Baaghi TV

Blog

  • طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق اور معاشرے کا دوہرا معیار،تحریر: ریحانہ جدون

    طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔

    طلاق ایک تلخ حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ اس فیصلے کا سارا بوجھ صرف عورت کے حصے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ طلاق مرد دیتا ہے، مگر طلاق یافتہ کا لیبل عورت کے ماتھے کا ایسا داغ بنا دیا جاتا ہے جو مٹائے نہیں مٹتا۔اور تو اور ستم ظریفی دیکھیں کہ طلاق کی وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں، انگلیاں ہمیشہ عورت پر ہی اٹھتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مرد نے کیا کیا؟ یا مرد کے وہ کیا رویے تھے جنھوں نے بات یہاں تک پہنچائی؟

    مرد سے سوال کرنا جیسے معاشرے میں منع ہے۔

    طلاق کے بعد مرد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا آسان بنا دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کو قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہوگئی ہے۔ اسے ایک اچھی بیوی، ایک اچھی ساتھی نہ بن پانے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا رشتہ نبھانے کی ساری ذمہ داری صرف اسی کی تھی۔

    یہ رویہ نہ صرف عورت کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اسے سماجی طور پر بھی تنہا کردیتا ہے۔

    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کسی کے لیے، کسی بھی طرح خوشی کا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے جس کے بعد ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ مزید اس انسان کو ملامت کیا جائے۔۔۔ جب اسے بار بار ملامت کیا جائے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کو ایک ناکام انسان ہی سمجھنے لگتا ہے اور کئی زندگیاں اس ڈپریشن کی نذر ہوگئی ۔۔

    ہمارے معاشرے کا یہ ایک تلخ پہلو ہے کہ طلاق کا سارا ملبہ اور سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ رشتہ دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسکے ختم ہونے کی ذمہ داری بھی کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عورت کو اس کے ماضی کے بجائے اس کی ہمت اور شخصیت سے پہچانیں، نہ کہ کسی ایک لفظ سے جو اس کی زندگی کا کل اثاثہ نہیں۔

  • ایران کے ساتھ جاری تنازع جنگ بندی کے بعد مؤثر طور پر ختم : ٹرمپ انتظامیہ

    ایران کے ساتھ جاری تنازع جنگ بندی کے بعد مؤثر طور پر ختم : ٹرمپ انتظامیہ

    واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع جنگ بندی کے بعد مؤثر طور پر ختم ہو چکا ہے، اس لیے مزید فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار نہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد کسی قسم کی براہ راست لڑائی نہیں ہوئی، جس کے باعث اس تنازع کو ختم تصور کیا جا سکتا ہے۔
    ‎انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں وار پاورز ریزولوشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ جنگ بندی کے بعد کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں ہوئی، اس لیے کانگریس سے اضافی اجازت لینے کی ضرورت نہیں رہی۔ دو سینئر امریکی عہدیداروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ بندی کے بعد براہ راست محاذ آرائی نہ ہونے کے باعث تنازع کو ختم سمجھا جا رہا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ وار پاورز ریزولوشن کے تحت کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے، اور یہ مدت حال ہی میں ختم ہو چکی ہے۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ شرط لاگو نہیں ہوتی۔
    ‎دوسری جانب امریکی سینیٹ نے چھٹی بار اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایران سے متعلق امریکی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں اس معاملے پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی اقدامات ایک حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

  • مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    مزدور ڈے پر بھی مزدور کی مزدوری ،تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یکم مئی کو “یومِ مزدور” بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ مگر ان سب رنگینیوں کے بیچ ایک حقیقت بڑی خاموشی سے کھڑی رہتی ہے: وہ مزدور جس کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے، وہ خود اس دن بھی مزدوری کر رہا ہوتا ہے۔

