Baaghi TV

Blog

  • فیفا اجلاس،فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے اسرائیل کو آئینہ دکھادیا

    فیفا اجلاس،فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے اسرائیل کو آئینہ دکھادیا

    فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے اسرائیل کو آئینہ دکھادیا، کینیڈا میں فیفا اجلاس کے موقع پر اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کے نائب صدر سے ہاتھ نہ ملایا۔

    فلسطینی عہدیدار جبریل رجوب نے کہا کہ کسی مجرم کی نمائندگی کرنیوالے سے ہاتھ کیسے ملا سکتا ہوں، یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے، عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے درد کو نہیں سمجھا جارہا۔جبریل رجوب نے اسرائیل کو فورم سے نکالنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے دونوں عہدیداران کو اسٹیج پر مدعو کیا اور قریب آنے کا اشارہ دیا، تاہم جبریل رجوب نے واضح طور پر اسرائیلی نمائندے کے ساتھ کھڑے ہونے اور مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبریل رجوب کا کہنا تھا کہ "میں کسی ایسے شخص سے ہاتھ نہیں ملا سکتا جو ایک مجرم کی نمائندگی کرتا ہو، یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے درد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔” انہوں نے اسرائیل کو فیفا فورم سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی نائب صدر سوزن شلبی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ "ہم ایسے فرد سے ہاتھ نہیں ملا سکتے جسے اسرائیل اپنی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ہم شدید تکلیف میں ہیں۔”

    دوسری جانب جیانی انفانٹینو نے اپنے خطاب میں کہا کہ "ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہ پیچیدہ معاملات ہیں، لیکن ہمیں بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے امید پیدا کرنی چاہیے۔”

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں فلسطینی فٹبال فیڈریشن نے اسرائیلی کلبوں کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کی ہے۔ فلسطینی حکام نے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (سی اے ایس) میں درخواست دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کلبوں کو اسرائیلی لیگ میں شرکت کی اجازت دینا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔فیفا نے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا، جس کی وجہ مغربی کنارے کی متنازعہ قانونی حیثیت کو قرار دیا گیا۔ یہ معاملہ اب عالمی کھیلوں کے حلقوں میں ایک اہم بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

  • مودی سرکار کو ایک بار پھر عالمی سطح پر سبکی کا سامنا

    مودی سرکار کو ایک بار پھر عالمی سطح پر سبکی کا سامنا

    مودی سرکار کو ایک بار پھر عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ایرانی یوریا جعلی شپنگ دستاویزات کے ذریعے بھارت پہنچادیا گیا، بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔

    رپورٹ کے مطابق آدتیہ برلا گلوبل ٹریڈنگ کا کارگو ایرانی بندرگاہ سے لادا گیا، دستاویزات میں ردوبدل کرکے روانگی کا مقام عمان ظاہر کیا گیا، دستاویزات میں ردوبدل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بھارت کی وزارت کیمیکلز و فرٹیلائزرز پر بھی سوالات اٹھ گئے، وزارت نے ٹریکنگ ڈیٹا، اصل دستاویزات کی تصدیق کے بغیر منظوری دی،اس واقعے کے بعد بھارت کو امریکی پابندیوں کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، بھارت پر عالمی قوانین اور ٹینڈر میں بے ضابطگیوں کے بھی الزامات ہیں۔

    بھارتی کمپنی آدتیہ برلا گلوبل ٹریڈنگ نے ایران کے جنوبی پارس گیس کمپلیکس میں تیار ہونے والی یوریا کو اسالوئیہ بندرگاہ سے لوڈ کیا، حالانکہ یہ مصنوعات امریکی پابندیوں کی زد میں آتی ہیں، یوریا 7 اپریل کو جہاز پر لوڈ کی گئی، جبکہ بولی کا عمل اس کے کئی دن بعد ہونا تھا، جسے ماہرین تجارتی اصولوں کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ مبینہ طور پر اس عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معاہدہ پہلے سے طے شدہ تھا، امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے 26 اپریل کو ایک بل آف لیڈنگ تیار کیا گیا جس میں لوڈنگ پوائنٹ عمان کی سوہار بندرگاہ ظاہر کیا گیا، جبکہ جہاز کی ٹریکنگ معلومات کے مطابق اصل روانگی ایران کی بندرگاہ اسالوئیہ سے ہوئی، بھارتی وزارتِ کیمیکل و فرٹیلائزر نے بغیر مکمل تصدیق کے جہاز کو سوہار، عمان سے روانہ ہونے والا ظاہر کرتے ہوئے لیٹر آف اتھارٹی جاری کیا۔

    ماہرین کے مطابق ایرانی پیٹروکیمیکلز، خصوصاً جنوبی پارس گیس فیلڈ سے تیار ہونے والی یوریا، امریکی ادارے OFAC (آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول) کی پابندیوں کے تحت آتی ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ کمپنیوں کو عالمی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے، ڈالر بینکنگ سہولت کی معطلی اور ثانوی پابندیوں جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

  • پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی سفر بحال

    پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی سفر بحال

    اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان دو ماہ کے تعطل کے بعد فضائی آپریشن بحال ہو گیا ہے، جس کے تحت 26 فروری کے بعد پہلی پرواز ایران سے مسافروں کو لے کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئی۔

    رپورٹس کے مطابق تہران سے آنے والی پرواز ڈبلیو 5185 کامیابی کے ساتھ اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتری، جس کے ذریعے مسافروں کو پاکستان لایا گیا۔ فضائی رابطوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان سفری سہولتوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس روٹ پر ایران کی نجی ایئرلائن "ماہان ایئر” کی اگلی پرواز 7 مئی کو شیڈول کی گئی ہے، جبکہ اسی طیارے نے واپسی پر پرواز ڈبلیو 5184 کے ذریعے اسلام آباد سے تہران کے لیے روانگی اختیار کی۔

    واضح رہے کہ امریکا اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد فضائی سروس کی معطلی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، تاہم پروازوں کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

  • حق مہر میں عمرہ یا حج کی ادائیگی کی شرط شامل کرواؤں گی،حنا طارق

    حق مہر میں عمرہ یا حج کی ادائیگی کی شرط شامل کرواؤں گی،حنا طارق

    لاہور: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ حنا طارق نے نکاح اور حق مہر سے متعلق اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی شادی کے وقت نکاح نامہ نہ صرف خود پڑھیں گی بلکہ حق مہر کی شرائط بھی اپنی مرضی سے درج کروائیں گی۔

    حنا طارق ان دنوں ڈرامہ سیریل رحمت میں ’پریشے‘ کے کردار کے ذریعے ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کر رہی ہیں، جہاں ان کی اداکاری کو خوب سراہا جا رہا ہے۔حال ہی میں ایک یوٹیوب پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ نے سماجی اور ذاتی معاملات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے نکاح نامے کو مکمل طور پر پڑھنے کو ضروری سمجھتی ہیں اور اس میں اپنی شرائط شامل کروانا اپنا حق تصور کرتی ہیں۔حق مہر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حنا طارق کا کہنا تھا کہ ان کی دیرینہ خواہش ہے کہ وہ اپنے حق مہر میں عمرہ یا حج کی ادائیگی کی شرط شامل کروائیں۔ انہوں نے کہا، “مجھے پیسے نہیں بلکہ یہ خواہش عزیز ہے کہ مجھے مقدس مقامات کی زیارت نصیب ہو۔”گفتگو کے دوران انہوں نے خود کو فیمنسٹ کہلوانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’لعنت‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو اپنے حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے اور اہم فیصلوں میں خود مختار ہونا ضروری ہے۔

    اداکارہ نے معاشرتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل نوجوان نسل کے رویوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب لڑکے اور لڑکیاں اپنے شریک حیات کے ماضی کے بارے میں زیادہ سوالات نہیں کرتے اور طلاق جیسے معاملات کو بھی پہلے کی نسبت کم اہمیت دی جاتی ہے۔

