وزیراعظم محمد شہباز شریف کی نے مون سون کی پیشگی تیاری، موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی.
غیر معمولی موسمیاتی تغیر، بالخصوص گلوف سے بچاؤ کے لیے گلگت بلتستان میں نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اظہار برہمی کیا. وزیر اعظم نے گزشتہ سال واضح ہدایات کے باوجود سسٹم کی غیر فعالیت اور متعلقہ اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی پر انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی نااہلی اور کارکردگی میں کمی کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کی سہولت، خدمت اور خطرات سے بچاؤ کے لیےاقدامات تمام اداروں کا فرض العین ہےجسکی جواب دہی ہو گی۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے متاثرہ ممالک میں سر فہرست ہے جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وفاقی ادارے صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون اور ہم آہنگی سے پالیسی کے نفاذ میں درپیش تمام رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کریں۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پچھلے سال مون سون سیزن میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کی ممکنہ راستوں میں ناجائز تجاوزات تباہی کا باعث بنی۔ اس سال، اس مسئلہ کے حل کے لئے، پیشگی مؤثر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے خصوصی ہدایت کی کہ مون سون کے دوران ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے تمام ادارے استعداد کار کو بڑھاتے ہوئے عوام کی سہولت کے لیے وسائل سے بڑھ کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیشگی وارننگ سسٹم کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے تمام ضروری انفراسٹرکچر کی فراہمی اور فعالیت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے. وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اور دیگر تمام متعلقہ ادارے صوبوں کی باہمی تعاون سے یکجا ہو کر موثر اقدامات دکھائیں۔
اجلاس کو چیئرمین این۔ڈی۔ایم۔اے، چیئرمین واپڈا اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
