Baaghi TV

Blog

  • افغانستان کی جانب سے انگوراڈہ سے ملحقہ علاقوں پر گولہ باری،3 بچوں سمیت 5 زخمی

    افغانستان کی جانب سے انگوراڈہ سے ملحقہ علاقوں پر گولہ باری،3 بچوں سمیت 5 زخمی

    افغانستان کی جانب سے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاکستان کی سول آبادی پر گولہ باری – ڈاکٹرز اور متاثرہ افراد کے اہم بیانات سامنے آگئے

    افغان طالبان رجیم نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں شہری آبادی پر حملہ کردیا.سکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 اپریل کو افغان طالبان نے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقے میں شہری آبادی پرگولہ باری کی،افغان طالبان کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ شہری کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر گرا جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کے 5 افراد زخمی ہوگئے،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل آفیسر ڈاکٹراشفاق کے مطابق اسپتال میں3 بچوں سمیت 5 زخمی اسپتال لائے گئے ہیں جو بلاسٹ انجری کا شکار ہیں، متاثرہ بچوں کو فوری طور پر ایڈمٹ کر کے علاج شروع کر دیا گیا ہے،

    ڈاکٹر کے مطابق ایک مریض کا فریکچر ہے اور اس کے ایلبو جوائنٹ کی بیک سلیب کے ذریعے اسٹیبلائزیشن کر دی گئی ہے، ڈاکٹر کے مطابق تینوں بچوں کی حالت اس وقت زیرِ نگرانی ہے اور انہیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں

    متاثرہ شخص نور علی کے مطابق گولہ اچانک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی،ایک اور متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا گھر لرز اٹھا اور کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا،اہلِ علاقہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی اس نوعیت کی گولہ باری میں عام شہری، خصوصاً بچے، بار بار نشانہ بن رہے ہیں جس سے علاقے میں خوف و غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں سرحد پار سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں عام شہری زخمی ہوئے تھے

  • حزب اللہ  نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو روایتی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فائبر آپٹک یا جدید FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز روایتی الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظاموں (جیسے آئرن ڈوم) سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ریڈیو سگنل کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں، جس سے ان کا سگنل جام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

    یہ ڈرونز طویل فاصلے سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو فیڈ کی بدولت انتہائی درست نشانہ بناتے ہیں ان ڈرونز کی وجہ سے اسرائیلی ٹینکوں، بالخصوص مرکاوا ٹینک، اور فوجی ٹھکانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،، جس کے باعث نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے حزب اللہ نے اپنے ڈرون سسٹم کو جدید اور کم لاگت بنا کر میدان جنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہےیہ ٹیکنالوجی اسرائیل کے روایتی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

  • پاک بحریہ کی پہلی جدید ترین ہنگور کلاس آبدوز   کی کمیشننگ

    پاک بحریہ کی پہلی جدید ترین ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ

    بحری دفاع میں ایک اہم سنگ میل، پاک بحریہ کی پہلی جدید ترین ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ کی تقریب چین میں منعقد ہوئی جس کے بعد اسے بحریہ میں شامل کرلیا گیا ۔صدر آصف علی زرداری نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔

    صدر زرداری نے ہنگور کی کمیشننگ کو پاک بحریہ کی جدت کے سفر میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے ایک مضبوط، متوازن اور قابلِ اعتماد دفاعی پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع، بحری مفادات کے تحفظ اور تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی یقینی بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس موقع پر سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے اس بات پر زور دیا کہ اہم بحری گزرگاہوں کا تعطل عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔ اس تناظر میں ایک مستحکم اور عالمی قوانین پر مبنی بحری نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین بحری افواج ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگور کلاس آبدوزیں جو جدید ترین ہتھیاروں، سینسرز اور ایئر انڈیپینڈنٹ پروپلشن سے لیس ہیں، خطے میں بحری استحکام کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی ۔ یہ آبدوزیں جارحیت کو روکنے اور بحیرہ عرب میں اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

    نیول چیف نے کہا کہ ہنگور کا نام ہماری قومی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں، سابقہ ‘ہنگور’ دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بحری جہاز کو تباہ کرنے والی پہلی آبدوز تھی ۔ آبدوز ‘ہنگور’ اس شاندار ورثہ کو آگے بڑھائے گی کیونکہ یہ پاک بحریہ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے جو ہمارے بحری دفاع کو مضبوط اور ہمارے بیڑے کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرے گی۔پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور گہری دوستی کا ایک نیا باب ہے۔ تقریب میں پاک بحریہ اور پی ایل اے (نیوی) کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

