تہران: ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع اور نمازِ جنازہ کے لیے ملک بھر میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف اسلامی اور علاقائی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود بھی تہران پہنچ رہے ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والے زائرین اور شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر ملک بھر کے 5 ہزار سرکاری اسکول عارضی رہائش کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ان اسکولوں میں تقریباً 40 سے 50 ہزار کلاس رومز کو قیام، آرام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کو توقع ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں 100 سے زائد ممالک کے سرکاری اور غیر سرکاری نمائندے شرکت کریں گے، جبکہ مجموعی شرکاء کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کے باعث تہران اور دیگر شہروں میں سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
تعزیتی تقریبات کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں وہ تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے انہیں الوداع کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مختلف ممالک اور تنظیموں کے نمائندے بھی تعزیتی اجتماع میں شریک ہوئے، جن میں سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید بن عبد الکریم الخریجی کی قیادت میں وفد، افغانستان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیر خارجہ امیر خان متقی، طالبان مخالف افغان رہنما احمد مسعود اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا اعلیٰ سطحی وفد شامل تھا۔حماس کے وفد میں اسماعیل درویش، موسیٰ ابو مرزوق، ظاہر جبارین، باسم نعیم اور ڈاکٹر خالد قدومی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جنہوں نے تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
روس کی سلامتی کونسل کے سربراہ دیمتری میدودیف تہران پہنچ گئے، جہاں انہوں نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم امریکا کیخلاف جدوجہد میں فاتح بن کر ابھرے گی، یہ کسی بھی دوسرے ملک کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔دیمتری میدودیف کا کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کی شہادت پر روس بھی دوست ملک کے دکھ میں شریک ہے۔روسی وفد نے دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی ہے۔
جمعے کی دوپہر کو مسلح افواج کی قیادت نے الوداعی ہال میں حاضر ہوکر مجاہد عظیم، سپریم کمانڈر، رہبر شہید کو سلام اور خراج عقیدت پیش کیا، اس موقع پر خاتم الانبیا (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی، پولیس کے کمانڈر ان چیف بریگیڈیئر جنرل احمدرضا رادان، وزارت دفاع کے سرپرست، فوج کے چیف کوآرڈینیٹر افسر اور متعدد دیگر افسروں اور کمانڈروں نے الوداعی ہال میں حاضر ہوکر آيت اللہ العظمی شہید سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا،فوجی قیادت نے اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کے خون سے سینچے گئے راستے پر گامزن رہنے کا عہد اور ملک اور انقلاب کی حفاظت کے لیے مکمل تیاری کا اعلان کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق تعزیتی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے موقع پر غیر ملکی وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ہزاروں ایرانی مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے، ایران میں ایک ہفتے پر مشتمل تدفینی تقریبات جاری ، حکام کے مطابق میت کو قم، نجف اور کربلا لے جانے کے بعد 9 جولائی کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران میں شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کی، پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے اظہار تعزیت کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ شہید علی خامنہ ای کی قیادت اور بصیرت کو نسلیں یاد رکھیں گی، ایران سے اظہار یکجہتی کیلئے میرے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد بھی گیا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل تھے، بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر ایاز صادق سمیت سینئر ارکان پارلیمنٹ بھی ساتھ تھے، سینئر وفاقی وزراء اور حکومتی اہلکار بھی پاکستان کے وفد کاحصہ تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
