابق تینوں بچوں کی حالت اس وقت زیرِ نگرانی ہے اور انہیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں
متاثرہ شخص نور علی کے مطابق گولہ اچانک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی،ایک اور متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا گھر لرز اٹھا اور کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا،اہلِ علاقہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی اس نوعیت کی گولہ باری میں عام شہری، خصوصاً بچے، بار بار نشانہ بن رہے ہیں جس سے علاقے میں خوف و غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں سرحد پار سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں عام شہری زخمی ہوئے تھے
