Baaghi TV

Blog

  • 
ایف بی آر نے 13 ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس وصول کر لیا، تاریخی کامیابی قرار

    
ایف بی آر نے 13 ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس وصول کر لیا، تاریخی کامیابی قرار

    ‎وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور گزشتہ ڈھائی برس کے دوران ملک کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں ٹیکس وصولیاں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، جو حکومتی اصلاحات، مؤثر پالیسیوں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔
    ‎اسلام آباد میں ایف بی آر کی قیادت اور فیلڈ فارمیشنز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے مقررہ ریونیو ہدف کامیابی سے حاصل کرنے پر ادارے کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کو 12.83 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، تاہم ادارے نے اس سے بڑھ کر 13 ٹریلین روپے سے زائد محصولات جمع کر کے ایک اہم سنگ میل عبور کیا۔
    ‎محمد اورنگزیب نے کہا کہ ماضی میں اتنے کم عرصے میں اس نوعیت کا ریونیو ہدف حاصل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے مالی سال کامیابی سے مکمل کیا اور مالی خسارے کو بھی کم ترین سطح پر رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس کامیابی کو ٹیم ورک، مسلسل اصلاحات اور ایف بی آر کے افسران و اہلکاروں کی انتھک محنت کا ثمر قرار دیا۔
    ‎وزیر خزانہ نے کہا کہ بہتر ٹیکس وصولیوں کے باعث نہ صرف حکومتی مالی پوزیشن مضبوط ہوئی بلکہ ملکی معیشت کی بنیادیں بھی مزید مستحکم ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے دوران ایف بی آر نے کاروباری برادری اور ٹیکس دہندگان کو مجموعی طور پر 599 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جبکہ مالی سال کے آخری روز ہی 13.5 ارب روپے کے ریکارڈ ریفنڈز ادا کیے گئے، تاکہ برآمد کنندگان اور صنعتوں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت جدید، شفاف اور عوام دوست ٹیکس نظام کے قیام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خودکار نظام کو بروئے کار لا کر ایف بی آر کو ایک جدید، مؤثر اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور عوام کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • 
وزیر مملکت مبارک زیب کے استقبال پر ہوائی فائرنگ، مقدمہ درج

    
وزیر مملکت مبارک زیب کے استقبال پر ہوائی فائرنگ، مقدمہ درج

    ‎باجوڑ سے رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے قبائلی امور مبارک زیب کے استقبال کے موقع پر مبینہ ہوائی فائرنگ کے واقعے کا پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے امتناعِ ہوائی فائرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں فضل امین سمیت دیگر نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر مملکت مبارک زیب کی آمد پر استقبال کے دوران بعض افراد نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تقریب میں موجود مقامی مشران نے فائرنگ کرنے والوں کو متعدد بار روکنے اور اس عمل سے باز رہنے کی تلقین کی، تاہم ملزمان نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات میں ہوائی فائرنگ نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ اس سے انسانی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر امتناعِ ہوائی فائرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
    ‎ایف آئی آر کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ ہوائی فائرنگ ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور قابلِ مواخذہ جرم ہے، جس کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
    ‎حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خوشی یا سیاسی اجتماعات کے دوران ہوائی فائرنگ سے مکمل اجتناب کریں، کیونکہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ بے گناہ افراد کی جان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 
18ویں ترمیم کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وفاقی تعاون پر اعتراض نہیں: مراد علی شاہ

    
18ویں ترمیم کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وفاقی تعاون پر اعتراض نہیں: مراد علی شاہ

    ‎کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات حاصل ہیں، ان کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور آئین کے مطابق انتظامی اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس ہی رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاق مختلف اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے کوئی وفاقی ادارہ قائم کرتا ہے تو سندھ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم آئینی حدود اور صوبائی خودمختاری کا ہر صورت احترام ضروری ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئین پاکستان میں واضح طور پر درج ہے کہ انتظامی یا ایگزیکٹیو اختیارات صوبوں کے پاس ہیں، اس لیے ہر فیصلہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ ملک کے مفاد میں ہے، لیکن ایسا کوئی بھی نظام صوبوں کے آئینی اختیارات کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎مراد علی شاہ نے بتایا کہ ملکی سکیورٹی صورتحال اور جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنانے کے لیے وفاق کے ساتھ ساتھ صوبے بھی اپنے انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی معلومات کے تبادلے، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی بہتری کے لیے کئی نئے انٹیلی جنس اور نگرانی کے ادارے قائم کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری طویل لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل لوڈشیڈنگ سے شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیاں اور صنعتی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ونڈ اور سولر توانائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن وفاقی سطح پر رکاوٹوں کے باعث صوبہ اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ ان کے مطابق سندھ حکومت قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ بجلی کی قلت پر قابو پایا جا سکے، تاہم وفاق کی جانب سے اجازت نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
    ‎مراد علی شاہ نے زور دیا کہ اگر صوبوں کو اپنی قدرتی وسائل اور متبادل توانائی کے ذرائع استعمال کرنے کی آزادی دی جائے تو نہ صرف توانائی کے بحران میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔

  • جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق، 3 لاپتہ

    جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق، 3 لاپتہ

    ‎خیبرپختونخوا کے خوبصورت سیاحتی علاقے کالام کے قریب واقع جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے کے افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق جبکہ تین افراد لاپتہ ہو گئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں ریسکیو کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ سوات کے مشہور سیاحتی مقام مہوڈنڈ سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر واقع جھیل سیف اللہ میں پیش آیا، جہاں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد سیر و تفریح کی غرض سے کشتی میں سوار تھے۔ کشتی میں ملاح سمیت مجموعی طور پر نو افراد موجود تھے کہ اچانک کشتی حادثے کا شکار ہو کر جھیل میں ڈوب گئی۔
    ‎حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ملاح کو شدید زخمی حالت میں پانی سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے مہوڈنڈ کے قریب سے پانچ افراد کی لاشیں برآمد کر لی ہیں، جبکہ تین افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور غوطہ خوروں کی مدد سے ان کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشوں کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے کالام اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا کشتی میں حفاظتی انتظامات اور لائف جیکٹس موجود تھیں یا نہیں۔
    ‎دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جھیل سیف اللہ میں پیش آنے والے کشتی حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے اور حکومت متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
    ‎گورنر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ریسکیو آپریشن جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

  • 
وزیراعظم کی ملک بھر میں دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کے منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    
وزیراعظم کی ملک بھر میں دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کے منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    ‎اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک بھر میں دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کو ملک کا قیمتی قومی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم پر سرمایہ کاری ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
    ‎وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ مظفرآباد میں بھی اس کا جدید ٹیک کیمپس قائم کیا جائے تاکہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں زیر تعمیر تمام دانش اسکولوں کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے تاکہ طلبہ کو بروقت معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
    ‎وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دانش اسکولوں کی عمارتوں کے ڈیزائن میں ہر علاقے کی مقامی ثقافت، روایات اور جغرافیائی خصوصیات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ یہ ادارے اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مقامی ماحول سے ہم آہنگ ہوں۔
    ‎اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی میں اساتذہ اور دیگر عملے کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور اس عمل میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے پر وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
    ‎اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 27 دانش اسکولوں اور اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ بریفنگ کے مطابق اسلام آباد کے کرسچین دانش اسکول کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جہاں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
    ‎مزید بتایا گیا کہ باغ، بھمبر، سلطان آباد، گانچھے اور استور میں زیر تعمیر دانش اسکول تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور وہاں اپریل 2027 سے باقاعدہ کلاسز شروع کر دی جائیں گی۔ اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ دانش یونیورسٹی کے لیے تدریسی عملے کی بھرتی کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ 2027 میں یونیورسٹی میں تدریس کا آغاز کیا جائے گا۔ یونیورسٹی میں داخلے ملک بھر سے میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے، جن میں پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو خصوصی ترجیح دی جائے گی تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

  • 
ترامڑی چوک میں آوارہ کتے پر فائرنگ، گولی لگنے سے دو بچے زخمی

    
ترامڑی چوک میں آوارہ کتے پر فائرنگ، گولی لگنے سے دو بچے زخمی

    ‎اسلام آباد کے علاقے ترامڑی چوک میں آوارہ کتے کو مارنے کی کوشش کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دو بچے گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایچ بی ایس اسپتال کے عقب میں واقع ایک گلی میں پیش آیا، جہاں ایک آوارہ کتا بچوں پر حملہ آور تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایک شہری نے بچوں کو بچانے کی غرض سے کتے پر فائرنگ کی، تاہم گولی اپنے ہدف پر لگنے کے بجائے قریب موجود دو بچوں کو جا لگی، جس سے وہ زخمی ہو گئے۔
    ‎اطلاع ملتے ہی شہزاد ٹاؤن پولیس کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فوری طور پر پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔
    ‎پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ فائرنگ کن حالات میں کی گئی اور آیا اس میں غفلت یا قانون کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎پولیس نے مزید کہا ہے کہ جیسے ہی تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوگی، عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔ واقعے کے بعد شہریوں نے بھی رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • 
مگرمچھ کے باڑے میں زخمی ہونے والے 3 سالہ بچے کے اہلخانہ کا چڑیا گھر کے عملے سے اظہارِ تشکر

    
مگرمچھ کے باڑے میں زخمی ہونے والے 3 سالہ بچے کے اہلخانہ کا چڑیا گھر کے عملے سے اظہارِ تشکر

    ‎برطانیہ میں مگرمچھوں کے باڑے میں شدید زخمی ہونے والے تین سالہ بچے کے اہلخانہ نے اپنے بیٹے کی جان بچانے والے چڑیا گھر کے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں عوام اور طبی عملے کی جانب سے بھرپور تعاون ملا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 18 جون کو ہنٹنگڈن کے قریب واقع جانسنز آف اولڈ ہرسٹ چڑیا گھر میں پیش آیا، جہاں تین سالہ بچہ کسی طرح مگرمچھوں کے باڑے میں جا گرا۔ اس دوران کم از کم ایک مگرمچھ نے بچے پر حملہ کر دیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔
    ‎چڑیا گھر کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کو مگرمچھوں کے باڑے سے نکالا اور فوری طبی امداد فراہم کی۔ بعد ازاں بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدا میں اس کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق بچہ اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہے تاہم اس کی حالت مستحکم قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎بچے کے اہلخانہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ چڑیا گھر کے ان تمام ملازمین کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے بیٹے کی جان بچائی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی دعاؤں، نیک تمناؤں اور اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی انتھک کوششوں پر بھی وہ تہہ دل سے ممنون ہیں۔
    ‎خاندان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی تمام تر توجہ اپنے بیٹے کی صحت یابی پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق بچے کی مکمل بحالی کا سفر طویل اور مشکل ہو سکتا ہے، تاہم وہ اس دوران اس کے ساتھ ہر قدم پر موجود رہیں گے۔
    ‎پولیس کے مطابق بچہ کیمبرج شائر کا رہائشی ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ مگرمچھوں کے باڑے تک کیسے پہنچا۔ حکام نے چڑیا گھر کے حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
    ‎واقعے کے بعد چڑیا گھر کی انتظامیہ نے بھی بچے اور اس کے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پولیس اور دیگر حکام مختلف پہلوؤں سے واقعے کی چھان بین کر رہے ہیں تاکہ ذمہ دار عوامل کی نشاندہی کی جا سکے۔

  • 
بیلجیئم میں رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 6 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    
بیلجیئم میں رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 6 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    ‎بیلجیئم کے شہر اینٹورپ میں ایک رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق آگ ایک 10 منزلہ اپارٹمنٹ بلڈنگ میں لگی، جہاں 80 فلیٹس میں 200 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 9 بج کر 53 منٹ پر بھڑکی، جس کے بعد فائر بریگیڈ اور امدادی اداروں کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ہونے والی ایک تکنیکی خرابی کے باعث لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ‎فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عمارت میں پھنسے متعدد افراد کو بحفاظت باہر نکالا۔ شدید دھوئیں اور آگ کی شدت کے باعث کئی رہائشی خود نیچے اترنے سے قاصر تھے، جس پر امدادی اہلکاروں نے رسیوں کی مدد سے لوگوں کو عمارت کی بالائی منزلوں سے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
    ‎عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد چند ہی لمحوں میں دھواں پوری عمارت میں پھیل گیا، جس کی وجہ سے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ کئی خاندان خوف و ہراس میں اپنی جانیں بچانے کے لیے کھڑکیوں اور بالکونیوں میں آ گئے، جہاں سے انہیں ریسکیو ٹیموں نے محفوظ مقام تک پہنچایا۔
    ‎پولیس کے مطابق آتشزدگی سے عمارت کی بالائی منزلیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں، جبکہ زخمی ہونے والے افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ تکنیکی خرابی کی نوعیت اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکام نے متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی رہائش اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کر دی ہیں۔
    ‎بیلجیئم میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر مقامی حکام نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کی ہے، جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • 
ایڈنبرا میں خاتون سے زیادتی کی کوشش ناکام، سکیورٹی گارڈ کی بروقت مداخلت سے ملزم گرفتار

    
ایڈنبرا میں خاتون سے زیادتی کی کوشش ناکام، سکیورٹی گارڈ کی بروقت مداخلت سے ملزم گرفتار

