Baaghi TV

Blog

  • ہنٹر بائیڈن کے شاہانہ طرزِ زندگی پر بچوں کے اخراجات کے کیس میں بڑا مالی دباؤ

    ہنٹر بائیڈن کے شاہانہ طرزِ زندگی پر بچوں کے اخراجات کے کیس میں بڑا مالی دباؤ

    امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن ایک نئے عدالتی تنازع میں گھِر گئے ہیں، جہاں ان پر اپنی بیٹی کی ماں کو دی جانے والی بچوں کی مالی امداد (چائلڈ سپورٹ) میں اضافہ کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    آرکنساس کی ایک جج نے جمعرات کے روز ہنٹر بائیڈن کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس ریکارڈز اور دیگر مالی دستاویزات عدالت میں پیش کریں اور حلف کے تحت وکلا کے سوالات کے جوابات بھی دیں۔ یہ کارروائی ان کی سابقہ پارٹنر لنڈن رابرٹس کی درخواست پر ہو رہی ہے، جن سے ان کی 7 سالہ بیٹی نیوی جون رابرٹس ہے۔لنڈن رابرٹس کا مؤقف ہے کہ ہنٹر بائیڈن کی مالی حالت اور طرزِ زندگی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو چکی ہے، اس لیے موجودہ 5 ہزار ڈالر ماہانہ چائلڈ سپورٹ ناکافی ہے۔رابرٹس کے وکیل کے مطابق ہنٹر بائیڈن کی زندگی میں اب مہنگے اور اعلیٰ درجے کے ریسٹورنٹس میں کھانے،سمندر کے نظارے والے پہاڑی علاقے میں رہائش،اور سفر و دیگر پرتعیش سرگرمیاں شامل ہیں،ان عوامل کو بنیاد بنا کر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں زیادہ مالی مدد دینی چاہیے۔

    ہنٹر بائیڈن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ان کے موکل پہلے ہی معاہدے کے مطابق رقم ادا کر رہے ہیں اور ان کی رہائش بھی پہلے جیسی ہی ہے، جو صرف ایک کرائے کا گھر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف باہر کھانا کھانا یا سماجی سرگرمیاں بچوں کی سپورٹ بڑھانے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتیں۔عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ رابرٹس کی قانونی ٹیم ہنٹر بائیڈن کے مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لے سکتی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ان کی آمدنی میں واقعی اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔اسی کیس کے دوران جج نے ہنٹر بائیڈن کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد کر دی، جو ان کی پینٹنگز سے متعلق ایک الگ تنازع پر مبنی تھی۔

    ہنٹر بائیڈن پہلے بھی قانونی مسائل کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں ٹیکس اور اسلحہ سے متعلق مقدمات شامل رہے ہیں، تاہم بعد میں انہیں صدارتی معافی مل گئی تھی۔یہ کیس اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ہنٹر بائیڈن کی آمدنی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ان کی سابقہ چائلڈ سپورٹ ادائیگیوں میں اضافے کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ عدالت آئندہ سماعتوں میں ان کے مالی ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

  • آکسیٹوسن: “محبت کا ہارمون” جو ذہنی سکون اور جسمانی صحت دونوں کو بہتر بناتا ہے

    آکسیٹوسن: “محبت کا ہارمون” جو ذہنی سکون اور جسمانی صحت دونوں کو بہتر بناتا ہے

    ماہرینِ صحت کے مطابق انسانی جسم میں موجود ایک اہم ہارمون آکسیٹوسن (Oxytocin) نہ صرف جذباتی وابستگی اور محبت کے احساس کو بڑھاتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرنے، سکون پیدا کرنے اور مجموعی جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے اکثر “محبت کا ہارمون” بھی کہا جاتا ہے۔

    تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جب انسان محفوظ، پرسکون اور جُڑا ہوا محسوس کرتا ہے تو جسم میں آکسیٹوسن کی سطح بڑھ جاتی ہے، جس سے دل کی دھڑکن معمول پر آتی ہے، ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے اور جسم میں مثبت توانائی پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی میں کچھ آسان طریقے اپنا کر اس ہارمون کے اخراج کو قدرتی طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ماہرین ایک ایسی سادہ لیکن مؤثر خود نگہداشت مشق تجویز کرتے ہیں جو جسم اور ذہن دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

    سب سے پہلے ایک پرسکون اور آرام دہ جگہ منتخب کریں جہاں آپ خود کو مکمل طور پر ریلیکس محسوس کریں۔ اس جگہ پر بیٹھیں یا لیٹ جائیں اور ذہن کو پرسکون کرنے کی کوشش کریں۔ اس مشق کا مقصد خود کو ذہنی طور پر محفوظ اور آرام دہ محسوس کرانا ہے۔اپنی دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں آہستہ آہستہ رگڑیں تاکہ وہ گرم ہو جائیں۔ ماہرین کے مطابق گرم لمس جسم میں آکسیٹوسن کے اخراج کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جس سے سکون اور اطمینان کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اب 5 سے 10 منٹ تک اپنے جسم کے مختلف حصوں کا ہلکے اور آہستہ انداز میں مساج کریں۔ اپنے کندھوں،سر ،گردن،پاؤں،اور خاص طور پر گردن کے اس حصے کا مساج کریں جہاں کھوپڑی اور گردن ملتی ہیں، جسے وَیگس نرو کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اعصابی نظام سے جڑا ہوا ایک اہم حصہ ہے جو جسم کے آرام اور تناؤ میں کمی میں کردار ادا کرتا ہے۔مساج کرتے وقت ہر حرکت کو آہستہ، نرم اور شعوری رکھیں۔ اس دوران اپنی سانسوں پر توجہ دینا بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کی سادہ خود مساج مشقیں نہ صرف آکسیٹوسن کی سطح بڑھاتی ہیں بلکہ یہ اضطراب ، ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ روزانہ چند منٹ خود کے لیے نکالنا ذہنی توازن اور جذباتی صحت کو بہتر بنانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔آج کے تیز رفتار اور دباؤ والے دور میں ایسی قدرتی مشقیں انسان کو اپنے جسم اور ذہن کے ساتھ دوبارہ جوڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ آکسیٹوسن جیسے ہارمون کو فعال کر کے ہم نہ صرف بہتر محسوس کر سکتے ہیں بلکہ ایک زیادہ پرسکون اور صحت مند زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔

  • گرین ٹاؤن، ہاؤس رابری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ماسٹر مائنڈ نکلی

    گرین ٹاؤن، ہاؤس رابری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ماسٹر مائنڈ نکلی

    لاہور، گرین ٹاؤن کے علاقہ میں ہاؤس رابری کی واردات میں قریبی رشتہ دار ہی ماسٹر مائنڈ نکلی۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس نے 15 پر موصول ہاؤس رابری کال پر فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کیا۔ دورانِ تفتیش متاثرہ خاتون کے قریبی رشتہ دار کا رویہ مشکوک پایا گیا۔ دورانِ انکوائری متاثرہ خاتون کی نند انعم شہزادی واردات کی ماسٹر مائنڈ ثابت ہوئی۔ ملزمہ نے اپنے ساتھیوں کو بلا کر خود اپنے بھائی کے گھر رابری کروائی۔ملزمہ کی نشاندہی پر واردات میں ملوث دونوں ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا گیا۔گرفتار ملزمان میں انعم شہزادی، اشرف علی اور قاسم علی شامل ہیں۔ ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 8 گھنٹے کے قلیل وقت میں مقدمہ کو حل کیا گیا۔ ملزمان سے واردات میں لوٹا جانے والا سامان بھی برآمد کیا جا چکااورواردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔ملزمان کو مزید تفتیش اور قانونی کاروائی کیلئے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بروقت کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی۔

  • نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    ایک نئی تحقیق نے یہ بات واضح کی ہے کہ اگر والدین کو لگتا ہے کہ ان کے نوعمر بچے ایک “راز” ہیں تو تازہ ڈیٹا ان کی اندرونی دنیا کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    یہ سروے امریکی ادارے نے 18 ستمبر سے 10 اکتوبر کے درمیان کیا، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 1,391 نوجوانوں سے سوالات کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ لڑکے اور لڑکیاں کئی بنیادی مسائل جیسے اسکول کا دباؤ اور ذہنی صحت کے چیلنجز میں ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں، لیکن ان کی مدد اور سماجی دباؤ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اچھے نمبرز لینے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ دونوں گروہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عام طور پر لڑکیاں بہتر گریڈ حاصل کرتی ہیں اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ حقیقت پہلے سے موجود تعلیمی اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جن میں لڑکیوں کی تعلیمی کارکردگی اوسطاً بہتر دیکھی گئی ہے۔

    تاہم ماہر نفسیات ڈاکٹر اینی ماہیوکس کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ تعلیمی نظام ہر طالب علم کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسکول کا نظام زیادہ تر ایسے بچوں کے لیے موزوں ہوتا ہے جو زیادہ صبر اور کم بے چینی کے ساتھ بیٹھ کر کام کر سکیں، جبکہ لڑکوں میں اس عمر میں دماغی نشوونما مختلف رفتار سے ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ دونوں گروہ ایک اچھی نوکری، بہتر آمدنی اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر لیزا ڈیمور کے مطابق یہ تصور غلط ہے کہ نوجوان صرف سطحی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوعمر نوجوان اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوچ رکھتے ہیں۔سروے کے مطابق صرف 2 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ہے، جو ایک مثبت بات سمجھی جا رہی ہے۔تاہم فرق یہاں بھی موجود ہے 95 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا قریبی دوست موجود ہے جس سے وہ مدد لے سکتی ہیں،جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 85 فیصد تھی،ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کو بچپن سے جذباتی کمزوری ظاہر نہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مشکلات شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ لڑکیوں میں اضطراب اور ڈپریشن زیادہ رپورٹ ہوتا ہے، جبکہ لڑکوں میں نشہ آور اشیاء کا استعمال، لڑائی جھگڑے اور کلاس میں خلل ڈالنے جیسے رویے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکے ذہنی دباؤ کا کم شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیمور کے مطابق جب لڑکیاں دباؤ میں ہوتی ہیں تو وہ اندرونی طور پر ٹوٹنے لگتی ہیں، جبکہ لڑکے اکثر اپنے دباؤ کو غصے یا خطرناک رویے کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکوں کے جارحانہ یا خطرناک رویوں کو صرف “بدتمیزی” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ذہنی دباؤ کی علامت بھی سمجھنا چاہیے۔اسی طرح ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں جذباتی اظہار کو بھی اہمیت دینی چاہیے تاکہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں صحت مند سماجی اور ذہنی نشوونما حاصل کر سکیں۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ نوعمر لڑکے اور لڑکیاں ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے تجربات اور ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر تعلیم، جذباتی رہنمائی اور کھلے ماحول کے ذریعے نوجوانوں کی بہتر مدد کی جا سکتی ہے۔

  • بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کا بہترین طریقہ

    دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ کچھ حلقے اس بات کے حامی ہیں کہ نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی جائے یا اس کی عمر کی حد بڑھا دی جائے، تاہم ایک ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ اصل حل پابندی نہیں بلکہ بچوں کو “تنقیدی سوچ” سکھانا ہے۔

