وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل دونوں مہنگے کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر دستیاب تھا۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پہلے ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر تھی۔
حکومت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، جس کے بعد صارفین کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں زیادہ اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
Blog
-

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا
-

واٹس ایپ گروپ ایڈمنز کیلئے سخت وارننگ، شیئرنگ پر قانونی خطرہ
متحدہ عرب امارات میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد، خصوصاً گروپ ایڈمنز کو خبردار کیا گیا ہے کہ گروپس میں شیئر کیا جانے والا مواد ان کے لیے قانونی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر ہونے والی گفتگو کو مکمل طور پر نجی تصور کرنا ایک بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ قانون کے تحت ایسے پیغامات کو باقاعدہ اشاعت سمجھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنا یا شیئر کرنا بھی سائبر کرائم قوانین کے تحت جرم بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ مواد گمراہ کن، توہین آمیز یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہو۔ اس کے علاوہ بغیر اجازت کسی کی ذاتی گفتگو یا اسکرین شاٹس شیئر کرنا بھی سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
قانونی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اکثر صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ گروپس محفوظ ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں حکام ان پیغامات کو بھی قانونی طور پر ذمہ دارانہ اشاعت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سادہ سا فارورڈ بھی کسی فرد کو قانونی گرفت میں لا سکتا ہے۔
اماراتی سائبر کرائم قانون کے تحت نہ صرف وہ شخص ذمہ دار ہو سکتا ہے جو مواد تخلیق کرے بلکہ وہ افراد بھی برابر کے ذمہ دار سمجھے جا سکتے ہیں جو اسے آگے پھیلاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی گروپ ایڈمن غیر قانونی مواد کو جاننے کے باوجود گروپ میں رہنے دیتا ہے تو وہ بھی قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتا ہے۔
قانون کے مطابق ایسے جرائم پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، جو ڈھائی لاکھ درہم سے لے کر پانچ لاکھ درہم یا اس سے زائد تک ہو سکتے ہیں، جبکہ سنگین صورتوں میں قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ -

حزب اللہ کا ڈرون حملہ، اسرائیلی فوج کے 12 اہلکار زخمی
اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی اسرائیل میں شومیرہ کے قریب ایک فوجی پوزیشن پر حزب اللہ کے ڈرون حملے کے نتیجے میں 12 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی جانب سے داغا گیا ڈرون ایک فوجی کارگو گاڑی سے ٹکرا گیا، جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور قریب موجود گولہ بارود پھٹنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ گاڑی M548 ماڈل کی تھی جسے اسرائیلی فوج میں ’الفا‘ کہا جاتا ہے اور یہ توپ خانے کے لیے گولہ بارود کی ترسیل میں استعمال ہوتی ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی اور زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے ڈرونز الیکٹرانک جیمنگ سے محفوظ رہتے ہیں، جس کے باعث انہیں روکنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے علاقوں سے اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اسی نوعیت کے جدید ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ اس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ -

ایران معاہدہ جوہری پروگرام ترک کرنے سے مشروط، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایران کو اس حوالے سے واضح یقین دہانی کرانا ہوگی۔
ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم کسی پیش رفت کے لیے ایران کو اپنے مؤقف میں نرمی لانا ہوگی۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کرنا ایران پر دباؤ بڑھانے کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
دوسری جانب ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ممکنہ تنازع کے خدشات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ -

تھوکے گئے متبرک پانی سے کینسر کا علاج‘: طبی سہولیات کی قلت سے مایوس افغان
افغانستان کے جنوبی شہر قندھار کے مضافات میں ایک شخص کے مبینہ روحانی علاج کے دعوؤں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے، جہاں مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد شفا کی امید لے کر پہنچ رہے ہیں۔ ایک سادہ سے گھر کے باہر روزانہ درجنوں افراد جمع ہوتے ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہوتے ہیں۔
اس گھر کے ایک کمرے میں، جہاں رنگین دیواریں ہیں، بیمار افراد بیٹھے یا لیٹے نظر آتے ہیں۔ یہاں آنے والوں میں سے کچھ شدید بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ کچھ معمولی امراض کے شکار ہوتے ہیں، تاہم سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح صحت یاب ہو جائیں۔
اس جگہ کے مرکز میں موجود ندا محمد قادری خود کو پیر اور معالج قرار دیتے ہیں۔ سفید پگڑی اور لمبی داڑھی کے ساتھ وہ اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ پانی پینے کے بعد اسے مریضوں پر چھڑکتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ عمل خدا کے وسیلے سے بیماریوں کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
قادری کا کہنا ہے کہ ان کے اس طریقہ علاج سے سرطان اور تھیلیسیمیا جیسے سنگین امراض میں مبتلا افراد کو بھی فائدہ پہنچا ہے، جس کے باعث ان کے پاس آنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے گھر کے باہر اکثر لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں لوگ اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں۔
تاہم طبی ماہرین اس طرح کے دعوؤں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے مستند طبی سہولیات اور ڈاکٹرز سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے غیر سائنسی طریقے بعض اوقات مریضوں کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ -

ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی منصوبوں پر بریفنگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آج ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق اہم منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر صدر کو ان منصوبوں سے آگاہ کریں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن آئندہ لائحہ عمل پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف ایک ’مختصر اور طاقتور‘ حملے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید لچک دکھانے پر مجبور کرنا اور اسے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک اور آپشن کے تحت آبنائے ہرمز کے کچھ حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی حکمت عملی زیر غور ہے تاکہ عالمی تجارتی جہازرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس منصوبے میں زمینی افواج کے استعمال کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک ممکنہ منصوبہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اسپیشل فورسز کے ذریعے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کی کارروائی کی جائے۔ ماضی میں بھی اس قسم کی حکمت عملی پر غور کیا جا چکا ہے اور امکان ہے کہ موجودہ بریفنگ میں اسے دوبارہ زیر بحث لایا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام آپشنز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایران کے معاملے پر مختلف راستوں کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم کسی بھی اقدام کے خطے اور عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

سعودی ریال کی قیمت مستحکم، اوپن مارکیٹ میں 75 روپے
پاکستانی روپے کے مقابلے میں سعودی ریال کی قیمت میں معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود استحکام دیکھا گیا ہے۔ 30 اپریل 2026 کو اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت خرید 74.36 روپے جبکہ فروخت 75.00 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ کاروباری دن کے اختتامی ریٹ کے مقابلے میں معمولی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر ریال کی قیمت ایک محدود دائرے میں برقرار ہے۔ اوپن مارکیٹ میں فروخت کی شرح 75 روپے پر برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن موجود ہے۔
دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں بھی سعودی ریال کی قیمت خرید 74.25 روپے جبکہ فروخت 75.35 روپے رہی۔ ماہرین کے مطابق انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں معمولی فرق عام بات ہے، جو بینکنگ اور کرنسی ٹریڈنگ کے طریقہ کار کی وجہ سے ہوتا ہے۔
سعودی ریال، جسے مختصراً ایس اے آر یا ایس آر کہا جاتا ہے، سعودی عرب کی سرکاری کرنسی ہے اور پاکستان میں اس کی طلب خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط معاشی اور سفارتی تعلقات ہیں۔
ہر سال لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور اپنی آمدن کا بڑا حصہ پاکستان منتقل کرتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ اسی وجہ سے ریال کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان میں مالیاتی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ -

زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 750 ملین ڈالر یوروبانڈز موصول
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اسٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں 730 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 15.83 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو 750 ملین ڈالر کے یوروبانڈز بھی موصول ہوئے ہیں، جس سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر اب 21.27 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس تقریباً 5.44 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے خالص ذخائر 15 ارب 83 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور کرنسی کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد ذخائر میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو متوقع ہے، جس میں حتمی منظوری دی جا سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ نہ صرف مالی استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار بہتری کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں توازن ضروری ہے۔ -

وزیراعظم کے ایران، سعودی قیادت سے رابطے، امن کوششوں کی تعریف
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایران اور سعودی عرب کی قیادت سے بات چیت کی ہے، جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر سے بھی گفتگو کی، جس میں عالمی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہا ہے اور تمام فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے مزید بتایا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی روابط نہایت اہم ہیں اور پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کر کے پائیدار امن کی راہ ہموار کی جائے۔ -

ٹرمپ کی سینیٹ پر تنقید، 60 ووٹ شرط ختم کرنے کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینیٹ کے طریقہ کار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام میں ریپبلکنز کو قانون سازی میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے سادہ اکثریت کی بنیاد پر سینیٹ کو ’ریپبلکن سینیٹ‘ قرار دیتے ہوئے ڈیموکریٹ سینیٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس سینیٹ میں فلی بسٹر کے ذریعے ریپبلکن پارٹی کے بلز کو روک رہے ہیں، جس کے باعث اہم قانون سازی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریپبلکن سینیٹ آخر کب تک اس صورتحال کو برداشت کرے گی۔
انہوں نے تجویز دی کہ سینیٹ میں بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹوں کی لازمی شرط ختم کر دی جانی چاہیے، کیونکہ اس شرط کے باعث متعدد اہم بلز، بشمول سیو امریکا ایکٹ، منظور نہیں ہو پا رہے۔ ٹرمپ کے مطابق اگر یہ شرط برقرار رہی تو ریپبلکنز کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد مشکل ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کو موقع ملا تو وہ خود بھی اقتدار میں آ کر اس شرط کو ختم کر دیں گے، اس لیے ریپبلکنز کو بھی اسی حکمت عملی پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں غیر مؤثر نظام کو برقرار رکھنا سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سینیٹ کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی ایک بڑا آئینی اور سیاسی معاملہ ہے، جس پر دونوں جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اگر 60 ووٹوں کی شرط ختم کی جاتی ہے تو اس کے امریکی قانون سازی کے نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