Baaghi TV

خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کرنے والا بین الاقوامی نیٹ ورکس بے نقاب، 57 ملزمان گرفتار

یورپ: سات ممالک پر مشتمل ایک بڑے بین الاقوامی پولیس آپریشن میں ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا پردہ فاش کیا گیا ہے جو خواتین کو نشہ آور ادویات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے اور آن لائن خفیہ چیٹ گروپس کے ذریعے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی، منصوبہ بندی اور مجرمانہ معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔

یورپی پولیس ادارے (یوروپول) اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق ان گروہوں میں شامل افراد نہ صرف متاثرہ خواتین کو بے ہوش یا نیم بے ہوش کرنے کے طریقے ایک دوسرے کو سکھاتے تھے بلکہ زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتے تھے، جبکہ مختلف ادویات کے استعمال، ان کی مقدار اور پولیس سے بچنے کے طریقوں پر بھی رہنمائی فراہم کی جاتی تھی۔برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق جرمنی اور برطانیہ کی قیادت میں امریکا، برازیل، کینیڈا، فرانس، ہنگری، نیدرلینڈز اور اسپین کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا، جسے "پروجیکٹ میڈوسا” کا نام دیا گیا ہے۔یہ آپریشن رواں سال اپریل میں شروع کیا گیا تھا تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے منظم ہونے والے ایسے جنسی جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے، جنہیں حکام نے تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی خطرہ قرار دیا ہے۔یوروپول کے مطابق اب تک اس کارروائی کے دوران 150 سے زائد متاثرین اور مشتبہ ملزمان کی شناخت کی جا چکی ہے، جبکہ 270 سے زیادہ نئی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق اب تک 57 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق زیادہ تر متاثرہ خواتین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔ کئی خواتین کو اس وقت اس ہولناک حقیقت کا علم ہوا جب پولیس نے تحقیقات کے دوران ان سے رابطہ کیا۔تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اکثر واقعات میں زیادتی کرنے والا کوئی اجنبی نہیں بلکہ متاثرہ خاتون کا شوہر، ساتھی یا قریبی جاننے والا شخص ہوتا ہے، جبکہ بعض کیسز میں ایک ہی خاتون کو متعدد افراد اجتماعی منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بناتے رہے۔یوروپول کے مطابق مجرم انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، بند فورمز اور خفیہ چیٹ گروپس استعمال کرتے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کو نشہ آور ادویات کے استعمال، متاثرہ شخص کو بے ہوش کرنے، شواہد مٹانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے طریقے سکھاتے ہیں۔ان گروپس میں مجرمان اپنے جرائم کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتے ہیں، جس سے ایسے رویوں کو معمول کا عمل بنا کر مزید افراد کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

برطانیہ کے کراؤن پراسیکیوشن سروس کی نمائندہ سیوبھن بلیک نے کہا کہ یہ ان کے پورے پیشہ ورانہ کیریئر میں دیکھے جانے والے "سب سے ہولناک” جنسی جرائم میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو ان ہی کے گھروں میں، ایسے افراد کے ہاتھوں نشانہ بنایا جاتا ہے جن پر وہ مکمل اعتماد کرتی ہیں، جو اعتماد کی بدترین خلاف ورزی ہے۔

یہ تحقیقات فرانس کے معروف گیزیل پیلیکو کیس کے بعد سامنے آئیں، جس میں خاتون کے شوہر نے برسوں تک اسے نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کیا اور درجنوں اجنبی مردوں کو اس کے ساتھ زیادتی کی دعوت دیتا رہا۔اس مقدمے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور صنفی امتیاز پر نئی عالمی بحث چھیڑ دی تھی۔ اس کیس میں مرکزی ملزم کو 2024 میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ مزید 50 افراد بھی مختلف سزاؤں کے مستحق قرار پائے تھے۔

حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں یورپ میں اس نوعیت کے متعدد مقدمات سامنے آئے ہیں۔جرمنی میں ایک شخص کو برسوں تک اپنی بے ہوش بیوی کے ساتھ زیادتی کرنے اور اس کی ویڈیوز آن لائن شیئر کرنے کے جرم میں آٹھ سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔اسی طرح 2025 میں چین سے تعلق رکھنے والے ژین ہاؤ زو کو برطانیہ اور چین میں دس خواتین سے زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ اپریل میں پولینڈ میں بھی ایسے ہی ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کا تعلق ایک خفیہ ٹیلیگرام گروپ سے بتایا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے جرائم کا شکار کسی بھی عمر، سماجی حیثیت یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین ہو سکتی ہیں۔پولیس نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو شبہ ہو کہ اسے نشہ آور ادویات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے تو وہ بلا خوف متعلقہ حکام سے رابطہ کرے تاکہ متاثرین کو انصاف اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔یوروپول کا کہنا ہے کہ "پروجیکٹ میڈوسا” اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی آپریشن ہے، جس کا مقصد ایسے منظم جرائم کو بے نقاب کرنا ہے جو برسوں سے آن لائن خفیہ نیٹ ورکس اور بند دروازوں کے پیچھے پنپ رہے تھے۔

More posts