Baaghi TV

‎ایران کے پاس زمین کے علاوہ بڑے بحری جہازوں میں بھی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے: ماہرین

‎ماہرین کے مطابق ایران کے پاس ایسے کئی عملی آپشنز موجود ہیں جن کے ذریعے وہ امریکی ناکا بندی کے باوجود اپنی تیل کی پیداوار اور برآمدات کو فوری طور پر متاثر ہونے سے بچا سکتا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں ایسے متبادل انتظامات تیار کیے ہیں جو اسے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
‎بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق تیل ایران کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ برآمدات روکنے سے ایران پر دباؤ بڑھے گا۔ تاہم ماہرین اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے، جس کے باعث وہ فوری بحران سے بچ سکتا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نہ صرف زمینی تنصیبات میں تیل ذخیرہ کر سکتا ہے بلکہ بڑے آئل ٹینکرز کو بھی فلوٹنگ اسٹوریج کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایران کے پاس متعدد ویری لارج کروڈ کیریئرز موجود ہیں، جن میں ہر ایک لاکھوں بیرل تیل محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
‎مزید یہ کہ بعض رپورٹس کے مطابق ایران نے کچھ ٹینکرز کو آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے، جس سے اس کی سپلائی مکمل طور پر نہیں رکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایران کو کم از کم قلیل مدت میں معاشی دباؤ سے بچنے کا موقع دیتے ہیں۔
‎ایک توانائی تجزیہ کار کے مطابق ایران کو ماضی کے تجربات، خصوصاً کورونا وبا کے دوران ذخیرہ اندوزی کی حکمت عملی، سے بھی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ایک دہائی میں متبادل برآمدی راستوں اور سہولیات میں اضافہ بھی اس کی مدد کر رہا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ طویل مدت میں پابندیوں کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، تاہم فوری طور پر ایران کے لیے پیداوار بند کرنا ضروری نہیں ہوگا اور وہ چند ماہ تک اپنی تیل کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے۔

More posts