  • فارن فنڈنگ کیس،عمران خان کے وکیل کا دوران سماعت چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ

    فارن فنڈنگ کیس،عمران خان کے وکیل کا دوران سماعت چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ

    فارن فنڈنگ کیس میں دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا چالان جمعرات کو بھی عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا اور عدالت کو بتایا گیا کہ رجسٹرار بینکنگ کورٹ کی جانب سے چالان کی اسکروٹنی جاری ہے،دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل نے چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ دیا اور کہا چیٹ جی پی ٹی کہتا ہے رجسٹرار کیس کے چالان کی اسکروٹنی نہیں کرسکتا، یہ کون سا کیس ہے جس میں اسکروٹنی رجسٹرار کررہا ہے، پراسیکیوٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا شاید انہیں معلوم نہیں خصوصی عدالتوں میں چالان کی اسکروٹنی رجسٹرار ہی کرتا ہے، یہ اگر چیٹ جی پی ٹی کا کہہ رہے ہیں تو وہ انہیں کیا جواب دیں،عدالت نے دو ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرکے سماعت 11 مئی تک ملتوی کردی۔

  • تجاوزات کے خلاف کاروائی،اسلام آباد کلب اور گن اینڈ کنٹری کلب کی دستاویزات کی چھان بین

    تجاوزات کے خلاف کاروائی،اسلام آباد کلب اور گن اینڈ کنٹری کلب کی دستاویزات کی چھان بین

    وفاقی دارالحکومت میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم نے اب اشرافیہ کے مراکز کا رخ کر لیا، جہاں حکام نے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی بالاتر نہیں۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد کلب کے تقریباً 52 کنال رقبے کو جانچ پڑتال کے دائرے میں لایا گیا ہے، جہاں زمین کے استعمال اور الاٹمنٹ سے متعلق دستاویزات کی چھان بین جاری ہے۔ اسی طرح گنز اینڈ کنٹری کلب کا 252 کنال وسیع رقبہ بھی حکام کی نظر میں آ گیا ہے، جس کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ زمین نہ تو باضابطہ لیز پر ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی الاٹمنٹ موجود ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انسدادِ تجاوزات آپریشن بلا امتیاز جاری رہے گا اور کسی بھی ادارے یا شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ حکام کے مطابق سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، چاہے اس کا تعلق عام افراد سے ہو یا بااثر حلقوں سے۔

    علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انسدادِ تجاوزات آپریشن کی نگرانی کی، جس کے دوران کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے گرین بیلٹ پر قائم ایف سی کیمپ آفس کو مسمار کر دیا، بظاہر دیگر قابضین کو سخت پیغام دینے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا،وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے۔ کارروائی کے دوران میریٹ ہوٹل اور ایوب چوک کے قریب گرین بیلٹ پر قائم ایف سی کیمپ آفس کو بھی گرا دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق یہ آپریشن وزیر داخلہ محسن نقوی کی نگرانی میں کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو بغیر کسی دباؤ اور امتیاز کے ختم کیا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف سی کیمپ آفس کے لیے متبادل قانونی جگہ فراہم کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تجاوزات اور لینڈ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، اور کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو ریاستی زمین پر قبضہ یا تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا اور تجاوزات کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف بھی موجود تھے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کلب تقریباً 52 کنال اراضی پر غیر قانونی قبضے میں ہے، تاہم کلب انتظامیہ اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے سی ڈی اے سے رابطے میں ہے۔اسی طرح گن اینڈ کنٹری کلب، جو 252 کنال پر قائم ہے، کے پاس بھی سی ڈی اے کی جانب سے کوئی الاٹمنٹ یا لیز دستاویز موجود نہیں ہے۔

