Baaghi TV

Blog

  • مون سون کے دوران لاہور ایئرپورٹ پر فضائی حفاظت کے خصوصی اقدامات نافذ

    مون سون کے دوران لاہور ایئرپورٹ پر فضائی حفاظت کے خصوصی اقدامات نافذ

    لاہور: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے مون سون سیزن کے دوران لاہور ایئرپورٹ پر فضائی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی آپریشنل اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

    اس حوالے سے جاری کیے گئے نوٹم میں پائلٹس کو پرندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی کے باعث غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔نوٹم کے مطابق حفاظتی اقدامات کے تحت 15 ستمبر تک روزانہ صبح 5 بج کر ایک منٹ سے 8 بجے تک ایئرپورٹ کی رن ویز معمول کی پروازوں کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔ اس دوران رن ویز پر برڈ ہیزرڈ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان عارضی آپریشنل اقدامات کے باعث شیڈول کمرشل پروازیں متبادل اوقات میں آپریٹ کی جائیں گی تاکہ مسافروں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

    پی اے اے نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ معمول کی پروازوں کے شیڈول میں عارضی ردوبدل کیا گیا ہے، تاہم کسی بھی ہنگامی صورتحال میں طیاروں کی لینڈنگ کی سہولت بدستور دستیاب رہے گی۔

  • کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوملک دشمن  بیرونی عناصر نے فنڈنگ کی، انٹیلیجنس رپورٹ

    کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوملک دشمن بیرونی عناصر نے فنڈنگ کی، انٹیلیجنس رپورٹ

    انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں "جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کو بیرونی عناصر اور پاکستانی ڈاسپورا کی فنڈنگ اور سرپرستی حاصل رہی۔ ایجنسیوں کے مطابق اس تحریک کا مقصد عوام کے حقوق کی آڑ میں انتشار پھیلانا اور پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچانا تھا، انٹیلی جنس تحقیقات کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر کالعدم کمیٹی کے فنڈنگ نیٹ ورک کا سراغ لگایا اور راولاکوٹ سمیت دیگر علاقوں سے ملزمان گرفتار کیے جو بیرون ملک سے مالی معاونت وصول کر رہے تھے۔

    حکومت کو پیش کی گئی انٹیلیجنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو دشمن انٹیلیجنس ایجنسیوں سمیت بیرونی عناصر نے بالخصوص برطانیہ اور یورپ میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے اس تحریک کو مالی، تنظیمی اور تشہیری معاونت فراہم کی،جس کا مقصد کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنا، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور خطے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، ابتدا میں عوامی معاشی مطالبات پر مبنی یہ تحریک بعد میں آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والی سیاسی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس میں قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے اور انتخابات میں پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے جیسے مطالبات بھی شامل کیے گئے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرنے والوں کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔

    انٹیلیجنس رپورٹ میں تحریک کے 2 بڑے احتجاجی مراحل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق مئی 2024 کے لانگ مارچ کے بعد حکومت نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دیا، تاہم احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا، جس کے نتیجے میں ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار شہید اور 3 شہری جاں بحق ہوئے،بعد ازاں ستمبر اور اکتوبر 2025 میں ہونے والے دوسرے لانگ مارچ کے دوران 7 شہری اور 3 اہلکار جان سے گئے، جس کے بعد وفاقی حکومت کی ثالثی میں 4 اکتوبر 2025 کو معاہدہ طے پایا۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کی بیشتر شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے یا جاری ہے، تاہم ایکشن کمیٹی نے بعد میں اپنے مطالبات تبدیل کر دیے9 جون کے احتجاجی اعلان سے قبل پیدا ہونے والی کشیدگی اور پرتشدد جھڑپوں کے بعد جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار شہید اور 32 زخمی ہوئے، آزاد جموں و کشمیر حکومت نے انسداد دہشتگردی کے قوانین کے تحت ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا۔

    رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مظاہرین نے لاٹھیوں، پتھروں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جبکہ بعض احتجاجی مقامات پر عسکری پس منظر رکھنے والے افراد بھی موجود تھے برطا نیہ، جنیوا اور یورپی پارلیمنٹ سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی سفارتی مشنز کے سامنے احتجاجی مظاہرے منظم کیے گئے، جبکہ کشمیری قوم پرست گروہوں، تحریک انصاف کے بعض حامیوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بھارت نواز پلیٹ فارمز نے مربوط آن لائن مہم کے ذریعے ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو فروغ دیا واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے رابطے کیے گئے تاکہ احتجاج کو عالمی سطح پر نمایاں کوریج مل سکے اور آزاد کشمیر کو انسانی حقوق کے بحران کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