    یہ کیسا تضاد ہے کہ جس کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے، وہی شخص اس آواز کو سننے سے محروم رہتا ہے۔ اینٹیں اٹھاتا ہوا مزدور، سڑک پر پسینہ بہاتا محنت کش، کارخانوں میں مشینوں کے ساتھ جُھلا ہوا ہاتھ ، یہ سب آج بھی اپنی روزی کی تلاش میں ہوتے ہیں، چاہے کیلنڈر پر یکم مئی ہی کیوں نہ درج ہو،ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مزدور کی اجرت کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر اس کے زخموں کا مداوا نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ مزدور کی تنخواہ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اکثر کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی مزدور آج بھی اتنی اجرت سے محروم ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پورا کر پاتے ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ مزدور ڈے بھی ایک “تقریب” بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں چند بااثر افراد تقریریں کرتے ہیں، کیمرے چلتے ہیں، تالیاں بجتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر مزدور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ نہ اس کے حالات بدلتے ہیں، نہ اس کے بچوں کی تقدیر،اصل سوال یہ ہے کہ آخر کون ان کے حق میں آواز اٹھائے گا؟ کون ان کے پسینے کا اصل معاوضہ دلائے گا؟ اور کب تک مزدور صرف نعروں اور پوسٹروں کی زینت بنا رہے گا؟یہ وقت ہے کہ ہم مزدور ڈے کو صرف منانے کے بجائے سمجھیں۔ مزدور کو ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ اسے تقریر نہیں، حق چاہیے۔ جب تک اس کے ہاتھ کی محنت کو اس کا پورا حق نہیں ملتا، تب تک ہر یومِ مزدور ایک ادھورا دن ہی رہے گا۔

    مزدور وہ خاموش طاقت ہے جس پر معیشت کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر یہ ہاتھ رک جائیں تو دنیا کا پہیہ بھی رک جائے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو صرف یاد رکھنا چاہتے ہیں یا اسے اس کا اصل مقام بھی دینا چاہتے ہیں۔

  • حکومت پنجاب کا بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان

    حکومت پنجاب کا بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان

    حکومت پنجاب نے بسنت 2027 کے لیے نئے کائٹ فلائنگ قواعد و ضوابط کا اعلان کر دیا ہے، جن پر عملدرآمد کی آخری تاریخ 30 دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات لازم قرار دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت پتنگ بازی صرف محفوظ اور مضبوط چھتوں تک محدود ہوگی، جہاں کم از کم ساڑھے تین فٹ اونچی چار دیواری ضروری ہوگی۔ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے والدین کو سخت نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ بغیر نگرانی چھت کے کناروں کے قریب جانے پر پابندی ہوگی۔ چھتوں پر بھاگنے، کودنے، خطرناک انداز اپنانے اور گنجائش سے زیادہ افراد کے اجتماع پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔مزید برآں، پتنگ بازی کے دوران شور شرابہ، ڈی جے سسٹمز اور ہمسایوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے والی سرگرمیوں کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ہر مقام پر فرسٹ ایڈ کٹ کی دستیابی لازمی ہوگی، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 سے فوری رابطے کی ہدایت کی گئی ہے۔قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں عمارت مالکان اور ایونٹ منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ضوابط پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ بسنت خوشیوں کا تہوار ضرور ہے، مگر انسانی جانوں کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ ایک محفوظ اور ذمہ دار بسنت منائی جا سکے۔

  • 
پیٹرول مہنگا، ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ

    
پیٹرول مہنگا، ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ

    ‎پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں، تاجروں اور کاروباری طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مال بردار ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 5 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے ازخود تقریباً 4 فیصد کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ لاہور میں بھی مختلف شہروں کے لیے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جہاں انٹر سٹی روٹس پر 60 روپے سے لے کر 470 روپے تک کرایے بڑھا دیے گئے ہیں۔
    ‎ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گاڑیوں کو چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر اخراجات جیسے ٹیکسز اور چالان بھی بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
    ‎کراچی میں مال بردار ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ بڑھتی مہنگائی اور ڈیزل کی قیمتوں کے باعث کئی افراد اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ موجودہ حالات میں کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا۔
    ‎خیبر پختونخوا میں بھی ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پشاور سے راولپنڈی کے لیے ٹرک کا کرایہ 25 ہزار روپے سے بڑھ کر 35 ہزار روپے ہو گیا ہے جبکہ لاہور کے لیے یہی کرایہ 45 ہزار سے بڑھ کر 65 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور عام شہریوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

  • 
پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ خطرناک حد تک موجود، رپورٹ