    حال ہی میں سی ڈی اے کے ایک افسر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سرکاری زمین واگزار کرانے کے لیے ان دونوں کلبوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔مزید برآں، سی ڈی اے کے اپنے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 40 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے زیر قبضہ 15 ہزار کنال امینٹی لینڈ موجود ہے۔ ان سوسائٹیز نے اپنے لے آؤٹ پلان جمع کراتے وقت یہ زمین سی ڈی اے کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔یہ امینٹی لینڈ سڑکوں، گرین بیلٹس، قبرستانوں، مساجد، اسکولوں اور پارکس کے لیے مختص تھی، تاہم کئی کیسز میں ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اس زمین پر رہائشی اور کمرشل پلاٹس بنا لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ قومی احتساب بیورو کی نظر میں بھی ہے۔اسی طرح متعدد نجی گھروں کے مالکان نے بھی مختلف سیکٹرز میں اپنے گیراج اور لان بڑھا کر گرین بیلٹس اور خالی اراضی پر تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔

    سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تجاوزات کے خلاف ادارے کی کارکردگی مؤثر رہی ہے، اور بری امام، سید پور اور بعض کچی آبادیوں میں بڑی مقدار میں سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق مارکیٹوں سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی آپریشن جاری ہے۔

  • شاہراہِ دستور پر قائم  کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاورخالی کرانے کے احکامات

    شاہراہِ دستور پر قائم کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاورخالی کرانے کے احکامات

    اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر واقع کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاور (ٹوئن ٹاورز) کو خالی کرانے کے لیے رات گئے اچانک کارروائی شروع کر دی گئی، جہاں رہائش پذیر افراد کو رات دو بجے نیند سے جگا کر عمارت صبح نو بجے تک خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی بھاری نفری عمارت میں پہنچی اور اہلکاروں نے ہر اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر مکینوں کو فوری انخلا کا حکم دیا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں انتہائی کم وقت دیا گیا، جس کے باعث شدید بے چینی اور اضطراب کی فضا پیدا ہو گئی۔

    یہ ٹاور طویل عرصے سے ایک متنازعہ منصوبہ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 2005 میں شاہراہِ دستور کی قیمتی 13 ایکڑ زمین ایک نجی کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی تھی، جس کا مقصد ایک لگژری ہوٹل کی تعمیر تھا۔ تاہم کمپنی نے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس تعمیر کر کے فروخت کر دیے۔ماضی میں اس منصوبے کو قانونی حیثیت بھی دی گئی تھی جب سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے اسے جائز قرار دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت کئی بااثر اور مالدار افراد کے فلیٹس بھی موجود ہیں۔
    تاہم حالیہ پیش رفت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس ٹاور کی لیز منسوخ کر دی ہے، جس کے بعد اس منصوبے کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا راستہ کھل گیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو خالی کرانے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ لیز منسوخی کے خلاف درخواست خارج کر دی جبکہ اپارٹمنٹ مالکان کی درخواستیں نمٹا دی گئیں۔ بی این پی کمپنی کی جانب سے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست کا مختصر فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سی ڈی اے نے ساڑھے 13 ایکڑ کا پلاٹ ہوٹل کیلئے نیلام کیا، بی این پی نامی کمپنی نے کچھ رقم دے کر قبضہ لیا اور ہوٹل کی جگہ لگژری فلیٹ بنا کر لوگوں کو بیچ دئیے سی ڈی اے نے لیز کی پوری رقم نہ ملنے پر پلاٹ کی لیز منسوخ کر دی، معاملہ سپریم کورٹ تک گیا اور مشروط طور پر لیز بحال ہو گئی۔ بعد میں بی این پی کمپنی نے سی ڈی اے کو پیسوں کے عوض کمرشل پلاٹ کی پیشکش کی، سی ڈی اے نے یہ پیشکش ٹھکرا کر لیز دوبارہ کینسل کر دی جس پر کمپنی نے پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔ سی ڈی اے کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے

  • یوم مزدور کے روز مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی،مزدور بدستورمسائل کا شکار

    یوم مزدور کے روز مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی،مزدور بدستورمسائل کا شکار

    اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یکم مئی کو یومِ مزدور بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے،ملک بھر میں مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی ہے، مزدور آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اور کم اجرت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔

    ملک کے مختلف شہروں میں مزدور تنظیموں کی جانب سے ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں مزدوروں کے حقوق، بہتر اجرت اور محفوظ کام کے ماحول کے مطالبات دہرائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں مزدور آج بھی اپنے عالمی دن پر چھٹی کے بغیر روزگار کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
    موجودہ معاشی حالات میں مہنگائی نے مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے،بجلی،گیس کے بلوں میں اضافے، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے مزدوروں کو مزید پریشان کر دیا ہے.