    رپورٹ میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کو ایکشن کمیٹی کے بیرون ملک سرگرم حامیوں میں شامل کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنظیم نے حالیہ احتجاج کو پاکستان کے انتظامی کردار کے خلاف اپنی بین الاقوامی مہم تیز کرنے کے لیے استعمال کیا برطانیہ اور یورپ میں مقیم بعض کاروباری شخصیات اور ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد نے غیر رسمی ہنڈی اور حوالہ نظام کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک کے آغاز میں بڑی تعداد میں عام شہری حقیقی معاشی مشکلات، مہنگی بجلی اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے لیے اس میں شریک ہوئے تھے، نہ کہ بعد میں سامنے آنے والے سیاسی ایجنڈے کی حمایت کے لیے کور کمیٹی کے بعض ارکان نے بھی تنظیم کی بدلتی سمت اور ریاستی اداروں کے خلا ف بیانات پر اختلاف کرتے ہوئے خود کو تحریک سے الگ کر لیا۔

    رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی گئی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھے، تاہم تشدد، بیرونی مالی معاونت، ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دشمن نیٹ ورکس سے مبینہ روابط رکھنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے کی مبینہ بیرونی کوششوں کا سدباب کیا جا سکے۔

  • مالی حالات اچھے نہیں،شوہر کوحکومت کی طرف سے ریڑھی نہیں دی گئی،خاتون ٹیچر انیلا

    مالی حالات اچھے نہیں،شوہر کوحکومت کی طرف سے ریڑھی نہیں دی گئی،خاتون ٹیچر انیلا

    لاہور: کاہنہ میں گزشتہ روز چھت گرنے کا معاملہ،خاتون ٹیچر انیلا لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،خاتون ٹیچر انیلا کا کہنا تھا کہ میرے مالی حالات اچھے نہیں ہیں جس کی وجہ سے ٹیوشن پڑھاتی ہوں،

    انیلاکا کہنا تھا کہ میرے شوہر کو سی ایم پنجاب مریم نواز سے فروٹ والی ریڑھی نہیں دی گئی،میرا شوہر منڈی کے پاس ریڑھی لگاتے ہیں، میں دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہوں،مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے ٹیوشن میں آتے ہیں، گذشتہ روز 20 سے 22 بچے آئے تھے،بارش سے چھت ٹپکتی تھی جس کی وجہ سے مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا،مجھے نہیں پتہ تھا کہ چھت گر جائے گی،میں خود بھی ملبے کے نیچے دبی ہوں، میری بیٹی بھی،میری بیٹی کی حالت بہتر ہے، وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئی ہے لیکن میں اس سے ملی نہیں ہوں،یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی تازہ فہرستوں کا تبادلہ مکمل ہو گیا ہے

    پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ قونصلر رسائی معاہدے کے تحت قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ مکمل کر لیا گیا ذرائع کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنی تحویل میں موجود پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار کے حوالے کی۔ فہرست کے مطابق اس وقت بھارت کی مختلف جیلوں میں 735 پاکستانی قیدی موجود ہیں،آن پاکستانی قیدیوں میں 306 ماہی گیر جبکہ 447 دیگر قیدی شامل ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان نے بھی اپنے ملک میں موجود 250 بھارتی قیدیوں کی فہرست دفتر خارجہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار کے حوالے کر دی، یہ فہرستوں کا تبادلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت کیا گیا، جس کے مطابق دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی تازہ فہرستیں ایک دوسرے کے حوالے کرتے ہیں۔

  • شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، املاک کو نقصان، امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    گزشتہ شب لوئر چترال اور ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کے بعد مختلف مقامات پر اچانک سیلابی ریلے آنے سے گھروں، دکانوں، کھڑی فصلوں، مویشی خانوں اور رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا۔اطلاعات کے مطابق اٹانی،ایون برساتی نالہ غیر معمولی طغیانی کا شکار ہوا، جہاں ایک مسجد، ایک دکان، دو گائیں اور دو موٹر سائیکلیں سیلابی ریلے کی نذر ہو گئیں۔دروش کے علاقوں اوسائیک اور لوٹگولے سمیت بروز، سین کوڑوم اور گولدہ میں بھی سیلابی ریلوں سے متعدد مکانات اور املاک متاثر ہوئیں جبکہ بعض مقامات پر آمدورفت عارضی طور پر معطل رہی۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجدعلی یوسفزئی کی نگرانی میں رات بھر امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں کی نگرانی میں مصروف رہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے بند سڑکوں کی بحالی کا کام جاری رکھا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ شہریوں سے خراب موسم میں احتیاط اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی گئی ہے۔
    رپورٹ،فتح اللہ