    نیو زی لینڈ کی یونیورسٹی آف آکلینڈ کی سینئر لیکچرر اور نئی کتاب “Teaching Critical Thinking to Teenagers” کی مصنفہ ڈاکٹر ماری ڈیوس کے مطابق اگر بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ سکھایا جائے کہ وہ آن لائن معلومات کو سوال کی نظر سے دیکھیں، تو وہ جھوٹی خبروں، فراڈ اور غلط معلومات سے بہتر طور پر بچ سکتے ہیں۔ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق تنقیدی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی معلومات، خیال یا دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کرے، سوال اٹھائے، اور ثبوت دیکھے۔ اس میں مختلف آرا کو سمجھنا اور یہ جانچنا شامل ہے کہ کون سا مؤقف زیادہ مضبوط ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور اس کے الگورتھمز کی وجہ سے نوجوان بغیر سوچے سمجھے معلومات قبول کرنے کے عادی ہو رہے ہیں، جو انہیں غلط معلومات اور آن لائن دھوکے کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ جب بچے بڑے ہوں گے تو وہ بغیر تیاری کے سوشل میڈیا استعمال کریں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ بچوں میں خود اعتمادی اور سمجھ بوجھ پیدا کی جائے تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کون سی معلومات درست ہے اور کون سی غلط۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ تنقیدی سوچ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ جب انسان کو حالات پر کنٹرول کا احساس ہو تو اس کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔

    ماہر تعلیم کے مطابق والدین بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ والدین بچوں کے ساتھ مل کر خبروں اور معلومات پر بات کریں، مثال کے طور پر یہ کہیں “یہ خبر دلچسپ لگتی ہے، آؤ ہم مل کر اس کے بارے میں مزید تحقیق کریں۔”اسی طرح والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے سوال کریں جیسے “تمہیں یہ بات کہاں سے ملی؟”“اس کے پیچھے کیا ثبوت ہے؟”اس طرح بچوں میں سوال کرنے اور سوچنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق نوجوانوں کو صرف پڑھنے لکھنے کی نہیں بلکہ بات چیت کرنے اور سوال کرنے کی بھی تربیت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بچے اعلیٰ سطح کے سوال کرنا سیکھ جائیں جیسے “اس کی مثال کیا ہے؟”، تو وہ گہرائی میں جا کر سوچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ماہر تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقبل کی نوکریوں میں تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سب سے اہم ہوگی۔ ان کے مطابق اگر نوجوان صرف اے آئی یا ٹیکنالوجی پر انحصار کریں گے تو وہ خود سوچنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں، جو مستقبل میں ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ڈاکٹر ڈیوس یہ بھی بتاتی ہیں کہ 11 سے 12 سال کی عمر بچوں کے دماغ کی نشوونما کا اہم دور ہوتا ہے۔ اس وقت جو مہارتیں سیکھی جاتی ہیں وہ مضبوط ہو جاتی ہیں، جبکہ جن چیزوں کو استعمال نہ کیا جائے وہ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں اور ان کی سنیں۔ اگرچہ نوجوان بعض اوقات دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں پھر بھی اپنے والدین کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم ہو تو وہ مشکل حالات جیسے آن لائن دباؤ یا غلط اثرات کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کے بجائے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت دینا زیادہ مؤثر حل ہے۔ یہی مہارتیں انہیں نہ صرف آن لائن خطرات سے بچاتی ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر اور کامیاب انسان بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

  • نام نہاد جمہوریت ،بھارت میں لاکھوں افراد ووٹ کے حق سے محروم

    نام نہاد جمہوریت ،بھارت میں لاکھوں افراد ووٹ کے حق سے محروم

    دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں ووٹر لسٹوں کی حالیہ بڑی "صفائی” نے ایک سنگین سیاسی اور انسانی بحران کو جنم دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہری اچانک اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو گئے ہیں، اور کئی افراد کو اس کی کوئی واضح وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔

    بھارتی ریاست مغربی بنگال میں حالیہ انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں سے تقریباً 90 لاکھ سے زائد نام حذف کیے گئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تقریباً 24 لاکھ افراد فوت ہو چکے تھے، تاہم باقی لاکھوں افراد کی اہلیت پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔مقامی تنظیم "سبار انسٹیٹیوٹ” کے مطابق تقریباً 67 لاکھ نام ایسے ہیں جن کے بارے میں واضح نہیں کہ انہیں کس بنیاد پر خارج کیا گیا۔مرشدآباد کے 62 سالہ سابق فوجی سادرے عالم بھی ان متاثرین میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے حق میں درجنوں سرکاری دستاویزات پیش کیں جن میں خاندانی زمین کے کاغذات، فوجی خدمات کا ریکارڈ اور پرانے انتخابی اندراجات شامل تھے، مگر ان کی اپیل مسترد کر دی گئی۔سادرے عالم کا کہنا تھا “مجھے بتایا گیا کہ میرے ریکارڈ میں 15 سال کے عمر کے فرق کی ‘منطقی غلطی’ ہے۔ کیا میں اپنی ماں کا بیٹا نہیں ہوں؟ یہ کیسا سوال ہے؟”

    اسی طرح 88 سالہ سُبرابھدرا سین، جن کا خاندان بھارت کے آئین کی تشکیل سے جڑا ہوا ہے، اور ان کی اہلیہ دیپا سین بھی ووٹر لسٹ سے بغیر وضاحت کے خارج کر دی گئیں۔ ان کے مطابق انہوں نے تعلیمی اسناد، پنشن دستاویزات اور پرانا پاسپورٹ بھی جمع کرایا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال میں حذف کیے گئے ناموں میں تقریباً 34 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ ریاست کی آبادی میں ان کا تناسب 27 فیصد ہے۔مقامی سماجی کارکنوں کا الزام ہے کہ یہ کارروائی خاص طور پر مسلم ووٹروں کو متاثر کر رہی ہے۔ ایک شہری نے کہا “ہمیں نہیں بتایا جاتا کہ ہمیں کیوں نکالا گیا۔ لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”

    بھارتی الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹ کی یہ صفائی جعلی اندراجات، وفات پانے والے افراد اور غلطیوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ انتخابی نظام کی شفافیت برقرار رہے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اثر میں آ کر کام کر رہا ہے اور یہ اقدام سیاسی فائدے کے لیے کیا جا رہا ہے۔بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کر رہی، تاہم وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ “غیر قانونی تارکین وطن کو انتخابی عمل میں فیصلہ سازی کا حق نہیں ہونا چاہیے”۔

    مغربی بنگال کے سرحدی علاقوں میں اس کارروائی نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ بعض شہریوں کو خدشہ ہے کہ ووٹ کے حق سے محرومی کے بعد ان کی شہریت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔مرشدآباد کی رہائشی نورفا بی بی نے کہا “ہمیں ڈر ہے کہ کل ہماری شہریت بھی چھین لی جائے گی۔ کیا وہ ہمیں واپس دیں گے یا ہم آہستہ آہستہ ختم کر دیے جائیں گے؟”بھارت کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے نکالے گئے افراد کو اپیل کا حق حاصل ہے، تاہم انتخابی شیڈول کو نہیں روکا جائے گا۔کئی افراد کی اپیلوں کے بعد کچھ شہریوں کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں، لیکن لاکھوں افراد اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

  • سابق گلوکار کو جنسی جرائم پر 14 سال قید کی سزا

    سابق گلوکار کو جنسی جرائم پر 14 سال قید کی سزا

    لندن کی ایک عدالت نے برطانوی بینڈ سپنڈاؤ بیلے کے سابق فرنٹ مین اور اسٹیج اداکار راس ڈیوڈسن کو متعدد سنگین جنسی جرائم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ملزم نے 2013 سے 2019 کے درمیان چھ مختلف خواتین کے خلاف ریپ، جنسی زیادتی، اقدامِ زیادتی اور خفیہ طور پر ویڈیوز بنانے جیسے جرائم کیے۔