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ مزدور کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں محنت کشوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں اور ہنرمند افراد کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، بہتر اجرت اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ہر مزدور کو اس کا جائز حق مل سکے.

  • وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقارِ پاکستان: عسکری و سفارتی ہم آہنگی کا ثمر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اندرونی کمزوریاں، بیرونی کامیابیاں ، سمت کا تعین ضروری
    حکمرانی کا کڑا امتحان: دعووں سے آگے بڑھنے کا وقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان: عالمی وقار سے عوامی بہبود تک، ایک سنجیدہ جائزہ
    حالیہ برسوں میں پاکستان کے عالمی وقار میں جو بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور مختلف عالمی معاملات میں اس کی شرکت اور مؤثر سفارت کاری کو سراہا جا رہا ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا بڑا سہرا پاکستان کی عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ کو جاتا ہے، جنہوں نے نہایت تدبر اور حکمت عملی سے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا اور اس کے وقار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تاہم، کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ اس کی داخلی صورتحال ہوتی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان—میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ تنوع جمہوریت کی خوبصورتی تو ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسے شعبے وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ استوار ہوتا ہے۔

    بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر پالیسیوں سے زیادہ بیانات پر زور دیا جاتا ہے، اور عملی اقدامات میں تسلسل کی کمی نظر آتی ہے۔ ترقی کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس حکمت عملی، مستقل مزاجی اور نتائج پر مبنی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ عوام اب نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں؛ وہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائے۔

    بیوروکریسی، جو ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہے، اس سے بھی عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ایک فعال، ایماندار اور وقت کا پابند سرکاری نظام ہی عوامی مسائل کے حل کو ممکن بنا سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی اداروں میں تاخیر، غیر سنجیدگی اور روایتی سستی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کی ادارہ جاتی مضبوطی اور وقت کی سخت پابندی میں پوشیدہ ہے۔

    عوامی اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمران اور ادارے اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال کریں۔
    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ان وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے اور شفافیت، میرٹ اور دیانتداری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان ایک عظیم صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، جس کے پاس آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والے وقار کو داخلی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر حکومت، بیوروکریسی اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خلوص اور دیانتداری سے ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔

  • نجی ہاؤسنگ سوسائٹی غریب مزدور کے 32 لاکھ کھا۔ گئی،پلاٹ پھر بھی نا دیا

    نجی ہاؤسنگ سوسائٹی غریب مزدور کے 32 لاکھ کھا۔ گئی،پلاٹ پھر بھی نا دیا

    لاہور
    نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کو ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف درخواست موصول
    نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (NAB) کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف مبینہ فراڈ کی درخواست موصول ہوئی ہے جس میں شہری محمد عاصم ولد محمد اسماعیل نے سنگین الزامات عائد کئے ہیں
    درخواست گزار کے مطابق اس نے نومبر 2021 میں زیتون سٹی ہاؤسنگ سکیم، لاہور میں 5 مرلہ کا رہائشی پلاٹ فائل نمبر ZR-00826-05-RS خریدا جس کے عوض اس نے 3,173,630 روپے ادا کیے ہیں شہری کا کہنا ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود نہ تو اسے پلاٹ دیا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی ہے
    درخواست میں مذید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ سوسائٹی کے ذمہ داران کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے جبکہ درخواست گزار کے مطابق وہ مزدور پیشہ ہے اور اپنی جمع پونجی اس منصوبے میں لگا چکا ہے
    شہری نے نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ زیتون سٹی کی انتظامیہ کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور اس کی رقم واپس دلوائی جائے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے
    درخواست گزار نے انصاف کی فراہمی کے لیے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے