Baaghi TV

Blog

  • کالام کشتی حادثہ: خیبرپختونخوا حکومت نے دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی

    کالام کشتی حادثہ: خیبرپختونخوا حکومت نے دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے کالام کی جھیل سیف اللہ میں پیش آنے والے کشتی حادثے کی شفاف تحقیقات کے لیے دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    اس حوالے سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کو کمیٹی کا سربراہ جبکہ اسپیشل سیکرٹری خزانہ زبیر احمد کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی حادثے کے تمام حقائق، واقعات کی ترتیب اور اس کی بنیادی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کمیٹی کشتی کی تکنیکی حالت، حادثے کے وقت موسم کی صورتحال، آپریشنل انتظامات اور دیگر متعلقہ عوامل کی بھی تحقیقات کرے گی۔کمیٹی اس امر کا بھی تعین کرے گی کہ کشتی آپریشن متعلقہ قوانین، اجازت ناموں اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق چلایا جا رہا تھا یا نہیں۔ اس کے علاوہ کشتی چلانے والے کے لائسنس، پیشہ ورانہ اہلیت اور قانونی اجازت سے متعلق تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    حکومتی نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے وقت لائف جیکٹس، ریسکیو آلات اور دیگر حفاظتی انتظامات کی دستیابی اور ان کے مؤثر استعمال کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔ کمیٹی انتظامی، قانونی اور ریگولیٹری خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی۔مزید برآں، انکوائری کمیٹی مستقبل میں سیاحتی اور تفریحی مقامات پر اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے جامع سفارشات بھی مرتب کرے گی۔صوبائی حکومت نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی مکمل تحقیقاتی رپورٹ سات روز کے اندر حکومت کو پیش کرے۔

    واضح رہے کہ کالام کی جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد واقعے کی وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔

  • چودہ معصوم کلیوں کی جدائی پر شہر سوگوار ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    چودہ معصوم کلیوں کی جدائی پر شہر سوگوار ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    لاہور ( ) چودہ معصوم کلیوں کی جدائی پر شہر سوگوار ہے، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غم سے نڈھال کر دیا ہے۔چودہ معصوم بچوں کے جنازے ایک ایسا دردناک منظر ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس غم نے صرف متاثرہ خاندانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔انھوں نے کہا یہ واقعہ ہم سب کیلئے ایک بڑی نصیحت ہے کہ والدین اپنے بچوں کو صبح وشام کے اذکار ضرور یاد کروائیں ۔ اس سے انسان اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس المناک حادثہ پر ہر ماں کی آنکھ نم اور ہر باپ کا دل کانپ اٹھا ہے اور ہر حساس انسان اس سانحے پر رنجیدہ ہے۔ بچے جنت کے پھول ہوتے ہیں۔ ان کی مسکراہٹوں سے گھر کے آنگن مہکتے ہیں، ان کی معصوم باتوں سے زندگی میں خوشیاں بکھرتی ہیں اور ان کی موجودگی والدین کے لیے اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہوتی ہے۔ لیکن جب یہی ننھے پھول اچانک بچھڑ جائیں تو گھروں کی رونقیں ماتم میں بدل جاتی ہیں ۔دعا ہے کہ اللہ جان بحق ہونے والے تمام بچوں اور بچیوں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں اپنے خاص رحم و کرم کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔ اللہ تعالی ان کے والدین، بہن بھائیوں اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس عظیم سانحے کو برداشت کرنے کی ہمت نصیب فرمائے۔ ہم غمزدہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعاگو ہیں۔ یہ سانحہ ہم سب کے لیے ایک بڑی نصیحت بھی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صبح و شام کے مسنون اذکار اور دعائیں ضرور یاد کروائیں، کیونکہ جب بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا اور صبح و شام کے اذکار پڑھتا ہے تو وہ اللہ تعالی کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔زخمی بچوں کے علاج معالجہ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے ۔

  • غیر ملکی خواتین زیادتی کیس،چار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور،عدالت نے ماسک اتروا دیئے

    غیر ملکی خواتین زیادتی کیس،چار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور،عدالت نے ماسک اتروا دیئے

    لاہور: لاہور کی مقامی عدالت نے دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر تاوان کے لیے اغوا کرنے اور ان سے زیادتی کے مقدمے میں گرفتار چار ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس نے مقدمے میں گرفتار ملزمان رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان اور ساجد علی کو کینٹ کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں پیش کیا، جہاں کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران فاضل جج نے ملزمان کے چہروں سے ماسک اتروا کر ان کی حاضری مکمل کروائی۔ پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ خواتین غیر ملکی شہری ہیں اور انہوں نے مرکزی ملزم رضا ڈار کو نامزد کیا ہے۔پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے سے ملک کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور ملزمان سے مزید تفتیش ناگزیر ہے، لہٰذا ان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا، جسے بعد ازاں سناتے ہوئے چاروں ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزمان کو 8 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ تفتیشی پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔

  • اسرائیلی  فوج کی فائرنگ، فلسطینی فٹبالر  شہید، فیفا کی خاموشی پر تنقید

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ، فلسطینی فٹبالر شہید، فیفا کی خاموشی پر تنقید

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں فلسطینی فٹبالر اور گول کیپر سلیم الاشقر شہید ہو گئے، جبکہ ان کی شہادت پر عالمی فٹبال تنظیم فیفا کی خاموشی کو مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے رواں ہفتے کے آغاز میں سلیم الاشقر کی شہادت کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق 32 سالہ گول کیپر کو خان یونس کے شمال مشرق میں واقع قصبے القارا میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے دوران گولی لگی، جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔سلیم الاشقر غزہ کے مختلف اسپورٹس کلبوں کی نمائندگی کر چکے تھے اور بطور گول کیپر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی شادی صرف پانچ ماہ قبل ہوئی تھی، جبکہ ان کی اہلیہ حاملہ ہیں اور اپنے پہلے بچے کی پیدائش کی منتظر ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق سلیم الاشقر کی شہادت کے بعد کھیلوں کے حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی کھلاڑیوں کی ہلاکتوں پر مؤثر مؤقف اختیار کرے۔فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ کے دوران اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی کھلاڑی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ غزہ میں گزشتہ 22 ماہ کے دوران 662 فلسطینی کھلاڑیوں اور اسپورٹس عہدیداروں کی ہلاکت بھی رپورٹ کی گئی ہے۔

  • قومی کرکٹرز کو بیرونِ ملک لیگز کھیلنے کی اجازت، پی سی بی نے این او سیز جاری کر دیے

    قومی کرکٹرز کو بیرونِ ملک لیگز کھیلنے کی اجازت، پی سی بی نے این او سیز جاری کر دیے

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کو مختلف بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کے لیے این او سیز جاری کر دیے ہیں۔

    پی سی بی ذرائع کے مطابق محمد حارث، شاداب خان، محمد نعیم، عبداللہ شفیق اور فرحان یوسف سمیت متعدد کھلاڑیوں کو بیرونِ ملک لیگز کھیلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔اس کے علاوہ شمائل حسین، مہران ممتاز، عثمان خان، علی شبیر، محمد فاروق، محمد عمران، محمد باسط اور خلیل احمد کو بھی این او سی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 13 پاکستانی کرکٹرز کو گلوبل سپر لیگ 2026 میں شرکت کے لیے این او سیز دیے گئے ہیں، جبکہ معاذ صداقت کو کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) میں شرکت کے لیے بھی پی سی بی کی جانب سے این او سی جاری کیا گیا ہے۔

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ این او سیز کا اجرا بورڈ کی پالیسی اور قومی و ڈومیسٹک مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاکہ کھلاڑی بین الاقوامی لیگز میں شرکت کے ساتھ ساتھ قومی ذمہ داریوں کو بھی احسن انداز میں نبھا سکیں۔