  • رحیم یار خان میں دن دہاڑے  14 سالہ لڑکی اغوا

    رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی اغوا

    جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز سونگھا کر اغوا کر لیا گیا اور واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچی کی فوری بازیابی اور واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے،جس کے بعد رحیم یار خان پولیس سے منسوب ایک اکاؤنٹ میں کہا گیا ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے

  • مرنے کے بعد لاش کے سامنے رقص،موت کے بعد کی خواہش اہلخانہ نے کی پوری

    مرنے کے بعد لاش کے سامنے رقص،موت کے بعد کی خواہش اہلخانہ نے کی پوری

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک غیر معمولی واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں ایک شخص کی آخری رسومات اس کی اپنی انوکھی خواہش کے مطابق ادا کی گئیں، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

    رپورٹس کے مطابق تھائی لینڈ کے صوبے نکھون سی تھمارات میں 59 سالہ شخص ونیت ووراپورن طویل عرصے سے بیماری کا شکار تھا۔ زندگی کے آخری ایام میں اس نے اپنے اہلِ خانہ سے ایک غیر روایتی خواہش کا اظہار کیا کہ اس کی موت پر کوئی سوگ یا ماتم نہ کیا جائے بلکہ اس کی آخری رسومات کو ایک جشن کے طور پر منایا جائے۔مرحوم کی خواہش کے مطابق بدھ مت کے مندر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد تین “کوایوٹ ڈانسرز” کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے تابوت کے سامنے موسیقی پر رقص پیش کیا۔ اس دوران اہلِ خانہ اور دیگر شرکاء موجود رہے اور اس غیر معمولی منظر کو دیکھتے رہے۔

    اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ونیت ایک خوش مزاج اور زندہ دل انسان تھا، جو اپنی موت کے بعد بھی لوگوں کو غمزدہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے یہ منفرد خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرحوم کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے پورا کرنے کے پابند تھے۔

    یہ واقعہ 20 اپریل 2026 کو پیش آیا، جس کی ویڈیوز کو لائیو اسٹریم بھی کیا گیا۔ بعد ازاں یہ مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جہاں صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ افراد اسے زندگی کا جشن قرار دے رہے ہیں اور مرحوم کی خواہش کا احترام کرنے کو سراہ رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے روایات اور اخلاقی اقدار کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

  • وزیراعظم نےکیا اپنا گھر اسکیم کا افتتاح،گھر بنانے کیلئے ملے گا قرض

    وزیراعظم نےکیا اپنا گھر اسکیم کا افتتاح،گھر بنانے کیلئے ملے گا قرض

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بجٹ میں ہم بڑی چیزیں لے کر آئیں گے، وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے قرض کا حصول آسان بنایا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم کے اجراء کی تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی شرکت کی، اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ تک قرض آسان شرائط پر دستیاب ہوگا،اس اسکیم کا اطلاق چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں ہوگا،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسکیم کا باقاعدہ اجرا کیا اور اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھر سے محروم ہے، لوگوں کو چھت کی فراہمی مقدس فریضہ ہے، گھر کے لیے قرض حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دیتا ہوں، عام آدمی کو چھت کی فراہمی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، یہ اسکیم چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے بھی ہے،
    اپنا گھر سکیم ریاست کا مقدس فریضہ ہے۔،پاکستان میں آج بھی لاکھوں لوگ اپنی چھت سے محروم ہیں، کئی کے لیے نیلا آسمان ہی چھت اور زمین ہی فرش ہے۔ یہ منصوبہ بے پناہ محنت، مشاورت اور عزم سے ممکن ہوا، جس میں اسحاق ڈار، وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک و دیگر کا اہم کردار رہا،اسکیم کے تحت پہلا ہدف 50 ہزار گھروں کے لیے قرض ہے، اس اسکیم کے لیے 321 ارب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے، آئندہ 4 برس میں ہمارا ہدف 5 لاکھ گھروں کا ہے، اس اسکیم کا حجم 3.2 کھرب روپے کا ہے، 10 مرلے کی زمین تک گھر بنایا جا سکے گا،اس قرضے کی مدت 20 سال ہے، مارک اپ 5 فیصد ہوگا اور ایک کروڑ روپے تک قرضہ دیا جائے گا، میں اس اسکیم کا ہر مہینے خود جائزہ لوں گا، جو بینکس اس اسکیم میں لیڈ لیں گے وہ ہمارے سروں کے تاج ہوں گے، ان بینکوں کو ہم 14 اگست کو ایوارڈ دیں گے، اس سے انڈسٹری اور کامرس چلے گی اور ملک میں خوشحالی کے دروازے کھلیں گے

