وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ اس اہم مرحلے پر عالمی نظریں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں متوقع امن مذاکرات کے حوالے سے ایران کی جانب سے ابھی تک باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کی شرکت کے حوالے سے حتمی جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو یہ کشیدگی کم کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی اور سفارتی ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں، اس لیے آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے۔
ادھر عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں گے۔
ایران امریکا جنگ بندی کل صبح ختم