    ‎برطانیہ کے شہر ایڈنبرا میں ایک کمزور اور بے سہارا خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے شخص کو عدالت نے چار سال قید کی سزا سنا دی، جبکہ خاتون کی جان اور عزت بروقت مداخلت کرنے والے سکیورٹی گارڈ کی بہادری سے محفوظ رہی۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق 34 سالہ اولیکساندر دوپک نے گزشتہ سال نومبر میں ایڈنبرا کے نیو ٹاؤن علاقے کی ایک تاریک گلی میں خاتون پر حملہ کیا۔ ملزم نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم قریب موجود ایک سکیورٹی گارڈ نے صورتحال بھانپتے ہوئے فوری مداخلت کی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق سکیورٹی گارڈ نے شور مچا کر ملزم کو روکنے کی کوشش کی، جس پر وہ موقع سے فرار ہو گیا۔ بعد ازاں پولیس نے تحقیقات کے بعد اسے گرفتار کر لیا۔ ملزم نے عدالت میں اقدامِ زیادتی کے جرم کا اعتراف بھی کیا۔
    ‎ایڈنبرا کی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جج لیڈی ڈرمنڈ نے کہا کہ اگر سکیورٹی گارڈ بروقت مداخلت نہ کرتا تو ملزم اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو روکنے والی واحد چیز سکیورٹی گارڈ کی ہوشیاری، ذمہ داری اور انسان دوستی تھی۔
    ‎جج نے اپنے ریمارکس میں سکیورٹی گارڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے متاثرہ خاتون کی حفاظت کے لیے غیر معمولی جرات اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس پر وہ بھرپور ستائش کا مستحق ہے۔
    ‎عدالت کو بتایا گیا کہ اولیکساندر دوپک یوکرین مہاجرین اسکیم کے تحت برطانیہ آیا تھا۔ جرم ثابت ہونے اور اعترافِ جرم کے بعد عدالت نے اسے چار سال قید کی سزا سنائی۔
    ‎پولیس نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون کو ہر ممکن قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کو کسی بھی قسم کی مشتبہ سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ ایسے جرائم کی بروقت روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • 
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر نابینا خاتون کو 1 کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل گئے

    
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر نابینا خاتون کو 1 کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل گئے

    ‎اسلام آباد میں بینک الفلاح کی راولپنڈی برانچ کے سابق برانچ منیجر کی جانب سے ایک نابینا خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر کیے گئے کروڑوں روپے کے فراڈ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر متاثرہ خاتون درخشاں مرزا کو اب تک ایک کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل چکے ہیں، جبکہ باقی رقوم اور دیگر اثاثوں کی بازیابی کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔
    ‎عدالتی ریکارڈ کے مطابق بینک الفلاح کے سابق برانچ منیجر رمیض جاوید پر الزام تھا کہ انہوں نے نابینا خاتون کی بصارت سے محرومی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھوکہ دہی کے ذریعے تقریباً 2 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ہتھیا لیے۔ ان میں ایک کروڑ 38 لاکھ روپے سے زائد نقد رقم، 25 تولہ سونا اور ایک قیمتی ہیروں کا سیٹ بھی شامل تھا۔
    ‎اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ، جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے ریکوری سے متعلق دائر متفرق درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر متاثرہ خاتون درخشاں مرزا خود عدالت میں پیش ہوئیں اور رقم کی واپسی پر عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں جج صاحبان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ‎سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متاثرہ خاتون کو پہلے ہی ایک کروڑ 59 لاکھ روپے ادا کیے جا چکے تھے، جبکہ مزید 28 لاکھ روپے اور 5 لاکھ 30 ہزار روپے کے دو الگ الگ چیک بھی ان کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح اب تک مجموعی طور پر ایک کروڑ 92 لاکھ روپے کی رقم متاثرہ خاتون کو واپس مل چکی ہے۔
    ‎عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم رمیض جاوید کی ملکیت میں موجود دو گاڑیوں کی بھی بازیابی کی جا رہی ہے، جنہیں ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت کی کہ دونوں گاڑیاں فوری طور پر تحویل میں لے کر ان کی ریکوری سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
    ‎یہ مقدمہ کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانی سے متعلق ہے، جس میں ٹرائل کورٹ پہلے ہی جرم ثابت ہونے پر سابق برانچ منیجر رمیض جاوید کو پانچ سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔ وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی مکمل رقم واپس کرنے کا حکم برقرار رکھا تھا۔
    ‎چونکہ متاثرہ خاتون کو مکمل رقم موصول نہیں ہوئی تھی، اس لیے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے مزید کارروائی کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ باقی ماندہ رقم اور دیگر اثاثوں کی بازیابی کے لیے قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ متاثرہ خاتون کو مکمل انصاف فراہم کیا جا سکے۔