اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک بھر میں دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کو ملک کا قیمتی قومی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم پر سرمایہ کاری ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ مظفرآباد میں بھی اس کا جدید ٹیک کیمپس قائم کیا جائے تاکہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں زیر تعمیر تمام دانش اسکولوں کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے تاکہ طلبہ کو بروقت معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دانش اسکولوں کی عمارتوں کے ڈیزائن میں ہر علاقے کی مقامی ثقافت، روایات اور جغرافیائی خصوصیات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ یہ ادارے اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مقامی ماحول سے ہم آہنگ ہوں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی میں اساتذہ اور دیگر عملے کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور اس عمل میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے پر وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 27 دانش اسکولوں اور اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ بریفنگ کے مطابق اسلام آباد کے کرسچین دانش اسکول کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جہاں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ باغ، بھمبر، سلطان آباد، گانچھے اور استور میں زیر تعمیر دانش اسکول تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور وہاں اپریل 2027 سے باقاعدہ کلاسز شروع کر دی جائیں گی۔ اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ دانش یونیورسٹی کے لیے تدریسی عملے کی بھرتی کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ 2027 میں یونیورسٹی میں تدریس کا آغاز کیا جائے گا۔ یونیورسٹی میں داخلے ملک بھر سے میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے، جن میں پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو خصوصی ترجیح دی جائے گی تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزیراعظم کی ملک بھر میں دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کے منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت
