Baaghi TV

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوملک دشمن بیرونی عناصر نے فنڈنگ کی، انٹیلیجنس رپورٹ

kashmir

انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں "جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کو بیرونی عناصر اور پاکستانی ڈاسپورا کی فنڈنگ اور سرپرستی حاصل رہی۔ ایجنسیوں کے مطابق اس تحریک کا مقصد عوام کے حقوق کی آڑ میں انتشار پھیلانا اور پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچانا تھا، انٹیلی جنس تحقیقات کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر کالعدم کمیٹی کے فنڈنگ نیٹ ورک کا سراغ لگایا اور راولاکوٹ سمیت دیگر علاقوں سے ملزمان گرفتار کیے جو بیرون ملک سے مالی معاونت وصول کر رہے تھے۔

حکومت کو پیش کی گئی انٹیلیجنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو دشمن انٹیلیجنس ایجنسیوں سمیت بیرونی عناصر نے بالخصوص برطانیہ اور یورپ میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے اس تحریک کو مالی، تنظیمی اور تشہیری معاونت فراہم کی،جس کا مقصد کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنا، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور خطے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، ابتدا میں عوامی معاشی مطالبات پر مبنی یہ تحریک بعد میں آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والی سیاسی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس میں قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے اور انتخابات میں پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے جیسے مطالبات بھی شامل کیے گئے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرنے والوں کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔

انٹیلیجنس رپورٹ میں تحریک کے 2 بڑے احتجاجی مراحل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق مئی 2024 کے لانگ مارچ کے بعد حکومت نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دیا، تاہم احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا، جس کے نتیجے میں ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار شہید اور 3 شہری جاں بحق ہوئے،بعد ازاں ستمبر اور اکتوبر 2025 میں ہونے والے دوسرے لانگ مارچ کے دوران 7 شہری اور 3 اہلکار جان سے گئے، جس کے بعد وفاقی حکومت کی ثالثی میں 4 اکتوبر 2025 کو معاہدہ طے پایا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کی بیشتر شقوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے یا جاری ہے، تاہم ایکشن کمیٹی نے بعد میں اپنے مطالبات تبدیل کر دیے9 جون کے احتجاجی اعلان سے قبل پیدا ہونے والی کشیدگی اور پرتشدد جھڑپوں کے بعد جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار شہید اور 32 زخمی ہوئے، آزاد جموں و کشمیر حکومت نے انسداد دہشتگردی کے قوانین کے تحت ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مظاہرین نے لاٹھیوں، پتھروں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جبکہ بعض احتجاجی مقامات پر عسکری پس منظر رکھنے والے افراد بھی موجود تھے برطا نیہ، جنیوا اور یورپی پارلیمنٹ سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی سفارتی مشنز کے سامنے احتجاجی مظاہرے منظم کیے گئے، جبکہ کشمیری قوم پرست گروہوں، تحریک انصاف کے بعض حامیوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بھارت نواز پلیٹ فارمز نے مربوط آن لائن مہم کے ذریعے ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو فروغ دیا واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے رابطے کیے گئے تاکہ احتجاج کو عالمی سطح پر نمایاں کوریج مل سکے اور آزاد کشمیر کو انسانی حقوق کے بحران کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

رپورٹ میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کو ایکشن کمیٹی کے بیرون ملک سرگرم حامیوں میں شامل کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنظیم نے حالیہ احتجاج کو پاکستان کے انتظامی کردار کے خلاف اپنی بین الاقوامی مہم تیز کرنے کے لیے استعمال کیا برطانیہ اور یورپ میں مقیم بعض کاروباری شخصیات اور ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد نے غیر رسمی ہنڈی اور حوالہ نظام کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک کے آغاز میں بڑی تعداد میں عام شہری حقیقی معاشی مشکلات، مہنگی بجلی اور آٹے کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے لیے اس میں شریک ہوئے تھے، نہ کہ بعد میں سامنے آنے والے سیاسی ایجنڈے کی حمایت کے لیے کور کمیٹی کے بعض ارکان نے بھی تنظیم کی بدلتی سمت اور ریاستی اداروں کے خلا ف بیانات پر اختلاف کرتے ہوئے خود کو تحریک سے الگ کر لیا۔

رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی گئی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھے، تاہم تشدد، بیرونی مالی معاونت، ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دشمن نیٹ ورکس سے مبینہ روابط رکھنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے کی مبینہ بیرونی کوششوں کا سدباب کیا جا سکے۔

More posts