Baaghi TV

Blog

  • اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا

    اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا

    اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے صمود فلوٹیلا کو روک لیا۔

    انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے جہازوں کو اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں روک کر کارروائی شروع کر دی، جبکہ متعدد کشتیوں سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ڈرونز، کمیونیکیشن جیمنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے بحیرہ روم میں فلوٹیلا کو گھیر لیا۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ 58 میں سے 7 کشتیوں کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے کشتیوں کو گھیر کر شرکا کو ہتھیاروں کے زور پر قابو میں لیا اور متعدد جہازوں سے رابطہ منقطع کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا۔

    اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ فلوٹیلا کو اسرائیلی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا، جبکہ فوج پُرعزم انداز میں کارروائی کر رہی ہے۔

    فلوٹیلا کے ترجمان نے اس اقدام کو غیر مسلح شہری کشتیوں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق 400 سے زائد افراد ان جہازوں پر سوار ہیں جن کی سلامتی خطرے میں ہے۔

    رپورٹس کے مطابق فلوٹیلا اٹلی سے روانہ ہو کر غزہ کی جانب جا رہا تھا اور اسرائیلی کارروائی کے وقت یہ غزہ سے قریباً 600 ناٹیکل میل دور تھا، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فاصلے پر کی جانے والی کارروائی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل غزہ کے لیے جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روک چکا ہے اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے کر بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

  • عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    30 اپریل 2026 تک، مشرق وسطیٰ میں 61 دن سے جاری تنازعہ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز مزید اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

    امریکی زیر قیادت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں جنگ کے دوران نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو 30 اپریل کو مختصر وقت کے لیے $119.71 فی بیرل تک جا پہنچیں-

    برینٹ خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے فیوچرز کی قیمت 1.91 ڈالر یا 1.62 فیصد اضافے کے ساتھ 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ جولائی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 111.38 ڈالر رہی، جو 94 سینٹس یا 0.85 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

    ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے قیمت 63 سینٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس سے قبل سیشن میں اس میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    برینٹ کروڈ 120 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جو فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز سے اب تک 55 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی سخت کر دی ہے، جس کے تحت ایران کی تیل برآمدات کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایران کی جانب سے خلیجی آبی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز) پر جزوی کنٹرول اور کشیدگی نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے 13 ملین بیرل روزانہ کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے بھی قیمتوں کو بڑھایا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے 2026 میں عالمی افراط زر میں ریکارڈ اضافے کا خطرہ ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو تیل کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے پر غور کیا گیا۔ اس پیش رفت نے مارکیٹ میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے جلد حل ہونے یا آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایران نے خلیج سے گزرنے والی زیادہ تر بحری ترسیل کو محدود کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپیک پلس ممالک کے گروپ کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کے اثرات محدود رہیں گے۔

    ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو جنگ سے قبل کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔

  • لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی،  حالت تشویشناک

    لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی، حالت تشویشناک

    لندن میں چاقو بردار شخص نے 2 یہودی راہ گیروں پر حملہ کردیا –

    دی گارڈین کے مطابق شمال مغربی لندن کے گولڈرز گرین میں بدھ کی صبح 76 اور 34 سال کی عمر کے دو یہودی مردوں پر چاقو سے حملہ کیا گیا ، اور ان کا علاج یہودی رضاکار ایمبولینس سروس ہتزولا کر رہا ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے ایک 45 سالہ شخص کو گرفتار کیا، اور فورس اسے دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے، افسران اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے نے جان بوجھ کر یہودی برادری کو نشانہ بنایا۔

    بدھ کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے باہر بات کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر نے تصدیق کی کہ چاقو مارنے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے ایک بزرگ شخص کے گلے پر وار کیا اور بعد ازاں ایک اور شخص کو نشانہ بنایا۔

    40 سالہ ملزم نے گرفتاری سے قبل پولیس اہلکاروں پر بھی وار کرنے کی کوشش کی تاہم حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا تاہم شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی چاقو بردار شخص کے حملے میں ایک بزرگ کے گلے پر گہرے زخم آئے جب کہ ایک ادھیڑ عمر شخص کے پیٹ پر ضرب لگی زخمیوں میں سے ایک کی عمر 70 سال سے زائد جبکہ دوسرا 30 سال کے قریب ہے۔

    ایک زخمی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا ان دونوں زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیاجہاں بزرگ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے تاحال پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی اس واقعے کے محرکات کا پتا چل سکا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے ماہر افسران اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کر تمام حالات اور دہشت گردی سے ممکنہ تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر کا کہنا ہے، 
اگرچہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ہم تیزی سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا؟

    ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ لیوک ولیمز، جو اس علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ اس ہولناک حملے کے متاثرین کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں، ہم ان افسران کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مزید نقصان سے قبل فوری طور پر ٹیزر استعمال کر کے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہم جانتے ہیں کہ اس علاقے میں حالیہ متعدد واقعات کے باعث یہ واقعہ لوگوں میں شدید پریشانی اور تشویش پیدا کرے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہودی کمیونٹی پر حملہ دراصل پورے برطانیہ پر حملہ ہے،لندن کے میئر صادق خان نے بھی کہا کہ معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ یہود مخالف واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات کرے،اسرائیلی صدر اسحاق ہرزویگ نے اس واقعے کو ناقابل قبول صورتحال قرار دیا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں ایک لاکھ کے قریب فلسطینی بچے، خواتین، بزرگ اور جوان شہید ہوچکے ہیں جس کے بعد سے دنیا بھر میں یہودی افراد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  • امریکا کا  جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا کا جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا نے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (سی وی این-78) کو مشرقِ وسطیٰ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیاہے-

