امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو جلد پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باعث ایرانی تیل کی صنعت شدید دباؤ میں ہے اور پیداوار متاثر ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
اپنے بیان میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے سمندری راستوں پر سخت نگرانی اور پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی ترسیل اور پیداوار میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایران میں تیل نکالنے کا عمل رک سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کی معاشی اور توانائی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ پاسداران انقلاب کے رہنماؤں کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایران میں ایندھن کی قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی معیشت بلکہ خطے کی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کار اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایران کے پاس متبادل ذرائع اور ذخائر موجود ہیں، جو اسے فوری بحران سے بچا سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور توانائی کے شعبے میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس صورتحال کو گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑ سکتے ہیں۔
ایران میں پیٹرول قلت کا خدشہ، امریکی دعویٰ
