پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما،رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ حکومتی معیار کے مطابق ماہانہ 8,483 روپے سے زیادہ کمانے والا شخص غریب نہیں سمجھا جائے گا،ناقابلِ فہم اور حقیقت کے منافی ہے۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ ایک طرف ایف بی آرریونیو جنریشن میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے اور شارٹ فال پورا کرنے کے لیے عوام پر روز نئے ٹیکس، فکسڈ چارجرز، پیٹرولیم اور کاربن لیوی لگائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف وزیر خزانہ کا شاہانہ انداز عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر وزیر اعظم ہاؤس، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ملازمین کو 6 مہینے کی تنخواہ کے برابر رقم بطور اعزازیہ دی جا رہی ہے۔ شاید خود حکومتی اراکین بھی اس کی تائید نہ کر سکیں۔
سحر کامران کا نجی ٹی وی پروگرام میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ضرور ہے، لیکن جب بات عوام کے مفاد کی آتی ہے تو ہم اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرتے ہیں اور بہتری کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ سسٹم کی خرابیوں کو دور کر کے درستگی کی راہ اپنائے۔گرین انیشیٹو کے نام پر ہزاروں ایکڑ زمین کارپوریٹ سیکٹر کو دے دی گئی، مگر زیادہ تر زمین آباد نہیں ہو سکی۔ اگر یہی زمین چھوٹے اور بے زمین کسانوں میں تقسیم کر دی جاتی تو نتائج کہیں بہتر ہوتے۔اسی طرح ایس آئی ایف سی سے بڑی توقعات تھیں، اس کے لیے اعلیٰ سطح پر بہت کاوشیں کی گئیں۔ ایم او یو ضرور سائن ہوئے، مگر حقیقی سرمایہ کاری محدود رہی، اس کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کر کے تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔
سحر کامران کامزید کہنا تھا کہ اختلاف رائے اور احتجاج جمہوری روایات کے مطابق ہونے چاہییں۔ جلاؤ گھیراؤ ایک منفی رویہ ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ تمام مراعات تو حاصل کرتے ہیں، مگر اپنی حقیقی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔ انہیں چاہیے کہ صرف تقریروں اور احتجاج تک محدود رہنے کی بجائے قائمہ کمیٹیوں میں شرکت کر کے مثبت کردار ادا کریں۔