  • آزاد کشمیر کی تاجر برادری کا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیانیے سے لاتعلقی کا اعلان

    آزاد کشمیر کی تاجر برادری کا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیانیے سے لاتعلقی کا اعلان

    آزاد کشمیر کی تاجر برادری نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرپسند عناصر عوام میں انتشار پھیلانے میں ناکام رہے ہیں اور کاروباری طبقہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہے۔

    تاجر برادری کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ دشمن معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد مختلف حربے آزما کر بدامنی اور انتشار کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم آزاد کشمیر کے عوام نے ان سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دباؤ کے باوجود تاجروں نے اپنی دکانیں اور کاروبار معمول کے مطابق کھلے رکھے، جس سے یہ واضح پیغام گیا کہ کاروباری برادری کسی بھی قسم کے دباؤ یا خوف کو قبول نہیں کرتی۔تاجر رہنماؤں کے مطابق بعض عناصر نے نوجوانوں کے ذہنوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے کی کوشش کی، لیکن عوام اور تاجروں کے اتحاد نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر کے غیور عوام اور تاجر برادری آئندہ بھی امن، استحکام اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کو ترجیح دیتے ہوئے ہر قسم کی انتشار انگیز سرگرمی کا مقابلہ کریں گے۔

  • معرکہ حق میں کامیابی اور ایران امریکہ جنگ بندی پر سر فخر سے بلند ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    معرکہ حق میں کامیابی اور ایران امریکہ جنگ بندی پر سر فخر سے بلند ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں قومی پیغام امن کمیٹی کا کردار قابلِ تعریف ہے اور پنجاب حکومت کے اقدامات کو سراہا جانا اعزاز کی بات ہے۔

    اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں اقلیتوں کو بھرپور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ تمام سرکاری ادارے عوام کی خدمت اور امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور محنت سے کام کر رہے ہیں،مریم نواز نے سرگودھا میں بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم کے خاتمے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی اور ایران امریکہ جنگ بندی پر سر فخر سے بلند ہے، پاکستان کو پوری دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، اس عزت کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈمارشل عاصم منیراور ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارکو جاتا ہے، معرکۂ حق میں کامیابی نے پاکستان کو عالمی سطح پر منفرد مقام دلایا، تاہم ملک کو دہشت گردی اور معاشرتی تخریب جیسے دوہرے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دہشت گرد عناصر معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، اس لیے تخریب کاروں کے خاتمے کو اولین ترجیح بنانا ہوگا،

    وزیراعلیٰ پنجاب نے علما کرام پر زور دیا کہ وہ محراب و منبر سے اصلاحِ معاشرہ، اخلاقی تربیت اور جرائم کے خلاف شعور اجاگر کریں۔معاشرے کی اصلاح کے لیے علما کا کردار ناگزیر ہے اور آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہے،اگر آپ اپنے گھروں میں محفوظ نہیں تو میں بطور وزیراعلیٰ ناکام اور نامراد ہوں کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے اور مجھے اس کا احساس ہے،

  • انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے قانون سازی درکار ہوگی،وزارت آئی ٹی

    انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے قانون سازی درکار ہوگی،وزارت آئی ٹی

