ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہان کے اجلاس کے دوران رکن ممالک کے رہنماؤں نے روایتی "فیملی فوٹو” میں شرکت کی۔ یہ لمحہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک کے دفاعی اخراجات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔
اجلاس کے آغاز سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک کو اجتماعی دفاع کے لیے طے شدہ اہداف کے مطابق دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا طویل عرصے سے اتحاد کے دفاعی اخراجات کا بڑا حصہ برداشت کر رہا ہے، اس لیے دیگر ممالک کو بھی اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔
اس کے بعد نیٹو کے سربراہان نے اجلاس کی روایت کے مطابق مشترکہ گروپ فوٹو بنوایا، جس میں تمام رکن ممالک کے قائدین شریک ہوئے۔ یہ تصویر اتحاد کے باہمی تعاون اور یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے، تاہم دفاعی اخراجات پر جاری اختلافات نے اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یورپی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین جنگ، مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور رکن ممالک کے درمیان عسکری تعاون سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ دفاعی بجٹ میں اضافے کا معاملہ بھی اجلاس کے مرکزی ایجنڈے میں شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ایک مرتبہ پھر نیٹو کے اندر دفاعی اخراجات کی تقسیم پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ امریکا مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ تمام اتحادی ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا متفقہ حصہ دفاع پر خرچ کریں تاکہ اتحاد کی اجتماعی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہو سکے۔
نیٹو اجلاس سے متعلق آئندہ ہونے والے فیصلوں اور مشترکہ اعلامیے پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ ان فیصلوں کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر اہم اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
Blog
-

انقرہ میں نیٹو سربراہان کا گروپ فوٹو
-

ٹرمپ کا ایران کو معاہدے کے بغیر غیر جوہری بنانے کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنے کے اپنے ہدف پر قائم ہے، چاہے اس مقصد کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا اپنے مقاصد کسی معاہدے کے بغیر بھی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں یوکرین کے صدر کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کی "غیر جوہری حیثیت” کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رویے سے مایوس ہیں اور ان کے بقول بند کمرے میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ایرانی وفد نے درست معلومات فراہم نہیں کیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ کوئی معاہدہ ہوگا یا نہیں، ممکن ہے ہم یہ مقصد کسی معاہدے کے بغیر ہی حاصل کر لیں، کیونکہ شاید ایسا کرنا زیادہ آسان ہو۔” تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکا کن اقدامات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔
امریکی صدر نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی حکام کے موجودہ طرزِ عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا رویہ تشویش کا باعث ہے، تاہم امریکا کی خواہش ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ٹرمپ کے ان بیانات نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات تعطل کا شکار رہے تو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اختلافات کے باوجود سفارتی ذرائع سے مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے گا۔ -

48 سالہ امیدوار کا جذبہ قابلِ مثال، وزیر تعلیم نے گلے لگا کر حوصلہ بڑھایا
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے فرسٹ ایئر کے سالانہ امتحان میں شریک 48 سالہ امیدوار سے ملاقات کر کے اس کے عزم اور تعلیم سے وابستگی کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے امیدوار کو گلے لگایا، اس کی حوصلہ افزائی کی اور امتحان میں کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس خوبصورت لمحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین اسے تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیغام قرار دے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے بورڈ امتحانات کے شفاف اور منظم انعقاد کا جائزہ لینے کے لیے گورنمنٹ ہائی اسکول مصطفیٰ آباد کا اچانک دورہ کیا۔ مختلف امتحانی کمروں کا معائنہ کرتے ہوئے ان کی نظر ایک ایسے امیدوار پر پڑی جو 48 سال کی عمر میں فرسٹ ایئر کا امتحان دے رہا تھا۔
وزیرِ تعلیم نے امیدوار سے بات چیت کی اور اس سے اس کی تعلیمی جدوجہد کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر کبھی بھی علم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتی اور جو لوگ مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں، وہ معاشرے کے لیے قابلِ تقلید مثال ہوتے ہیں۔ انہوں نے امیدوار کو گلے لگا کر اس کے حوصلے، عزم اور لگن کو سراہا۔
اس موقع پر امتحانی مرکز میں موجود طلبہ، اساتذہ اور امتحانی عملے نے اس منظر کو تالیاں بجا کر سراہا۔ کئی طلبہ نے اس واقعے کو اپنے لیے بھی حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جذبہ اور محنت سب سے اہم چیز ہے، عمر نہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس ملاقات کی ویڈیو کو بڑی تعداد میں شیئر کیا جا رہا ہے۔ صارفین نے 48 سالہ امیدوار کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا سفر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں جاری رکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے افراد نے وزیرِ تعلیم کے رویے کو بھی سراہا اور اسے مثبت طرزِ قیادت کی مثال قرار دیا۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات معاشرے میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں اور ان افراد کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں جو کسی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہوں۔ ان کے مطابق سیکھنے کا عمل عمر کی قید سے آزاد ہے اور ہر شخص کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا حق اور موقع ملنا چاہیے۔ -

چین کا اینتھروپک کے ’کلاڈ کوڈ‘ سے متعلق سکیورٹی انتباہ، صارفین کو محتاط رہنے کی ہدایت
چین کے نیشنل وَلنرایبلٹی ڈیٹا بیس (این وی ڈی بی) نے امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک کے اے آئی کوڈنگ ٹول کلاڈ کوڈ کے حوالے سے سکیورٹی انتباہ جاری کرتے ہوئے صارفین اور اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ چینی ریگولیٹر کا دعویٰ ہے کہ اس ٹول میں مبینہ طور پر ایسا سکیورٹی بیک ڈور موجود ہو سکتا ہے جو صارفین کی حساس معلومات کو ان کی اجازت کے بغیر بیرونی سرورز تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
این وی ڈی بی، جو چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ادارہ ہے، کے مطابق ابتدائی تجزیے میں ایسے ممکنہ سکیورٹی خدشات سامنے آئے ہیں جن کے باعث صارفین کی لوکیشن، شناخت اور دیگر حساس معلومات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ادارے نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
کلاڈ کوڈ ایک جدید اے آئی کوڈنگ ایجنٹ ہے جو صارف کی ہدایات کے مطابق کمپیوٹر پروگرامنگ، کوڈ لکھنے، سافٹ ویئر میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح، جبکہ کوڈ ریویو جیسے کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹول دنیا بھر میں سافٹ ویئر ڈویلپرز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اینتھروپک نے چین اور بعض دیگر ممالک میں اپنی مصنوعات تک براہ راست رسائی محدود کر رکھی ہے، تاہم وی پی این اور تھرڈ پارٹی پراکسی سروسز کے ذریعے کئی صارفین اب بھی ان ٹولز تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی تناظر میں چینی ریگولیٹر نے صارفین کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
این وی ڈی بی نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ ادارے اور انفرادی صارفین فوری طور پر اپنے سسٹمز کا جائزہ لیں اور اگر ضرورت محسوس ہو تو سافٹ ویئر کو اَن انسٹال کر دیں یا اس کا تازہ ترین اور محفوظ ورژن استعمال کریں، جس میں ممکنہ سکیورٹی خامیوں کو دور کیا گیا ہو۔
دوسری جانب چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے ملازمین کو 10 جولائی سے کلاڈ کوڈ کے استعمال سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ -

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ ہوم ڈیلیوری سروس مزید بہتر بنانے کا فیصلہ
پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹس کی ہوم ڈیلیوری سروس کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو پاسپورٹ کے حصول کا عمل آسان بنانا اور انہیں بہتر سرکاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
یہ فیصلہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاسپورٹس کی بروقت فراہمی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے اور درخواست گزاروں تک پاسپورٹ محفوظ اور بروقت پہنچانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہوم ڈیلیوری کے طریقہ کار کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانیوں کو اپنے پاسپورٹ کے حصول کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نئے نظام کے تحت پاسپورٹ براہِ راست درخواست گزار کے گھر تک پہنچانے کے عمل کو مزید منظم، محفوظ اور تیز بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ پاسپورٹ کی فراہمی کے پورے عمل میں شفافیت اور سہولت بھی بڑھے گی۔ اس کے علاوہ جدید ٹریکنگ سسٹم اور بہتر کوآرڈینیشن کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ پاسپورٹس مقررہ وقت کے اندر متعلقہ افراد تک پہنچ جائیں۔
اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔ حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی ترقی کا اہم حصہ سمجھتی ہے، اسی لیے ان کے لیے سرکاری خدمات میں مسلسل بہتری لانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ہوم ڈیلیوری سروس میں بہتری سے دنیا بھر میں مقیم لاکھوں پاکستانی مستفید ہوں گے اور انہیں پاسپورٹ کے حصول کے لیے سفارت خانوں یا پاسپورٹ مراکز کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنے کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ -

ٹرمپ نے اسپین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا حکم دے دیا
ایران کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کو فوری اقدامات کی ہدایت دے دی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں تعاون سے انکار کیا اور اپنی فضائی حدود اور فوجی تنصیبات کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر خزانہ کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اسپین کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کر دی جائے۔ انہوں نے اسپین کو نیٹو کا "غیر مؤثر شراکت دار” قرار دیتے ہوئے اس کے مؤقف پر سخت تنقید بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوران اپنی فضائی حدود اور اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ اسی معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب اسپین نے امریکی اعلان کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے اسے معمول کی سیاسی بیان بازی قرار دیا ہے۔ ہسپانوی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے اقتصادی اور ثقافتی تعلقات مضبوط ہیں اور وہ دوطرفہ روابط برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ میڈرڈ کا واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ختم کرنے یا کمزور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین یورپی یونین کا رکن ہے اور یورپی یونین کی مشترکہ تجارتی پالیسی کے باعث صرف ایک رکن ملک کے ساتھ تجارت مکمل طور پر ختم کرنا قانونی اور عملی طور پر پیچیدہ معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ٹرمپ کے اعلان پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کئی قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ -

خیبرپختونخوا اسمبلی نے ارکان کی مراعات میں بڑا اضافہ، ترمیمی بل منظور
خیبرپختونخوا اسمبلی نے اراکین اسمبلی کی مراعات، اختیارات اور استحقاق میں نمایاں اضافے سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا ہے، جس کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ نئے قانون کے تحت اراکین اسمبلی کو عدالتی، سفری اور سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں نئی سہولیات اور اختیارات حاصل ہوں گے۔
قانون کے مطابق اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی عدالتی مقدمہ زیر سماعت ہو اور اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو عدالت، اسمبلی کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں متعلقہ رکن اسمبلی کو عدالت میں حاضری سے استثنا حاصل ہوگا، تاہم اگر وہ چاہے تو رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی میں شریک ہو سکتا ہے۔
ترمیمی قانون کے تحت اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو بھی مزید اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ نئے ضوابط کے مطابق اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو اور عدالت میں چالان پیش ہونے سے قبل معاملہ سامنے آئے تو اسپیکر کو ابتدائی انکوائری کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔
بل کے تحت تمام اراکین اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو سرکاری بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں تمام قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس کی مکمل چھوٹ بھی دی گئی ہے، جس سے ارکان کو سفری سہولیات میں نمایاں ریلیف ملے گا۔
نئے قانون میں سیکیورٹی سے متعلق بھی خصوصی شق شامل کی گئی ہے۔ اگر کسی رکن اسمبلی کو جان کا خطرہ لاحق ہو تو حکومت اس کو فوری طور پر اے کیٹیگری سیکیورٹی فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ یہ سیکیورٹی نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی مؤثر ہوگی۔
مزید برآں، اراکین اسمبلی کو اپنے حلقے یا متعلقہ ضلع میں کسی بھی عوامی مقام پر اجلاس طلب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ ایسے اجلاس کی اطلاع ملنے پر متعلقہ ضلع کے تمام سرکاری افسران کی شرکت لازمی ہوگی، جبکہ بلاجواز غیر حاضری کو استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس پر قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ترمیمی بل مارچ میں اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، اسی اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی مراعات سے متعلق ایک اور بل بھی زیر غور آیا تھا۔ تاہم عام اراکین اسمبلی کو دی جانے والی نئی مراعات اور عدالتی استثنا سے متعلق قانون کو اس وقت زیادہ عوامی توجہ حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ اب گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اس قانون پر مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آنے کا امکان ہے۔ -

جنیوا ڈیجیٹل ویک، پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان ڈیجیٹل تعاون بڑھانے پر اتفاق
جنیوا ڈیجیٹل ویک کے تیسرے روز پاکستان نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل شعبے میں اپنی مؤثر موجودگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمبوڈیا کے ساتھ ڈیجیٹل تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کمبوڈیا کے وزیر برائے پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن چیا وانڈیتھ سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں وزراء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور کمبوڈیا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس موقع پر ڈیجیٹل گورننس، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ای گورنمنٹ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور عوام کو بہتر آن لائن سہولیات فراہم کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے آئی ٹی سیکٹر، نوجوان افرادی قوت اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
کمبوڈیا کے وزیر چیا وانڈیتھ نے بھی پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے سے دونوں ممالک کی ڈیجیٹل معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
جنیوا ڈیجیٹل ویک کے دوران پاکستان کی بھرپور نمائندگی کو عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی وفد کی شرکت اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کو ملک کے آئی ٹی سیکٹر کے لیے اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی ایسے عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی مزید مؤثر بناتے ہوئے بین الاقوامی شراکت داری، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔ -

گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ سولر منصوبہ، وزیراعظم کی شفافیت اور بروقت تکمیل کی ہدایت
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ سولر توانائی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبے پر ہونے والی پیش رفت، آئندہ مراحل اور بروقت تکمیل کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں شمسی توانائی کا فروغ قومی توانائی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد ماحول دوست، صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ کا سولر منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے وہاں کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے، جو علاقے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے لیے تمام ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ منصوبے کی خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور تمام ادائیگیاں صرف تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے بعد ہی کی جائیں تاکہ شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت دسمبر 2026 تک گلگت بلتستان کی 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج سمیت 18 میگاواٹ کے سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 82 میگاواٹ کے یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے ایکنک (ECNEC) کو بھجوا دیا گیا ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 82 میگاواٹ کے اس منصوبے سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، لوڈشیڈنگ میں کمی ہوگی اور عوام کو زیادہ مستحکم اور قابل اعتماد بجلی میسر آئے گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور اسے علاقے کی ترقی اور توانائی کے شعبے میں اہم سنگ میل قرار دیا۔ -

سعودی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال
پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد خطے کی تازہ صورتحال، امن و استحکام اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جانا ضروری ہے۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر آر فور فریم ورک کے تحت پاکستان کے کردار اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کامیاب ثالثی میں پاکستان کی قیادت کو قابل قدر قرار دیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی روابط اور تعمیری بات چیت کے ذریعے امن کے فروغ کا خواہاں ہے۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، معیشت، سفارت کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
ملاقات کو دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات، باہمی اعتماد اور مشترکہ سفارتی وژن کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