وزیراعظم محمد شہباز شریف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسران نے ملاقات کی، جس میں مالی سال 2025-26 کے دوران محصولات کا مقررہ ہدف عبور کرنے پر ایف بی آر کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے تاریخی ریونیو ہدف حاصل کرنا حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ایف بی آر کی مسلسل محنت کا اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے محصولات میں اضافے کو قومی معیشت کے استحکام کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ مالی سال کے دوران تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے برآمدی شعبے کو سہارا ملا، جس سے ملکی برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے محصولات کا ہدف 15 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے اور اس ہدف کے حصول کے لیے ایف بی آر میں جاری اصلاحات کو مزید تیز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ٹیکس دہندگان، کاروباری برادری اور صنعتی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف، آسان اور جدید ٹیکس نظام ہی محصولات میں پائیدار اضافے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کا نیا آپریٹنگ ماڈل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور فیس لیس ٹیکس نظام پر مبنی ہوگا، جس سے انسانی مداخلت کم، شفافیت میں اضافہ اور ٹیکس دہندگان کے لیے سہولت پیدا ہوگی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کی پیشہ ورانہ ترقی، تربیت اور کیریئر پلاننگ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ادارے کی استعداد کار مزید بہتر بنائی جا سکے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور قومی آمدن میں اضافے کے لیے اصلاحاتی عمل کو ہر صورت جاری رکھے گی۔
Blog
-

وزیراعظم کی ایف بی آر کارکردگی کی تعریف، رواں سال 15 کھرب روپے محصولات کا ہدف مقرر
-

اسلام آباد میں 12 برس میں صرف 7 نئے اسکول، پارلیمانی کمیٹی میں تعلیمی بحران پر تشویش
اسلام آباد میں گزشتہ 12 برس کے دوران صرف سات نئے سرکاری اسکول قائم کیے جانے کا انکشاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ہوا، جہاں وفاقی دارالحکومت میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تعلیمی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سال 2014 سے اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری تعلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2014 سے اب تک اسلام آباد میں صرف سات نئے اسکول تعمیر کیے گئے ہیں، حالانکہ اس دوران آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم نے کئی بار ترقیاتی بجٹ کے لیے وزارت منصوبہ بندی سے رجوع کیا، تاہم مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ اس پر کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں تعلیم کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مالی مشکلات ہیں تو دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی اسی تناسب سے کٹوتی ہونی چاہیے، کیونکہ سڑکوں اور عمارتوں سے زیادہ اہم سرمایہ کاری انسانی وسائل پر ہوتی ہے۔
نوید قمر نے کہا کہ آبادی بڑھ رہی ہے لیکن اس کے مطابق نئے اسکول نہیں بن رہے، جو ایک ناکام پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی امین الحق نے بھی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں اسکولوں میں داخلوں کے لیے لوگ سفارشیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں، جبکہ ہزاروں بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری تعلیم سے استفسار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار ہے تو متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
ڈی جی فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے بتایا کہ 2021 میں وفاقی اسکولوں میں 96 ہزار لڑکے اور ایک لاکھ 28 ہزار لڑکیاں زیر تعلیم تھیں، جبکہ 2024 تک یہ تعداد بڑھ کر 99 ہزار لڑکے اور ایک لاکھ 29 ہزار لڑکیاں ہو گئی۔ ان کے مطابق فی کلاس اوسطاً 32 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
آڈٹ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ 2014 سے اب تک فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو 31 پلاٹ فراہم کیے گئے، تاہم ان پر خاطر خواہ تعلیمی منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔ آڈیٹر جنرل نے ڈیلی ویجز اساتذہ کے مسئلے کو بھی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مستقل ملازمت رکھنے والا استاد مؤثر انداز میں تدریسی ذمہ داریاں انجام نہیں دے سکتا۔
سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ 2023 سے اب تک ایک ہزار اساتذہ بھرتی کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید تقریباً 900 اساتذہ کی بھرتی کا عمل فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ دو ماہ کے اندر وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے جامع پالیسی تیار کر کے کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ -

سردار تنویر الیاس استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے پارٹی صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے دوران اپنے سیاسی ساتھیوں سمیت آئی پی پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیر زراعت چوہدری علی شان سونی نے بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جبکہ آزاد کشمیر کے سابق وزیر صحت انصار ابدالی بھی پارٹی کا حصہ بن گئے۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے سابق مشیر سردار افتخار رشید نے بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جس کے بعد آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پارٹی صدر عبدالعلیم خان نے سردار تنویر الیاس اور ان کے ساتھیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے استحکام پاکستان پارٹی مزید مضبوط ہوگی اور آزاد کشمیر میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
سردار تنویر الیاس نے اس موقع پر عبدالعلیم خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک اور آزاد کشمیر کی ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی خدمت کے لیے استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار ادا کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سردار تنویر الیاس اور ان کے قریبی ساتھیوں کی آئی پی پی میں شمولیت آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے سیاسی منظرنامے پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔ -

ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ، آخری رسومات کے دوران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی
تہران: ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب انتہائی سخت اور ایسا ہوگا جس پر حملہ آوروں کو ہمیشہ پچھتانا پڑے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے مخالفین کسی بھی غلط اندازے سے گریز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرے کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن اگر موجودہ صورتحال کا غلط اندازہ لگانے کی کوشش کرے گا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں منعقد ہوں گی۔ اس سلسلے میں تہران، قم اور مشہد میں بڑے عوامی اجتماعات ہوں گے جبکہ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی خصوصی تقریبات اور تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ کئی روزہ تقریبات نہ صرف قومی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں بلکہ خطے بھر کے عوام اور مختلف ممالک سے آنے والے وفود بھی ان میں شرکت کریں گے۔ اسی وجہ سے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تمام تقریبات پرامن ماحول میں مکمل ہو سکیں۔
ایرانی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی مسلح افواج ہر ممکن خطرے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا اشتعال انگیزی کا فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2,295 ہو گئی، امدادی کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل
وینزویلا میں ایک ہفتہ قبل آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2 ہزار 295 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہیں۔ حکام کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی بے گھر ہیں اور ملبے تلے لاپتہ افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
24 جون کو شمالی اور وسطی وینزویلا میں صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے تھے، جنہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق اب تک 11 ہزار 267 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ مرکزی زلزلوں کے بعد اب تک 782 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ ان کی شدت اور تعداد میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بڑے آفٹر شاک کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
جارج روڈریگیز نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ زلزلے کے خطرات میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ ان کے مطابق امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مسلسل ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
منگل کے روز ملبے سے ایک کمسن بچی کو زندہ نکال لیا گیا، جس کے بعد زندہ بچائے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مزید زندہ افراد کے ملنے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں، اس کے باوجود ریسکیو اہلکار اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکومت اب ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طویل مدتی بحالی، متاثرہ خاندانوں کی رہائش، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور انسانی امداد کی فراہمی پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ متعدد علاقوں میں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جبکہ ہزاروں خاندان عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ -

لبنان اور شام کا باہمی عدم مداخلت کا معاہدہ
لبنان اور شام نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے باہمی احترام، خودمختاری اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے۔
یہ معاہدہ بیروت میں اس وقت طے پایا جب لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کا سرکاری وفد کے ہمراہ استقبال کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کریں گے۔ اس کے علاوہ دونوں فریق برابری کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کریں گے۔
حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط بنانا، سیاسی اور سفارتی روابط کو وسعت دینا اور مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور شام دونوں کو خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے، جس کے تناظر میں اس معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری، سرحدی تعاون کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ -

پیمرا نے جیو نیوز کی بندش پہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی طلب کر لی
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی کونسل آف کمپلینٹس نے جیو نیوز کی محرم الحرام کی خصوصی ٹرانسمیشن سے متعلق سامنے آنے والے تنازع پر اسلامی نظریاتی کونسل سے باضابطہ رہنمائی طلب کر لی ہے۔
پیمرا کے مطابق 26 جون کو نشر کیے گئے محرم کے خصوصی پروگرام "سفرِ عشق” میں ایسے مناظر دکھائے گئے جو مذہبی، ثقافتی اور سماجی حساسیت کے منافی قرار دیے گئے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ اس مواد سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہونے اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
پیمرا نے اس نشریات کو پیمرا آرڈیننس 2002، پیمرا رولز 2009 اور ضابطۂ اخلاق 2015 کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے 27 جون کو جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے کونسل آف کمپلینٹس کے سپرد کیا گیا اور چینل انتظامیہ کو اندرونی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
بعد ازاں جیو نیوز نے قومی اخبارات میں باقاعدہ معذرت شائع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ واقعہ انسانی غلطی کا نتیجہ تھا۔ چینل نے بتایا کہ متنازع مواد فوری طور پر ہٹا دیا گیا، اندرونی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
30 جون کو ہونے والے کونسل آف کمپلینٹس کے اجلاس میں جیو نیوز کی انتظامیہ نے دوبارہ مؤقف اپنایا کہ یہ غلطی غیر ارادی تھی اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے، تاہم کونسل کے مطابق اس دعوے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
کونسل آف کمپلینٹس کی چیئرپرسن ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر نے معاملے کی مذہبی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں استفسار کیا گیا ہے کہ آیا چینل کی معطلی، عوامی معذرت اور اب تک کیے گئے اقدامات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کافی ہیں یا مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل سے 8 جولائی 2026 تک اپنی سفارشات اور رہنمائی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جس کے بعد پیمرا آئندہ کارروائی سے متعلق فیصلہ کرے گا۔ -

کیوبا کسی کے لیے خطرہ نہیں، خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: صدر میگوئل ڈیاز کانیل
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں اور نہ ہی اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرے گا۔
برطانوی صحافی یلدا حکیم کو دیے گئے انٹرویو میں صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا ایک پرامن ملک ہے اور اس کی پالیسی ہمیشہ باہمی احترام، امن اور خودمختاری کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔
کیوبا کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے والا نہیں اور قومی خودمختاری، آزادی اور وقار کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کو طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا کے خلاف سخت مؤقف اور ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق بیانات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ -

جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں، قید نے مجھے جیل کی اصلاحات کی ضرورت کا احساس دلایا، مریم نواز
اسلام آباد میں منعقدہ جیل ریفارمز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی قید کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جیل کا تجربہ ان کی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا، جہاں انہوں نے قید تنہائی، تنہائی کے احساس اور بنیادی سہولیات کی کمی کو خود محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی تجربے نے انہیں پنجاب کی جیلوں میں اصلاحات متعارف کرانے کی ترغیب دی تاکہ قیدیوں کو بہتر اور باوقار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
مریم نواز نے کہا کہ وہ اس فورم پر سیاسی گفتگو نہیں کرنا چاہتیں بلکہ صرف اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں جیل اصلاحات کی اہمیت اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں کئی کئی گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، جہاں ذہنی دباؤ اور تنہائی کے اثرات کو انہوں نے خود محسوس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قید تنہائی انسان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور اس کیفیت کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے خود برداشت کیا ہو۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ دوران قید ان کے ساتھ صرف کتابیں اور جائے نماز تھیں، جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں گزارے گئے دنوں نے انہیں یہ احساس دلایا کہ ہر قیدی کی اپنی ایک کہانی اور اپنے دکھ ہوتے ہیں، اسی لیے جیلوں کے نظام کو زیادہ انسانی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے بتایا کہ ایک موقع پر جیل میں ان کی شوگر اچانک کم ہو گئی، لیکن مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، جس کے باعث گڑ والی بوتل زمین پر گر کر ٹوٹ گئی۔ شدید کمزوری کے عالم میں انہوں نے زمین پر گرا ہوا گڑ اٹھا کر کھایا، جس میں شیشے کے ٹکڑے بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں تھا، جس سے انہیں ایک بے بس قیدی کی کیفیت کا حقیقی احساس ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اور ان کے والد ایک ہی وقت میں جیل میں تھے، جبکہ ان کی والدہ شدید علیل تھیں، لیکن انہیں والدہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق اس کربناک تجربے نے انہیں قیدیوں کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت کا احساس دلایا۔ -

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 7 افراد جاں بحق، 19 زخمی
خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ نے مختلف اضلاع میں شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہو گئے۔ شدید بارشوں سے گھروں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 مرد، ایک خاتون اور 4 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 7 مرد، ایک خاتون اور 11 بچے شامل ہیں۔ مختلف حادثات بارش، آندھی، مکانوں کے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فلش فلڈ سے مجموعی طور پر 38 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 36 مکانات جزوی جبکہ 2 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خیبر، دیر زیریں، دیر بالائی، مردان، شانگلہ، باجوڑ اور لوئر چترال ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 3 جولائی تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مزید موسلا دھار بارش، گرج چمک، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان موجود ہے۔ محکمہ کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اچانک سیلاب آنے کا خدشہ برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان، صوابی، خیبر، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت متعدد اضلاع میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران ندی نالوں، دریا کناروں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