آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایران کی جانب سے تیسرا بحری جہاز نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں نور نیوز، فارس اور مہر کے مطابق “یوفوریا” نامی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایرانی ساحل کے قریب پھنس چکا ہے۔ تاہم اس واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دو دیگر جہازوں کو آبنائے ہرمز میں تحویل میں لے لیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہیں یا نہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جہاز MSC Francesca اور Epaminondas ہیں، جنہیں ایک گن بوٹ کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
بحری سکیورٹی ادارے نے بھی تصدیق کی کہ دونوں جہازوں پر فائرنگ کی گئی۔ماہرین کے مطابق MSC Francesca دنیا کی بڑی شپنگ کمپنی MSC کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ Epaminondas یونانی کمپنی Kalmar Maritime کی ملکیت ہے۔اطلاعات کے مطابق دونوں جہاز خلیجِ عمان کی جانب جا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔میرین ٹریفک ڈیٹا کے مطابق جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیے تھے، جو حملوں کے وقت دوبارہ فعال ہوئے۔
آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔جنگ کے دوران ایران نے اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ادھر امریکہ بھی اس علاقے میں ناکہ بندی کیے ہوئے ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ نے ایک ایرانی جہاز کو تحویل میں لیا تھا، جس کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔پینٹاگون کے مطابق امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک ایک اور جہاز پر بھی کارروائی کی۔تازہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
