Baaghi TV


اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر نابینا خاتون کو 1 کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل گئے

‎اسلام آباد میں بینک الفلاح کی راولپنڈی برانچ کے سابق برانچ منیجر کی جانب سے ایک نابینا خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر کیے گئے کروڑوں روپے کے فراڈ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر متاثرہ خاتون درخشاں مرزا کو اب تک ایک کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل چکے ہیں، جبکہ باقی رقوم اور دیگر اثاثوں کی بازیابی کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔
‎عدالتی ریکارڈ کے مطابق بینک الفلاح کے سابق برانچ منیجر رمیض جاوید پر الزام تھا کہ انہوں نے نابینا خاتون کی بصارت سے محرومی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھوکہ دہی کے ذریعے تقریباً 2 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ہتھیا لیے۔ ان میں ایک کروڑ 38 لاکھ روپے سے زائد نقد رقم، 25 تولہ سونا اور ایک قیمتی ہیروں کا سیٹ بھی شامل تھا۔
‎اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ، جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے ریکوری سے متعلق دائر متفرق درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر متاثرہ خاتون درخشاں مرزا خود عدالت میں پیش ہوئیں اور رقم کی واپسی پر عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں جج صاحبان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
‎سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متاثرہ خاتون کو پہلے ہی ایک کروڑ 59 لاکھ روپے ادا کیے جا چکے تھے، جبکہ مزید 28 لاکھ روپے اور 5 لاکھ 30 ہزار روپے کے دو الگ الگ چیک بھی ان کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح اب تک مجموعی طور پر ایک کروڑ 92 لاکھ روپے کی رقم متاثرہ خاتون کو واپس مل چکی ہے۔
‎عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم رمیض جاوید کی ملکیت میں موجود دو گاڑیوں کی بھی بازیابی کی جا رہی ہے، جنہیں ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت کی کہ دونوں گاڑیاں فوری طور پر تحویل میں لے کر ان کی ریکوری سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
‎یہ مقدمہ کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانی سے متعلق ہے، جس میں ٹرائل کورٹ پہلے ہی جرم ثابت ہونے پر سابق برانچ منیجر رمیض جاوید کو پانچ سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔ وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی مکمل رقم واپس کرنے کا حکم برقرار رکھا تھا۔
‎چونکہ متاثرہ خاتون کو مکمل رقم موصول نہیں ہوئی تھی، اس لیے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے مزید کارروائی کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ باقی ماندہ رقم اور دیگر اثاثوں کی بازیابی کے لیے قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ متاثرہ خاتون کو مکمل انصاف فراہم کیا جا سکے۔

More posts