  • نارمل پاسپورٹ اب 21 دن کی بجائے 14 دن میں ملے گا، محسن نقوی

    نارمل پاسپورٹ اب 21 دن کی بجائے 14 دن میں ملے گا، محسن نقوی

    وفاقی حکومت نے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نارمل پاسپورٹ کے اجرا کی مدت میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے تحت اب پاسپورٹ 21 دن کے بجائے 14 دن میں تیار ہوگا۔

    یہ اہم فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پاسپورٹ کے اجرا کے نظام کو جدید اور شفاف بنانے سے متعلق متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی،وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ نارمل پاسپورٹ کے حصول کا دورانیہ کم کر کے 14 دن کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو بروقت سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس نظام رائج کیا جائے، جس کے لیے متعلقہ حکام کو 15 روز کا ٹاسک دے دیا گیا ہے،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاسپورٹ کی گھروں تک فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ نے بزنس پاسپورٹ کے اجرا کے نئے نظام کو جلد حتمی شکل دینے کی بھی ہدایت کی،محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کیش لیس ادائیگی کے نظام سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ ایجنٹ مافیا کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا، جو شہریوں سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں

  • میلانیا ٹرمپ کو بیوہ کہنے پر جمی کمل مشکل میں پھنس گئے

    میلانیا ٹرمپ کو بیوہ کہنے پر جمی کمل مشکل میں پھنس گئے

    امریکی معروف کامیڈین جمی کمل کو اپنے ہی مذاق کی بھاری قیمت چکانا پڑ گئی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ سے متعلق ایک طنزیہ جملہ کہا، جس میں انہیں “متوقع بیوہ” قرار دیا گیا۔

    اس بیان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ شدید برہم ہوگئے۔ معاملہ اس قدر بڑھا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمی کمل کو برطرف کرنے کا مطالبہ سامنے آیا، جبکہ معروف میڈیا کمپنی ڈزنی کے ٹی وی لائسنس بھی خطرے میں پڑ گئے۔رپورٹس کے مطابق ایف سی سی نے ڈزنی کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا ہے، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔تاہم جمی کمل نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان محض صدر اور ان کی اہلیہ کے درمیان 23 سالہ عمر کے فرق پر ایک ہلکا پھلکا طنز تھا، جسے غلط انداز میں لیا گیا۔

    دوسری جانب ہالی ووڈ اداکارجارج کلونی بھی جمی کمل کے دفاع میں سامنے آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمی ایک کامیڈین ہے اور اس کے مزاح کو اس طرح سیاسی رنگ دینا خطرناک رجحان ہے۔ادھر ڈزنی نے بھی ایف سی سی کو قانونی جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ اس معاملے نے امریکہ میں آزادیٔ اظہار اور میڈیا کی حدود پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • سابق انٹرنیشنل کرکٹر نوید لطیف کے بیٹے پر تشدد،مقدمہ درج

    سابق انٹرنیشنل کرکٹر نوید لطیف کے بیٹے پر تشدد،مقدمہ درج

    سرگودھا میں سابق انٹرنیشنل کرکٹر نوید لطیف کے بیٹے کو 5 افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے، واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان نوید لطیف کے بیٹے کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے،نوید لطیف نے پولیس کو بیان دیا کہ 2 ملزمان موسیٰ خان اور رانا مسکن ان کے بیٹے کو تنگ کرتے تھے،پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے جبکہ ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا،پولیس کے مطابق واقعہ 26 اپریل 2026 کی شام تقریباً 5:30 بجے چک نمبر 49 شمالی کے قریب پیش آیا، جہاں متاثرہ نوجوان محمد روبان سودا سلف لینے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ اسی دوران راستے میں موجود ملزمان نے اس کا راستہ روک لیا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

    ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق مرکزی ملزم موسیٰ خان، جو پہلے متاثرہ خاندان کے ہمسایہ رہ چکا ہے، نے نوجوان کو مکے مارے جس سے اس کا جبڑا متاثر ہوا۔ جبکہ دوسرے ملزم نے لوہے کی کسی چیز سے وار کر کے اس کے چہرے کو زخمی کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے نوجوان کو زمین پر گرانے کے بعد بھی تشدد جاری رکھا۔واقعے کے دوران راہگیروں آفتاب احمد اور بلال نے زخمی نوجوان کو دیکھا اور مداخلت کر کے اسے ملزمان سے چھڑوایا۔متاثرہ کے والد نوید لطیف کے مطابق ملزم موسیٰ خان سے پرانی رنجش چلی آ رہی تھی، اور اس سے قبل بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کی شکایت ملزم کے والد کو کی گئی تھی۔زخمی نوجوان کو فوری طور پر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا میڈیکل کیا گیا جبکہ رپورٹ کا انتظار ہے۔پولیس نے مقدمہ نمبر 1328/26 درج کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 149 اور 341 کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جبکہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