    38 سالہ راس ڈیوڈسن، جو اسٹیج نام “روز ویلڈ” سے بھی پہچانا جاتا ہے، ایک وقت میں مشہور راک میوزیکل وی ول راک یو میں بھی اداکاری کر چکا تھا اور بعد ازاں مختصر عرصے کے لیے اسپینڈو بیلے کے مرکزی گلوکار کے طور پر بھی سامنے آیا۔عدالت میں ہونے والے دو علیحدہ ٹرائلز میں جیوری نے ملزم کو دو ریپ، ایک اقدامِ ریپ، تین جنسی زیادتیوں اور دو بار خفیہ نگرانی کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔پراسیکیوشن کے مطابق راس ڈیوڈسن نے بعض واقعات کی ویڈیوز خود بنائیں، جن میں متاثرہ خواتین “انتہائی بے ہوشی یا گہری نیند” کی حالت میں تھیں اور انہیں کسی قسم کا احساس نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ ویڈیوز بعد میں پولیس تفتیش کے دوران سامنے آئیں۔

    پراسیکیوٹر رچرڈ ہرنڈن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک ایسا شخص تھا جو خود کو “حق دار” سمجھتا تھا اور اگر اسے اپنی مرضی نہ ملتی تو وہ جنسی تشدد اور زیادتی پر اتر آتا تھا۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ راس ڈیوڈسن کو عوام میں ایک “دلکش اور کامیاب شخصیت” کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر شہرت ملنے کے بعد وہ خواتین کے ساتھ “انتہائی قابلِ مذمت رویہ” اختیار کرتا رہا۔سماعت کے دوران متاثرہ خواتین بھی عدالت میں موجود تھیں، جن کی ذہنی و جذباتی حالت کے بارے میں تفصیلی بیانات پڑھے گئے۔

    ایک متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا “اس زیادتی کے بعد میری زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ میں اب پہلے جیسا اعتماد محسوس نہیں کرتی۔ روزمرہ حالات بھی خوفناک لگتے ہیں اور میں مسلسل ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہوں۔”ایک اور خاتون نے بتایا کہ وہ اب ڈپریشن کی ادویات پر ہیں اور پہلے کی نسبت بہت زیادہ تنہائی پسند اور محتاط ہو گئی ہیں۔

    ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ راس ڈیوڈسن کو طویل عرصے تک “شدید ADHD” کی تشخیص نہیں ہوئی تھی، اور وہ نشہ آور اشیاء اور الکحل کے ذریعے ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی کوشش کرتا رہا۔ وکیل کے مطابق اب اسے اپنے جرائم پر “حقیقی ندامت” ہے اور وہ علاج بھی کر رہا ہے۔عدالت نے تمام شواہد اور گواہیوں کو دیکھتے ہوئے راس ڈیوڈسن کو مجموعی طور پر 14 سال قید کی سزا سنائی۔ پراسیکیوشن نے متاثرہ خواتین کی “بہادری” کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون کے بغیر یہ مقدمہ ثابت کرنا ممکن نہ ہوتا۔

  • لندن: ناکام پناہ گزین اسرائیلی سفارتخانے پر چاقو حملے کی کوشش کا مجرم قرار

    لندن: ناکام پناہ گزین اسرائیلی سفارتخانے پر چاقو حملے کی کوشش کا مجرم قرار

    لندن کی ایک عدالت نے ایک ناکام پناہ گزین کو اسرائیلی سفارتخانے میں داخل ہو کر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کے الزام میں مجرم قرار دے دیا ہے۔

    34 سالہ کویت میں پیدا ہونے والے شخص عبداللہ البدری کو گزشتہ سال مئی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مغربی لندن کے علاقے کینسنگٹن میں واقع اسرائیلی سفارتخانے کی باڑ پھلانگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے پاس تقریباً 10 سینٹی میٹر لمبے دو چاقو موجود تھے۔جیوری کو بتایا گیا کہ ملزم سفارتخانے میں داخل ہو کر غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ واقعے کے بعد اسے مسلح پولیس نے فوری طور پر قابو میں کر لیا۔عدالت نے جمعہ کے روز تقریباً 14 گھنٹے کی غور و خوض کے بعد اسے دہشت گردی کی تیاری اور خطرناک ہتھیار رکھنے کا مجرم قرار دیا۔