  • جلاؤ گھیراؤ  منفی رویہ، اس سے اجتناب ضروری ہے،سحر کامران

    جلاؤ گھیراؤ منفی رویہ، اس سے اجتناب ضروری ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما،رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ حکومتی معیار کے مطابق ماہانہ 8,483 روپے سے زیادہ کمانے والا شخص غریب نہیں سمجھا جائے گا،ناقابلِ فہم اور حقیقت کے منافی ہے۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ ایک طرف ایف بی آرریونیو جنریشن میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے اور شارٹ فال پورا کرنے کے لیے عوام پر روز نئے ٹیکس، فکسڈ چارجرز، پیٹرولیم اور کاربن لیوی لگائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف وزیر خزانہ کا شاہانہ انداز عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر وزیر اعظم ہاؤس، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ملازمین کو 6 مہینے کی تنخواہ کے برابر رقم بطور اعزازیہ دی جا رہی ہے۔ شاید خود حکومتی اراکین بھی اس کی تائید نہ کر سکیں۔

    سحر کامران کا نجی ٹی وی پروگرام میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ضرور ہے، لیکن جب بات عوام کے مفاد کی آتی ہے تو ہم اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرتے ہیں اور بہتری کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ سسٹم کی خرابیوں کو دور کر کے درستگی کی راہ اپنائے۔گرین انیشیٹو کے نام پر ہزاروں ایکڑ زمین کارپوریٹ سیکٹر کو دے دی گئی، مگر زیادہ تر زمین آباد نہیں ہو سکی۔ اگر یہی زمین چھوٹے اور بے زمین کسانوں میں تقسیم کر دی جاتی تو نتائج کہیں بہتر ہوتے۔اسی طرح ایس آئی ایف سی سے بڑی توقعات تھیں، اس کے لیے اعلیٰ سطح پر بہت کاوشیں کی گئیں۔ ایم او یو ضرور سائن ہوئے، مگر حقیقی سرمایہ کاری محدود رہی، اس کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کر کے تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔

    سحر کامران کامزید کہنا تھا کہ اختلاف رائے اور احتجاج جمہوری روایات کے مطابق ہونے چاہییں۔ جلاؤ گھیراؤ ایک منفی رویہ ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ تمام مراعات تو حاصل کرتے ہیں، مگر اپنی حقیقی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔ انہیں چاہیے کہ صرف تقریروں اور احتجاج تک محدود رہنے کی بجائے قائمہ کمیٹیوں میں شرکت کر کے مثبت کردار ادا کریں۔

  • اجے دیوگن کی فلم چوہان کا ٹیزر جاری ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا

    اجے دیوگن کی فلم چوہان کا ٹیزر جاری ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا

    بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کی آنے والی فلم چوہان کا ٹیزر جاری ہونے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

    ٹیزر میں ایک نوجوان کو احتجاج کے دوران آنکھوں میں پیلٹ لگتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ پس منظر میں اجے دیوگن کی آواز سنائی دیتی ہے، جس میں ان چوٹوں کو محدود نقصان (Limited Damage) قرار دیا جاتا ہے،یہ مکالمہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

    سوشل میڈیا صارفین انسانی حقوق کے حامیوں اور کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں نے ٹیزر کو مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کے زخموں کو معمولی ظاہر کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ پیلٹ گن سے متاثر ہونے والے ہزاروں کشمیریوں کی تکالیف اور مستقل معذوری کو اس انداز میں پیش کرنا ناصرف حقائق کے منافی بلکہ متاثرین کی توہین کے مترادف ہے۔

    سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا ایک صارف نے لکھا پیلٹ گن کو محدود نقصان کہنا ان ہزاروں نوجوانوں کی تکلیف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جنہوں نے اپنی بینائی کھو دی کئی صارفین نے کہا کہ پیلٹ گن کے اثرات کو معمولی قرار دینا حقیقت کے برعکس ہےبعض صارفین نے فلم کو پروپیگنڈا فلم قرار دیتے ہوئے اس کے مقصد اور وقت پر بھی سوالات اٹھائے-

    رپورٹس کے مطابق 2010ء سے 2016ء کے درمیان مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار سے زائد افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے، جبکہ صرف جولائی سے اکتوبر 2016 کے دوران ہونے والے احتجاج میں تقریباً 6 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ ان میں سے 782 افراد کی آنکھوں پر پیلٹ لگے اور متعدد افراد ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔

  • فیصل آباد، مدرسے کے 15 سالہ طالب علم کا اندھا قتل، استاد سمیت 3 ملزمان گرفتار

    فیصل آباد، مدرسے کے 15 سالہ طالب علم کا اندھا قتل، استاد سمیت 3 ملزمان گرفتار

    ​فیصل آباد ، تھانہ بٹالہ کالونی کے علاقے بوٹا چوک میں مدرسہ کے 15 سالہ طالب علم شعیب کے اندھے قتل کا معمہ حل ہو گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مدرسے کے استاد رفاقت اور دو طالب علموں ریحان اور عرفان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ​تفصیلات کے مطابق مقتول شعیب دو روز قبل لاپتہ ہوا تھا، جس کی نعش بورے میں بند کر کے سائیکل پر لے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موصول ہوئی تھی۔ سی پی او تنویر حسین کے نوٹس پر قائم خصوصی ٹیم نے ٹیکنیکل وسائل کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا۔​دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ استاد رفاقت علی بچوں سے بدفعلی میں ملوث تھا اور اسے ڈر تھا کہ ذہین طالب علم شعیب اس کا پول نہ کھول دے۔ رفاقت نے شعیب سے حسد رکھنے والے دیگر دو طالب علموں کو اکسایا، جنہوں نے شعیب کو گلا دبا کر قتل کیا اور نعش نالے میں پھینک دی۔ سی پی او فیصل آباد کا کہنا ہے کہ مقدمے کا چالان مکمل کر کے سفاک ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

  • پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔رانا مشہود احمد

    پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔رانا مشہود احمد

    اسلام آباد: چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے، فنی تربیت فراہم کرنے اور انہیں عالمی روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے، جبکہ مالی سال کے بجٹ میں نوجوانوں سے متعلق منصوبوں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد نے کہا کہ پاکستانی میڈیا دنیا بھر میں ملک کی مثبت تصویر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مختلف پروگرامز پر عمل پیرا ہے اور انہیں جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی فنی تربیت کے لیے نیوٹیک کو تاریخی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ رواں سال آئی ٹی، سافٹ اسکلز اور ایتھیکل ٹریننگ کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سعودی عرب، خلیجی ممالک، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ، کینیڈا اور امریکہ میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔

    رانا مشہود احمد نے بتایا کہ رواں سال 17 سے 18 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دے کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تمام منصوبوں کے لیے بجٹ میں خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور کاروبار کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مرحلے میں 280 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، جبکہ کامن ویلتھ کی ایک اسٹڈی کے مطابق اس اسکیم سے 9 لاکھ سے زائد ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال اس اسکیم کے لیے 265 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے 12 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

    چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا متوازن بجٹ پیش کیا ہے، جس میں صنعت، ایس ایم ایز، کاٹیج انڈسٹری سمیت تمام شعبوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2027 پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا مشہود احمد نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر جرات مندانہ مؤقف اپنایا ہے اور بھارت کی آبی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا پاکستان اپنے قومی حقوق کے دفاع کے لیے بھرپور انداز میں کھڑا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بحران کے دوران حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی فراہم کی، جبکہ حکومت کی تمام پالیسیوں کا مقصد معاشی استحکام، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور نوجوانوں کو قومی ترقی کا فعال حصہ بنانا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔

  • جگن کاظم  سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں پر برس پڑیں

    جگن کاظم سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں پر برس پڑیں

    جگن کاظم سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں پر برس پڑیں-

    جگن کاظم اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ نتھیا گلی کی سیر پر ہیں سفر کے دوران انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں جگن کاظم نے کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ لوگ ہر جگہ کچرا پھیلا رہے ہیں میں جب سے نتھیا گلی آئی ہوں، ہر طرف گندگی ہی نظر آ رہی ہے آپ خود بھی یہ صورتحال دیکھ سکتے ہیں آخر لوگ اپنے ساتھ ایک تھیلا کیوں نہیں رکھتے تاکہ اپنا کچرا اس میں جمع کریں اور مناسب جگہ پر جا کر تلف کریں؟-

    انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں عام طور پر اس انداز میں بات نہیں کرتی لیکن یہ واقعی ناقابلِ برداشت ہے پھر ہم اپنے ہی ملک کو برا بھلا کہتے ہیں آخر ہم اپنے شہروں اور سیاحتی مقامات کو صاف کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ہم ہمیشہ نظام، موسم اور قدرتی حالات پر تنقید کرتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے،ماحولیاتی تبدیلیو ں کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم ماحول اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان خوبصورت نعمتوں کی حفاظت نہیں کر رہے۔

    سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے ماحول کے تحفظ سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے پر جگن کاظم کی تعریف کی جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھی دیگر ممالک کی طرح عوامی مقامات پر مناسب تعداد میں ڈسٹ بنز نصب کرنے چاہئیں تاکہ صفائی برقرار رکھنے میں شہریوں کو سہولت میسر آ سکے۔