آپریشن سندور میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے متنازع بیانات میں واضح نظر آتی ہے۔
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے باڈی لینگویج میں اعتماد کی کمی اور کانپتی ہوئی آواز نے شکست خوردہ ذہنیت کو بے نقاب کر دیا۔بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے آپریشن سندور میں ہونے والی ناکامی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا “مستقبل کے چیلنجز مختلف ہوں گے؛ ہمیں پرانے سندور کو بھول کر نئے سندور کی تیاری کرنی چاہیے۔”
شکست کی ذمہ داری ٹیکنالوجی پر ڈالنا اور جدید ٹیکنالوجی کو واحد حل کے طور پر پیش کرنا ایک غیر حقیقی مؤقف ہے۔تینوں افواج (بری، بحری اور فضائی) کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی بات کرنا دراصل ناکامی کے کھلے اعتراف کے مترادف ہے۔“نئے سندور” کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ماضی کی شکست اور شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عملی خامیوں کو تکنیکی جواز کے پیچھے چھپانا ایک غیر پیشہ ورانہ، شرمناک اور بزدلانہ طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی کمی نے آپریشن سندور میں تاریخی ناکامی کو جنم دیا۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی ایسے بیانات کو قابلِ اعتبار بنانے کے بجائے محض خود کو اہم ظاہر کرنے کی کوشش بناتی ہے۔یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت نے اس ناکامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، جبکہ پاکستان کی جانب سے خبردار کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کا سخت، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
