Baaghi TV

Blog

  • ممبئی،سیاسی ریلی ،ٹریفک جام، خاتون نے وزیرکو کھری کھری سنا دیں

    ممبئی،سیاسی ریلی ،ٹریفک جام، خاتون نے وزیرکو کھری کھری سنا دیں

    ممبئی: ممبئی کے علاقے ورلی میں ایک سیاسی ریلی کے باعث شدید ٹریفک جام کے دوران ایک خاتون نے ریاستی وزیر گیریش مہاجن کا سامنا کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا اور انہیں "یہاں سے چلے جائیں” تک کہہ دیا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مہایوتی اتحاد کے تحت ایک احتجاجی مارچ نکالا جا رہا تھا۔ یہ مارچ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے)، خصوصاً کانگریس اور دیگر جماعتوں کے خلاف منعقد کیا گیا تھا۔ ریلی کا مقصد خواتین کے ریزرویشن بل کی حالیہ ناکامی کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔یہ مارچ شام 5 بجے شروع ہونا تھا، جس میں بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور نعرے بازی کی۔ مارچ کا آغاز جامبھوری میدان سے ہوا اور ڈوم تک جانا تھا۔ تاہم، ریلی کے آغاز میں تاخیر کے باعث پورے علاقے میں شدید ٹریفک جام ہو گیا۔ایک مقامی خاتون، جو اپنے بچے کو اسکول سے لینے جا رہی تھیں، کئی گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسی رہیں۔ شدید غصے میں وہ اپنی گاڑی چھوڑ کر ریلی کے درمیان پہنچ گئیں اور وزیر گیریش مہاجن سے الجھ پڑیں۔

    خاتون نے عوام کو درپیش مشکلات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قریبی خالی میدان موجود ہے، پھر سڑکیں کیوں بند کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مظاہرین کو منتشر ہونے کا مطالبہ کیا اور بلند آواز میں کہا: "یہاں سے نکل جائیں!”اس دوران انہوں نے ممبئی پولیس پر بھی غصہ نکالا۔ جب پولیس اہلکار مداخلت کے لیے آگے بڑھے تو خاتون نے ان سے بھی تلخ کلامی کی اور سینئر افسران سے بات کرنے پر زور دیا۔

    بعد ازاں پولیس نے خاتون کو سڑک کے کنارے لے جا کر ان کا مؤقف سنا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

  • نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، عطا تارڑ

    نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کا کہن اہے کہ بھارت کو معرکہ حق میں منہ کی کھانی پڑی، نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، بھارت نے کوئی بھی مس ایڈونچر کیا تو منہ توڑ جواب دیں گے، پاکستان کا بھارت کو جواب فیصلہ کن ہوگا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا، دہشتگردی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، مکار بھارت کی سوچ کھوکھلی ہے، بھارت اندرونی معاملات کو بیرونی بناکر پیش کرتا ہے، پاکستان دہشتگردی کا شکار اور بھارت دہشتگردی کا پروموٹر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پہلگام واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا کہا تھا، بھارت جھوٹے آپریشن پر کوئی بیانیہ نہیں بناسکا، بھارت بین الاقوامی سطح پر بھی دہشتگردی میں ملوث ہے، بھارت کی ریاستی پالیسی دہشتگردی ہے، پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں، بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بھارت فلمیں بنالیتا ہے مگر کلبھوشن کی گرفتاری پر بری طرح ناکام ہوا، ایک فتنہ الہندوستان ہے، دوسرا کالعدم ٹی ٹی پی ہے، بھارتی دہشتگردی کے ثبوت عالمی سطح پر پیش کیے، دہشتگردوں کو عبرتناک شکست دیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ بھارت کو معرکہ حق میں منہ کی کھانی پڑی، نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، بھارت نے کوئی بھی مس ایڈونچر کیا تو منہ توڑ جواب دیں گے، پاکستان کا بھارت کو جواب فیصلہ کن ہوگا، ہم اپنے دفاع کیلئے ہرممکن قدم اٹھائیں گے، حکومت اور قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت آئسولیشن کا شکار ہے، پاکستان کو دنیا بھر میں عزت مل رہی ہے، دنیا میں بھارت غیر مقبول ہوکر رہ گیا، پاکستان امن مشن کو لے کر چل رہا ہے۔

  • ایران کے دشمنوں کی مدد کرنے پر تیل پیداوار کو الوداع کہنا پڑے گا،خلیجی ممالک کو دھمکی

    ایران کے دشمنوں کی مدد کرنے پر تیل پیداوار کو الوداع کہنا پڑے گا،خلیجی ممالک کو دھمکی

    ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے خطے کے جنوبی خلیجی ممالک کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہیں مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار کو “الوداع کہنا ہوگا”۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر کی جانب سے سامنے آیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے رپورٹ کیا کہ کمانڈر نے خبردار کیا کہ ماضی میں بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین ایران کے مخالفین کے لیے استعمال ہونے دی، اور اگر ایسا سلسلہ جاری رہا تو ان کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کی “ٹارگٹ لسٹ” اب صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے آئل فیلڈز اور ریفائنریز بھی شامل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر اور بحرین میں واقع مخصوص توانائی تنصیبات کا بھی حوالہ دیا، تاہم تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

    واضح رہے کہ خلیج کے کئی ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اور ان میں سے بعض اپنے ہاں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے اس نوعیت کی دھمکی خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی علاقائی سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل کی فراہمی کا ایک بڑا مرکز ہے۔

  • ایران کی آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر فائرنگ

    ایران کی آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر فائرنگ

    آبنائے ہرمز میں ایک کشیدہ واقعے کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔

    برطانوی بحری نگرانی ادارے کے مطابق یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔یو کے ایم ٹی او کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کے کپتان نے اطلاع دی کہ ایک ایرانی گن بوٹ، جس کا تعلق آئی آر جی سی سے تھا، نے جہاز کے قریب آ کر بغیر کسی پیشگی رابطے کے فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں جہاز کے برج (برج کنٹرول روم) کو شدید نقصان پہنچا۔ادارے کے مطابق واقعے کے باوجود جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ رہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اس کارروائی کو "قانونی نفاذ” قرار دیا ہے۔ ایرانی افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا ایران کے لیے جہازوں کی آزادانہ آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال جوں کی توں رہے گی اور ایران اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

  • والی بال کی عالمی گورننگ باڈی کا فیصلہ ،انڈیا والی بال فیڈریشن کی منظوری منسوخ

    والی بال کی عالمی گورننگ باڈی کا فیصلہ ،انڈیا والی بال فیڈریشن کی منظوری منسوخ

    والی بال کی عالمی گورننگ باڈی نے انڈیا والی بال فیڈریشن کی منظوری منسوخ کر دی ہے،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق والی بال فیڈریشن آف انڈیا کے خلاف یہ سخت فیصلہ قانونی اور انتظامی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کے معاملات میں شفافیت کی کمی، داخلی تنازعات اور ناقص گورننس اس اقدام کی بنیادی وجوہات ہیں۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب دو سینئر قومی کھلاڑیوں نے نیشنل ٹریننگ کیمپ کو احتجاجاً چھوڑ دیا۔ کھلاڑیوں نے الزام عائد کیا کہ کیمپ میں فراہم کی جانے والی سہولیات غیر معیاری اور غیر سائنسی تھیں، جبکہ ٹیم سلیکشن کے عمل میں بھی مبینہ طور پر سیاست اور اقربا پروری کا عمل دخل تھا۔

    میڈیا کے مطابق عالمی ادارے نے موجودہ اسٹیئرنگ کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک میں والی بال کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ساتھ ہی اسٹیئرنگ کمیٹی کو عبوری طور پر اپنے فرائض جاری رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ہے تاکہ کھیل کا نظام مکمل طور پر معطل نہ ہو۔

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالات

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالات

    پہلگام میں پیش آنے والے متنازعہ واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا، تاہم اس دوران نہ تو واقعے کی شفاف تحقیقات سامنے آ سکیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی گئی۔ اس صورتحال نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق پہلگام واقعہ کئی حوالوں سے مشکوک تھا، "فالس فلیگ آپریشن”تھا، واقعے کے فوراً بعد بغیر ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک منظم بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو ماضی میں بھی مختلف مواقع پر دیکھا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پلوامہ، اڑی اور چھتیس گڑھ جیسے واقعات کے بعد بھارت کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزام تراشی کی گئی، تاہم بعد ازاں کئی سوالات اور تضادات سامنے آئے جنہوں نے ان دعوؤں کی ساکھ کو متاثر کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

    پہلگام واقعے کے حوالے سے ایک سال گزرنے کے باوجود تحقیقات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہ آنا اور ذمہ داران کا تعین نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملے کو دانستہ طور پر سرد خانے کی نذر کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اگر سیکیورٹی میں واقعی کوتاہی ہوئی تھی تو اس کے ذمہ داروں کا تعین اور احتساب ضروری تھا، جو اب تک نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت بغیر ثبوت کے الزام تراشی سے گریز کرے اور اگر کوئی شواہد ہیں تو انہیں عالمی سطح پر پیش کیا جائے۔خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کے بجائے حقائق اور شفاف تحقیقات کو بنیاد بنایا جائے۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی قیادت کا مثبت کردار عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں

    ایران امریکہ معاملات آخری مرحلے میں، سیز فائر مستقل امن کی طرف اہم پیش رفت

    تجزیہ شہزاد قریشی
    سیز فائر میں توسیع محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا، پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ خصوصاً عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی حکمتِ عملی، تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی حمایت بھی ایک مثبت اور عملی قدم ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب تصادم کے بجائے استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کی مشترکہ کوششیں بھی اس پیش رفت میں شامل رہی ہیں، جنہوں نے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور زمینی حقائق یہی اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی قابلِ قبول حل کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور معمولی نکات پر اتفاق رائے بھی جلد ہو سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ سیز فائر نہ صرف ایک عارضی سکون بلکہ ایک مستقل امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

    بلاشبہ، یہ ایک اجتماعی کامیابی ہے جس میں پاکستان، امریکہ اور دیگر تمام شامل ممالک کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت ایک جامع معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی، جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا۔

  • ایک جہاز پکڑا  جس میں کچھ چیزیں جو چین کی طرف سے تحفہ ہیں، ٹرمپ

    ایک جہاز پکڑا جس میں کچھ چیزیں جو چین کی طرف سے تحفہ ہیں، ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایک ایسا جہاز تحویل میں لیا ہے جس میں “ایسی اشیاء موجود تھیں جو بالکل اچھی نہیں تھیں” اور دعویٰ کیا کہ یہ سامان چین کی جانب سے بطور “تحفہ” بھیجا گیا تھا۔

    اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس پیش رفت پر انہیں کچھ حیرت ہوئی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر ہیں اور وہ چینی صدر کے ساتھ ایک خاص نوعیت کی مفاہمت (انڈراسٹینڈنگ) رکھتے ہیں۔امریکی صدر نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پکڑے گئے جہاز میں موجود سامان تشویشناک نوعیت کا تھا، تاہم انہوں نے اس کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کے بیان کے بعد اس معاملے کی نوعیت اور جہاز کی اصل منزل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر بیجنگ کی جانب سے تہران کو اسلحہ فراہم کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیان اسی تناظر کا تسلسل ہو سکتا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

  • آبنائے ہرمز ناکہ بندی ختم ہو گی تو مذاکرات میں شرکت کر سکتے،ایران

    آبنائے ہرمز ناکہ بندی ختم ہو گی تو مذاکرات میں شرکت کر سکتے،ایران

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے واضح کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی ختم کی جاتی ہے تو ایران اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

    اپنے تازہ بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران کو ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کی صورت میں مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ناکہ بندی کا خاتمہ ہی مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے مذاکرات میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، جن میں سب سے اہم آبنائے ہرمز میں امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے کم از کم 28 جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا۔ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعض بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو اس کشیدگی میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔
    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست،ٹرمپ کا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

    وزیراعظم شہباز،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست،ٹرمپ کا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے اور سفارتی کوششوں کو مزید وقت ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کردیا،امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں، جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا، اس لیےجنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک کہ ایران کی تجویز پیش نہیں کی جاتی،انہوں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک تہران اپنی تجویز پیش نہیں کر دیتا اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔

    ٹرمپ کے اس اعلان سے قبل وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران سے متعلق آئندہ حکمت عملی، مذاکراتی عمل اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دن بھر ایران سے مذاکرات کے مستقبل اور جنگ بندی کے خاتمے کے وقت سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام واشنگٹن وقت کے مطابق ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے کوئی واضح وقت نہیں دیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہوگی، جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 7 بج کر 50 منٹ بنتا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی میں توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق فوری تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار ایران کی مجوزہ شرائط اور مذاکراتی نتائج پر ہوگا۔