    
پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ خطرناک حد تک موجود، رپورٹ

    ‎پاکستان میں بچوں کی صحت سے متعلق ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جہاں وزارت صحت اور یونیسیف کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق مختلف شہروں کے بچوں کے خون میں سیسہ کی خطرناک مقدار پائی گئی ہے۔ ماہرین نے اس صورتحال کو صحتِ عامہ کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ایک سے تین سال کی عمر کے ہر 10 میں سے 4 بچوں کے خون میں سیسہ موجود پایا گیا، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک شرح ہے۔ اس تحقیق کے لیے اسلام آباد، ہری پور، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی سمیت سات بڑے شہروں سے بچوں کے نمونے حاصل کیے گئے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہری پور کا صنعتی علاقہ حطار سامنے آیا جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ پایا گیا۔ اس کے برعکس اسلام آباد میں یہ شرح نسبتاً کم یعنی تقریباً ایک فیصد ریکارڈ کی گئی۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ سیسہ ایک زہریلا مادہ ہے جو بچوں کی دماغی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کی موجودگی زیادہ تر آلودہ ماحول، صنعتی فضلے، پینے کے پانی اور بعض پرانی اشیاء کے استعمال کے باعث ہوتی ہے۔
    ‎وزارت صحت اور یونیسیف نے اس صورتحال پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور آلودگی پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ والدین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھیں اور ممکنہ خطرات سے آگاہ رہیں۔
    ‎یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات براہ راست نئی نسل کی صحت پر پڑ رہے ہیں۔

  • کراچی،ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ”کا سرغنہ گرفتار

    کراچی،ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ”کا سرغنہ گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ) نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی سے ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث "پاپا گروہ” سے تعلق رکھنے والے ملزم نعمان احمد عرف پاپا (گروہ کا سرغنہ) ولد محمد ظہور احمد کو گرفتار کر لیا،گرفتار ملزم کے قبضے سے چھینے گئے 2 عدد موبائل فونز اور1 عدد موٹرسائیکل برآمد کر لی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شاہ فیصل کالونی، کورنگی، گلستان جوہر، ملیر اور ملحقہ علاقوں حتیٰ کہ پنجاب میں بھی ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم، فائرنگ، پولیس مقابلے، موٹرسائیکل اور موبائل فون چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔گرفتار ملزم تقریباً 200 سے 250 ڈکیتی کی مختلف وارداتوں، 40 سے 50 موٹرسائیکلیں، 300 سے 400 موبائل فونز اور تقریباً 50 سے 60 لاکھ روپے چھیننے میں ملوث ہے۔ گرفتار ملزم کے مطابق بھینس کالونی میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہوا اور شاہ فیصل کالونی میں پولیس مقابلے میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ گرفتار ملزم عادی مجرم ہے اور پنجاب میں بھی ڈکیتی کے الزام میں گرفتار ہو چکا ہے اس کے علاوہ گرفتار ملزم کے خلاف کراچی اور پنجاب کے کئی تھانوں میں مختلف نوعیت کی متعدد ایف آئی آرز درج ہیں۔ گرفتار ملزم کے دو ساتھی رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں جبکہ دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔گرفتار ملزم کو بمعہ برآمد شدہ سامان مزید قانونی کاروائی کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • محنت کشوں کو بااختیار بنانے کا خواب ضرور حقیقت بنے گا ،بلاول

    محنت کشوں کو بااختیار بنانے کا خواب ضرور حقیقت بنے گا ،بلاول

    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یومِ مزدور کے موقع پر پاکستان کے محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محنت کش قوم کی اصل طاقت اور ترقی و خوشحالی کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن اُن مزدوروں کو یاد کرنے کا ہے جنہوں نے اپنے غیرمتزلزل عزم سے معاشروں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

    اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کو بااختیار بنانے کا خواب ضرور حقیقت بنے گا اور پاکستان پیپلز پارٹی کا نظریہ محنت کش طبقے کے مقاصد سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا نظریہ محنت کے وقار، معاشی انصاف اور مساوی مواقع کے اصولوں پر مبنی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہیدذوالفقار علی بھٹو نے محنت کشوں کو شناخت، تحفظ اور قومی بیانیے میں آواز دے کر مزدور حقوق کے منظرنامے کو بدل دیا۔ جبکہ بینظیر بھٹو شہید نے ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے فلاحی ریاست کے تصور کو مضبوط کیا اور معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دیا،انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے مزدور دوست پالیسیوں کے ذریعے ان کامیابیوں کو مستحکم کیا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دی، جس سے خصوصاً محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بااختیار بنایا گیا،انہوں نے سندھ حکومت کے بینظیر مزدور کارڈ اور بینظیر ہاری کارڈ جیسے اقدامات کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں کے محنت کش بھی ایسی سہولیات تک مساوی رسائی کے حقدار ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد ایک مسلسل عمل ہے، خاص طور پر بدلتے ہوئے معاشی چیلنجز کے تناظر میں، اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے جہاں ہر فرد کو عزت دی جائے اور خوشحالی مساوی طور پر تقسیم ہو۔

  • سہیل آفریدی کیخلاف مہم ناکامی سے دوچارہو گی،بیرسٹر گوہر

    سہیل آفریدی کیخلاف مہم ناکامی سے دوچارہو گی،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم ناکامی سے دوچار ہوگی۔

    میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سہیل آفریدی کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کیا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھا رہے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ سہیل آفریدی کے خلاف مہم چلانے والے عناصر کو مایوسی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے اور پی ٹی آئی میں کسی قسم کا فارورڈ بلاک موجود نہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • ایل این جی کا جہاز  پاکستان پہنچ گیا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان

    ایل این جی کا جہاز پاکستان پہنچ گیا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کے مطابق گزشتہ روز ایل این جی گیس موصول ہو چکی ہے ،گیس موصول ہوتے ہی اب بجلی کی لوڈ منیجمنٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔آج سے 13 سے 14 دن پہلے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کا کہنا تھا کہ 13 اور 14 اپریل کو پانچ پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی ،17,18,19اپریل کو کوئی لوڈمنیجمنٹ نہیں ہوئی ،19 اپریل سے 29 اپریل تک لوڈ شیڈنگ کو دو سے ڈھائی گھنٹے تک محدود کر دیا گیا،آج سے 15 دن پہلے پریس کانفرنس کر کے وزارت کا موقف سامنے رکھا تھا ،بتایا تھا کہ لوڈ شیڈنگ ہماری کسی کوتاہی یا سسٹم کے نان فنکشنل یا پیداواری صلاحیت کے نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ،نواز شریف کے سابقہ دور میں ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا ،چھ سال بعد پھر سے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ،لوڈ شیڈنگ کی وجہ گیس کی کمی تھی جو امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے نہیں موصول ہو رہی تھی ،اگر ہم ڈیزل یا فرنس ائل سے یہ بجلی پیدا کرتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کی تمام ضروریات کو ختم کرتے ہیں تو یہ بجلی بہت مہنگی پڑتی ،مہنگی بجلی کی وجہ سے صارفین پر بوجھ پڑ سکتا تھا ،ڈیمز کے پانی کو ریلیز کرنا ارسا کی ضرورت ہے اور یہ صوبوں کی ضروریات پر منحصر ہے ،الحمدللہ اب پن بجلی سے بجلی کی پیداوار چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے ،پن بجلی کی پیداوار اس سے پہلے ایک ہزار میگا واٹ تک ہوا کرتی تھی ،دعا ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز پر قسم افت اور خرابی سے محفوظ رہیں ،موقع پر ہمیں مہنگی گیس خریدنی پڑی کیونکہ قطری گیس نہیں آرہی تھی ،جس طرح پہلے لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی امید ہے اب بھی ایسا نہیں ہوگا ،بعض حلقوں کی جانب سے غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں کہ ہمارے پاس بجلی کی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگا واٹ ہے ،یہ تاثر بالکل غلط ہے بجلی کی پیداوار 46 ہزار میگا واٹ نہیں بلکہ 32 ہزار میگا واٹ ہے ،سال کے مختلف دورانیوں میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اتار چڑھاؤ اتا رہتا ہے ،الحمدللہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے میں اللہ تعالی نے ہمیں سرخرو کیا ہے ،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہمیں مجبورا فرنس اور ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کو بھی چلانا پڑا ،ہماری پوری کوشش ہوگی کہ صارفین کو مہنگی بجلی سے محفوظ رکھا جائے ،بروقت اقدامات کی وجہ سے عوام کو ائندہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا