سات ،8 اپریل 2026 کی جنگ بندی پیش رفت کے فوراً بعد بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے غیر معمولی شدت کے ساتھ پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ دی ہندو جیسے اداروں نے 8 اپریل کی صبح ہی “جنرل عاصم منیر کی مغربی ایشیا سفارت کاری کا قریبی جائزہ” کے عنوان سے تنقیدی تحریر شائع کی، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان ثالثی میں کامیاب نہیں ہوگا، “جنگ کو جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا” اور عالمی قوتیں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اہمیت نہیں دیں گی۔
اسی روز صبح پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پسِ پردہ سفارتی کاوشوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنا دی، جبکہ مذاکرات اب اسلام آباد میں دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔جہاں نئی دہلی خود کو “نیٹ سکیورٹی فراہم کرنے والا” پیش کر رہا تھا، وہیں 2026 کی ایران جنگ کے دوران اس کے طرزِ عمل نے اس کا اصل کردار بے نقاب کر دیا۔ ابتدائی حملوں اور ایرانی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ پر اس کی خاموشی کو عالمی جنوب میں کشیدگی کی غیر اعلانیہ حمایت سمجھا گیا۔امن کے فروغ کے بجائے بھارت نے فروری 2026 کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو “خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری” تک بڑھانے میں عجلت دکھائی، جو علاقائی استحکام کے برعکس محدود مفادات کو ترجیح دینے کا مظہر تھا۔
پاکستان نے مصر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر 8 اپریل کی جنگ بندی کو یقینی بنایا، جس نے وسیع تر جنگ کے پھیلاؤ کو روک دیا۔ اس کے برعکس بھارت حاشیے پر چلا گیا، اس کی بحری حکمت عملی محض نمائشی ثابت ہوئی اور وہ اپنے سمندری مفادات کے تحفظ میں بھی مؤثر کردار ادا نہ کر سکا۔کشیدگی کم کرنے کے بجائے نئی دہلی نے دستاویزی مواد پر پابندیاں لگائیں، داخلی آوازوں کو دبایا اور امن کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا تاکہ غیر مستحکم قوتوں کے ساتھ اپنی صف بندی کو چھپا سکے۔عالمی برادری کو “ناقابلِ متبادل بھارت” کے مصنوعی بیانیے کو مسترد کرنا چاہیے۔ 2026 کے تنازع نے واضح کر دیا ہے کہ جب دنیا کو جنگ روکنے اور سفارتی پیش رفت کے لیے ایک ذمہ دار کردار درکار ہوتا ہے تو توجہ اسلام آباد کی طرف جاتی ہے، جبکہ نئی دہلی اپنی ناکام اور جانبدار سفارت کاری کے نتائج سنبھالنے میں مصروف رہتا ہے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت سے خائف دکھائی دیتا ہے
