امریکی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران بظاہر جتنے دور دکھائی دیتے ہیں، حقیقت میں اتنے فاصلے پر نہیں ہیں اور پسِ پردہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے میں ممکنہ کشیدگی میں کمی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سی این این کے مطابق جاری بیک چینل ڈپلومیسی کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس لانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل میں سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی رکاوٹ یا ٹول ٹیکس کے کھولنا ہے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آ سکے۔
رپورٹ کے مطابق سفارتی بات چیت کے اگلے مرحلے میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر گفتگو متوقع ہے، تاہم اس سے قبل اعتماد سازی کے اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مراحل وار مذاکرات کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سی این این کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ ایران کو اپنی ایٹمی صلاحیت سے دستبردار ہونا ہوگا، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ پیش رفت یا تعطل کا فیصلہ ہوگا۔
امریکا ایران پسِ پردہ سفارت کاری تیز
