فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے اسرائیل کو آئینہ دکھادیا، کینیڈا میں فیفا اجلاس کے موقع پر اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کے نائب صدر سے ہاتھ نہ ملایا۔
فلسطینی عہدیدار جبریل رجوب نے کہا کہ کسی مجرم کی نمائندگی کرنیوالے سے ہاتھ کیسے ملا سکتا ہوں، یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے، عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے درد کو نہیں سمجھا جارہا۔جبریل رجوب نے اسرائیل کو فورم سے نکالنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے دونوں عہدیداران کو اسٹیج پر مدعو کیا اور قریب آنے کا اشارہ دیا، تاہم جبریل رجوب نے واضح طور پر اسرائیلی نمائندے کے ساتھ کھڑے ہونے اور مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبریل رجوب کا کہنا تھا کہ "میں کسی ایسے شخص سے ہاتھ نہیں ملا سکتا جو ایک مجرم کی نمائندگی کرتا ہو، یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے درد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔” انہوں نے اسرائیل کو فیفا فورم سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی نائب صدر سوزن شلبی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ "ہم ایسے فرد سے ہاتھ نہیں ملا سکتے جسے اسرائیل اپنی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ہم شدید تکلیف میں ہیں۔”
دوسری جانب جیانی انفانٹینو نے اپنے خطاب میں کہا کہ "ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہ پیچیدہ معاملات ہیں، لیکن ہمیں بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے امید پیدا کرنی چاہیے۔”
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں فلسطینی فٹبال فیڈریشن نے اسرائیلی کلبوں کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کی ہے۔ فلسطینی حکام نے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (سی اے ایس) میں درخواست دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کلبوں کو اسرائیلی لیگ میں شرکت کی اجازت دینا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔فیفا نے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا، جس کی وجہ مغربی کنارے کی متنازعہ قانونی حیثیت کو قرار دیا گیا۔ یہ معاملہ اب عالمی کھیلوں کے حلقوں میں ایک اہم بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔