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اس جدید طیارہ بردار بحری جہاز کی واپسی کو اسٹریٹجک ترتیبِ نو کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوجی تعیناتی کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہےجیرالڈ فورڈ دنیا کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں شمار ہوتا ہے اور اسے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے اظہار کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ممکنہ سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کا تاثر بھی دیا جا سکتا ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جوہری معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کر دیئے ہیں، ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔

    بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا یران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔

  • 
آبنائے ہرمز بندش، تیل مہنگا اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ متاثر

    
آبنائے ہرمز بندش، تیل مہنگا اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ متاثر

    ‎آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے، جبکہ امریکی خام تیل بھی 104 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بندش عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے، جس کا فوری اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ موجودہ صورتحال نے بھی یہی خدشات بڑھا دیے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب اس غیر یقینی صورتحال کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی حالات کس طرح مقامی مالیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس سے درآمدی بل میں اضافہ اور مہنگائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔

  • 
ایران جنگ پر امریکا کے 25 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون کا انکشاف

    
ایران جنگ پر امریکا کے 25 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون کا انکشاف

    ‎امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینیئر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر امریکا اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے اس جنگ کے اخراجات کا باضابطہ تخمینہ سامنے آیا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
    ‎غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کے کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بڑی رقم کا زیادہ تر حصہ اسلحہ، گولہ بارود اور جنگی سازوسامان پر خرچ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ جاری آپریشنز اور دفاعی ضروریات ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قدر بڑے پیمانے پر اخراجات نہ صرف امریکا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جنگی اخراجات میں اضافہ اکثر دفاعی بجٹ میں تبدیلی اور دیگر شعبوں پر مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے مالی اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے، خاص طور پر اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی۔ اس کے علاوہ عالمی منڈیوں، خاص طور پر توانائی کے شعبے پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا امکان ہے۔

  • 
امریکا میں پیٹرول 4 سال کی بلند ترین سطح پر

    
امریکا میں پیٹرول 4 سال کی بلند ترین سطح پر

    ‎امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھتے ہوئے چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے عوام پر اضافی مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکی آٹوموبیل ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ اضافہ خطے میں جاری ایران سے متعلق کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث سامنے آیا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی گیلن قیمت بڑھ کر 4.1 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف عام شہریوں بلکہ ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں میں یہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی منڈی پر پڑتے ہیں، جس سے امریکا سمیت کئی ممالک میں ایندھن مہنگا ہو جاتا ہے۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

  • 
ایران کے پاس طویل جنگ کیلئے وسیع میزائل و ڈرون ذخائر موجود

    
ایران کے پاس طویل جنگ کیلئے وسیع میزائل و ڈرون ذخائر موجود

    ‎ایرانی پارلیمنٹ کے سینئر رکن علاؤ الدین بروجردی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس دشمن کے خلاف طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی مکمل فوجی صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کیا اور کئی اہم دفاعی صلاحیتیں اب بھی خفیہ ہیں۔
    ‎تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بروجردی نے بتایا کہ ایران کے پاس موجود اسلحہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ وہ برسوں تک جنگی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران نے اپنی تمام تر طاقت استعمال نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے پاس مزید صلاحیت بھی موجود ہے۔
    ‎انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ اس وقت تقریباً 120 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب گزرنے کے منتظر ہیں، جبکہ کئی ایرانی جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے سمندری راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے جا سکے۔
    ‎بروجردی نے باب المندب کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ راستہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملاتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی عالمی بحری راستوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

  • 
ایران جنگ کے اثرات، ملائیشیا نے سرکاری بجٹ میں کٹوتی کر دی

    
ایران جنگ کے اثرات، ملائیشیا نے سرکاری بجٹ میں کٹوتی کر دی

    ‎ایران جنگ کے معاشی اثرات اب عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں اور اسی تناظر میں ملائیشیا نے ایک بڑا مالیاتی فیصلہ کرتے ہوئے تمام وزارتوں کے بجٹ میں کٹوتی کا حکم دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔
    ‎ملائیشیا کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہنگامی ہدایت نامے میں تمام سرکاری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سال 2026 کے اپنے آپریٹنگ بجٹ میں فوری کمی کریں۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ ملک کو بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی معاشی حالات کا سامنا ہے۔
    ‎محکمہ خزانہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا سبسڈی بل 58 ارب رنگٹ سے تجاوز کر سکتا ہے، جو کہ حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومت نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ سبسڈی کے لیے مختص بجٹ سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں، جس نے مالیاتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ملائیشیا کی معیشت پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ چونکہ ملائیشیا بھی توانائی کے شعبے میں عالمی منڈی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے اس کے مالیاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