    رپورٹس کے مطابق ملزم 2021 اور اپریل 2025 میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ داخل ہوا تھا اور اس کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی۔ وہ خود کو کویت میں انسانی حقوق کی سرگرمیوں پر مظالم کا شکار قرار دیتا رہا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ وہ کالے چشمے اور سرخ و سفید رومال میں تقریباً ایک گھنٹہ پیدل چل کر سفارتخانے تک پہنچا۔ بعد ازاں اس نے باڑ پر چڑھنے کی کوشش کی جہاں ڈپلومیٹک پروٹیکشن کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے نیچے گرا لیا۔پولیس کے مطابق اس کے قبضے سے دو چاقو اور ایک مبینہ "وصیت نامہ” بھی برآمد ہوا۔ گرفتار ہونے کے بعد اس نے کہا کہ یہ "صرف ایک پیغام” تھا اور غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاج تھا۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنی شناخت چھپائی اور سیاسی مقصد کے لیے تشدد کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار تھا۔

  • ایرانی نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کی حالت تشویشناک، اسپتال منتقل

    ایرانی نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کی حالت تشویشناک، اسپتال منتقل

    ایران کی جیل میں قید نوبل امن انعام یافتہ انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نرگس محمدی کو صحت میں “تباہ کن بگاڑ” کے بعد شمال مغربی ایران کے ایک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    نرگس محمدی کے فاؤنڈیشن کے مطابق انہیں حال ہی میں دو مرتبہ مکمل بے ہوشی اور شدید دل کے دورے جیسے بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کی حالت انتہائی نازک ہو گئی۔اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کی یہ وکیل اس وقت سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ انہیں دسمبر میں مشرقی ایرانی شہر مشہد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ 13 سالہ سزا کے دوران 2023 میں نوبل امن انعام حاصل کر چکی ہیں، اور بعد میں طبی وجوہات کی بنا پر 2024 کے آخر میں عارضی طور پر رہا کیا گیا تھا۔ان کے وکلاء کے مطابق مارچ کے آخر میں جیل کے اندر انہیں بے ہوش پایا گیا، اور شبہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ بعد ازاں ملاقات میں ان کی حالت کمزور، چہرہ زرد اور وزن میں کمی دیکھی گئی جبکہ چلنے کے لیے بھی انہیں مدد درکار تھی۔

    ان کے اہل خانہ کئی ہفتوں سے ایرانی حکام سے مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں، تاہم اب اسپتال منتقل کرنا “آخری لمحے کی کوشش” قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ ان کی جان بچانے کے لیے بھی تاخیر سے ہو سکتا ہے۔

  • ایران مسئلہ دوبارہ پیدا ہونے کا خطرہ مول نہیں لیں گے،ٹرمپ

    ایران مسئلہ دوبارہ پیدا ہونے کا خطرہ مول نہیں لیں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کی ایک بڑی ریٹائرمنٹ کمیونٹی میں خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ تصادم سے جلدی پیچھے نہیں ہٹے گا، کیونکہ ایسا کرنے سے “چند سال بعد وہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے”۔

    اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے امریکی معیشت اور اپنی انتظامیہ کی جانب سے بزرگ شہریوں کے لیے اقدامات پر بات کی، تاہم وہ حسبِ معمول موضوع سے ہٹ کر ایران کی صورتحال پر بھی گفتگو کرنے لگے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کسی ایسے فیصلے کا خطرہ نہیں لے گا جس سے مستقبل میں دوبارہ بحران جنم لے۔

    ادھر امریکہ میں سیاسی صورتحال بھی کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ ہفتے میں اوسط پٹرول کی قیمتیں گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح بھی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔دوسری جانب اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری سرگرمیوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس صورتحال نے ایران کو مالی طور پر بھی نقصان پہنچایا ہے، اور بعض اندازوں کے مطابق اسے اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

    خطاب میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ یہ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے باہر پہلی عوامی مصروفیت تھی، جو گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر ہونے والے ایک ناکام حملے کے بعد ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ایک مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد صدر اور دیگر حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانا بتایا گیا۔