بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک غیر معمولی واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں ایک شخص کی آخری رسومات اس کی اپنی انوکھی خواہش کے مطابق ادا کی گئیں، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
رپورٹس کے مطابق تھائی لینڈ کے صوبے نکھون سی تھمارات میں 59 سالہ شخص ونیت ووراپورن طویل عرصے سے بیماری کا شکار تھا۔ زندگی کے آخری ایام میں اس نے اپنے اہلِ خانہ سے ایک غیر روایتی خواہش کا اظہار کیا کہ اس کی موت پر کوئی سوگ یا ماتم نہ کیا جائے بلکہ اس کی آخری رسومات کو ایک جشن کے طور پر منایا جائے۔مرحوم کی خواہش کے مطابق بدھ مت کے مندر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد تین “کوایوٹ ڈانسرز” کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے تابوت کے سامنے موسیقی پر رقص پیش کیا۔ اس دوران اہلِ خانہ اور دیگر شرکاء موجود رہے اور اس غیر معمولی منظر کو دیکھتے رہے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ونیت ایک خوش مزاج اور زندہ دل انسان تھا، جو اپنی موت کے بعد بھی لوگوں کو غمزدہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے یہ منفرد خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرحوم کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے پورا کرنے کے پابند تھے۔
یہ واقعہ 20 اپریل 2026 کو پیش آیا، جس کی ویڈیوز کو لائیو اسٹریم بھی کیا گیا۔ بعد ازاں یہ مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جہاں صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ افراد اسے زندگی کا جشن قرار دے رہے ہیں اور مرحوم کی خواہش کا احترام کرنے کو سراہ رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے روایات اور اخلاقی اقدار کے منافی قرار دے رہے ہیں۔