    پاکستان میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں

    وزارت آئی ٹی نے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو تحریری جواب میں آگاہ کردیا ،وزارت آئی ٹی کی جانب سے کہا گیا کہ انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے قانون سازی درکار ہوگی، انٹرنیٹ اب حکمرانی، معیشت، تعلیم اور صحت کے لیے بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے، انٹرنیٹ کی بندش سے معیشت، سرکاری امور اور سماجی سرگرمیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں، موجودہ آئین اور قوانین میں انٹرنیٹ کو لازمی سروس کا درجہ حاصل نہیں ہے، انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے سے ڈیجیٹل سرکاری خدمات کا تسلسل یقینی بنایا جا سکتا ہے، انٹرنیٹ کو لازمی سروس بنانے سے ڈیجیٹل معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ ملے گا، قومی سلامتی کے معاملات میں حکومت کو عارضی پابندیاں لگانے کا اختیار برقرار رکھنا ہوگا،انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے سے قبل واضح قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک بنانا ضروری ہوگا، ٹیلی کام کمپنیوں کو نیٹ ورک کی مضبوطی، بیک اپ سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی پر مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی، انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے سے قبل تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کی ضرورت ہے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ اور دیگر اداروں سے مشاورت ضروری ہوگی،انٹرنیٹ قومی ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور عوامی خدمات کے لیے بنیادی سہولت بن چکا ہے

  • شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں عروج پر

    شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں عروج پر

    امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ کل تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ادا کی جائے گی، جہاں ملکی و غیر ملکی شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔رپورٹس کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو آخری رسومات کے لیے تہران منتقل کر دیا گیا ہے۔ نمازِ جنازہ میں دنیا بھر سے تقریباً 100 ممالک کے مندوبین، متعدد سربراہانِ مملکت، مذہبی رہنما، سیاسی شخصیات اور علمی حلقوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے، جبکہ ایرانی ذرائع کے مطابق جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ایران میں امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں غیر ملکی وفود کی جانب سے شہید رہبرِ انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب جاری ہے۔ عراق کی حشد الشعبی کی اعلیٰ قیادت سمیت مختلف ممالک کے سیاسی، مذہبی اور علمی رہنماؤں نے شہید رہنما کے جسدِ خاکی پر حاضری دی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق امام خمینی حسینیہ میں منعقدہ الوداعی تقریب کے دوران شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ہال میں لایا گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے "لبیک یا خامنہ ای” اور دیگر انقلابی نعروں کے ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہا۔سرکاری اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد شہید رہبرِ انقلاب کے جسدِ خاکی کو تہران سے قم منتقل کیا جائے گا، جہاں عوام آخری دیدار کریں گے۔ اس کے بعد میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف اور کربلا لے جایا جائے گا، جبکہ بعد ازاں جسدِ خاکی کو دوبارہ ایران لا کر مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیا بریگیڈ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ یا جلوس کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی تو اس کا نہایت سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔بریگیڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "دشمن شہید رہبرِ انقلاب کے جنازے کو نشانہ بنانے سے قبل دو مرتبہ سوچ لے، کیونکہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔”

    ایران بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں زائرین اور سوگوار مختلف شہروں سے تہران پہنچ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔

  • مودی کی سرپرستی میں رام مندر فنڈز چوری کا انکشاف،آر ایس ایس کو بڑا دھچکا

    مودی کی سرپرستی میں رام مندر فنڈز چوری کا انکشاف،آر ایس ایس کو بڑا دھچکا

    نئی دہلی: بھارت میں رام مندر کے فنڈز میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ مختلف میڈیا رپورٹس اور تجزیوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مندر کو ملنے والے عطیات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق رام مندر کو ماہانہ تقریباً 40 ملین سے 100 ملین بھارتی روپے تک عطیات موصول ہوتے ہیں، تاہم ان فنڈز کے استعمال میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ بلومبرگ سے منسوب رپورٹس کے مطابق عطیات کے انتظام اور اخراجات کے حوالے سے شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

    بھارتی سیاسی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ عوام کی جانب سے مذہبی عقیدت کے تحت دیے گئے عطیات کا ایک حصہ مبینہ طور پر اپنے اصل مقصد کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر اپوزیشن اور ناقدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ادھر بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر سے منسوب اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق زیرِ بحث ٹرسٹ میں مودی حکومت کے نامزد افراد اور آر ایس ایس کے نمائندے بھی شامل ہیں،

    سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف مذہبی عطیات کے انتظام بلکہ حکومتی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔مودی عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونک کر اقتدار بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے