Baaghi TV

ایران میں جنگ بندی کے خاتمے سے قبل حکومتی حمایت میں مظاہرے

‎ایران میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب آتے ہی ملک کے مختلف شہروں میں حکومت اور افواج کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان مظاہروں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے، جن میں خواتین کی نمایاں شرکت بھی شامل ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق خرم آباد کے مغربی علاقے میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے حق میں نعرے لگائے۔ اس مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جو ملکی پالیسیوں کی حمایت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اسی طرح اصفحان میں ہونے والے مظاہروں میں برقعہ پوش خواتین کی موجودگی نے خاص توجہ حاصل کی، جن میں سے بعض کے پاس اسلحہ بھی دیکھا گیا، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
‎یہ مظاہرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا بھرپور طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔
‎دوسری جانب ایران کی سیاسی قیادت نے بھی سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا مذاکرات کو دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنا رہا ہے اور اسے یا تو مکمل اطاعت یا پھر جنگی ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
‎ادھر اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے پاکستان کو مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود جلد پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔

More posts