ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے اثرات براہ راست توانائی کی عالمی منڈیوں پر دیکھے جا رہے ہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور برینٹ کروڈ 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے، جو ایک اہم نفسیاتی حد سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے متاثر ہونے سے عالمی سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ آبی راستہ دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف توانائی کے شعبے کو متاثر کیا ہے بلکہ دیگر مالیاتی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
یورپی اسٹاک مارکیٹس شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اہم انڈیکسز میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایشیائی مارکیٹس میں ابتدا میں معمولی بہتری دیکھی گئی تاہم جلد ہی سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ دوبارہ مندی کی طرف چلی گئی۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں اس وقت شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو دنیا ایک نئی مہنگائی کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر زیادہ ہوں گے جہاں توانائی کی قیمتیں پہلے ہی عوام کے لیے بوجھ بنی ہوئی ہیں۔
Blog
-

ایران امریکا کشیدگی، تیل کی قیمت دوبارہ 95 ڈالر سے تجاوز
-

صادق خان کی پاکستان کی سفارتی کامیابی پر تعریف
میئر لندن صادق خان نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان نے نہایت اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ دونوں حریف ممالک پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔
لندن کے معروف ٹریفالگر اسکوائر میں بیساکھی میلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششیں نہ صرف قابل تعریف ہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے باعث فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جب دنیا کو امن کی اشد ضرورت ہے، پاکستان کا کردار امید کی ایک کرن بن کر سامنے آیا ہے۔
صادق خان نے اپنے خطاب میں ایک دلچسپ نکتہ بھی اٹھایا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو عام طور پر کسی کی تعریف نہیں کرتے، وہ بھی ان دنوں پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بات اس امر کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ چاہتے ہیں کہ موجودہ جنگ بندی مستقل شکل اختیار کرے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ -

نیتن یاہو کی مذمت، فوجی کی جانب سے مجسمہ حضرت عیسیٰ کی بے حرمتی پر ردعمل
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے کے ذریعے مجسمے پر وار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اور اسرائیل کی بڑی اکثریت اس واقعے پر دلی طور پر رنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کے اعلیٰ حکام اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں اور اس میں ملوث اہلکار کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل خود کو ایک ایسا ملک قرار دیتا ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو عبادت کی آزادی حاصل ہے اور اس اصول کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسرائیل اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد سے معذرت خواہ ہے۔ ان کے بیان کا مقصد عالمی سطح پر پیدا ہونے والی تشویش کو کم کرنا اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرنا تھا۔
دوسری جانب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے، اور اس طرح کے واقعات صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ -

بریک تھرو ہوا تو ایرانی قیادت سے ملنے کو تیار ہوں، ٹرمپ
مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ نیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران خود بات چیت اور ملاقات کا خواہاں ہو تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کوئی بھی “گیم” نہیں کھیل رہا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد واضح ہے اور امریکا کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اس شرط کو قبول کرتا ہے تو اس کے لیے ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔
امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا، جہاں متوقع طور پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مذاکراتی عمل میں نرمی اور ممکنہ پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر ملاقات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کوئی بھی “گیم” نہیں کھیل رہا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد واضح ہے اور امریکا کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اس شرط کو قبول کرتا ہے تو اس کے لیے ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔
امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا، جہاں متوقع طور پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مذاکراتی عمل میں نرمی اور ممکنہ پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر ملاقات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ -

لبنان اسرائیل مذاکرات امریکا ایران بات چیت سے الگ قرار
لبنان کے صدر جوزف عون نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کا امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن بات چیت یا کسی بھی دیگر سفارتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان اپنے قومی مفادات کے تحت آزادانہ طور پر مذاکرات کر رہا ہے اور اس عمل کو کسی بیرونی ایجنڈے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لبنانی صدر نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں لبنانی وفد کی قیادت سابق سفیر سائمن کرم کریں گے، جو امریکہ میں لبنان کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مشن میں نہ تو کوئی اور فرد شامل ہوگا اور نہ ہی سائمن کرم کی جگہ کوئی اور لے گا، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ لبنان اس معاملے میں واضح اور مستقل حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔
صدر جوزف عون کے مطابق ان مذاکرات کے بنیادی مقاصد میں خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کا خاتمہ، اور لبنان کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک اپنی فوج کی مکمل تعیناتی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام نکات لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کے مؤقف کو بخوبی سمجھتے ہیں اور مذاکرات کے اگلے دور کو ممکن بنانے میں معاونت فراہم کی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اس عمل میں بالواسطہ کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک موجود رہے گی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
صدر عون نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات لبنان کے لیے مثبت نتائج لائیں گے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ -

بھارت میں طیارہ حادثہ، پائلٹ سمیت دو افراد ہلاک
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ جان کی بازی ہار گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک دور دراز جنگلاتی علاقے میں پیش آیا جہاں رسائی مشکل ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں ابتدائی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ اچانک گر کر تباہ ہوا، تاہم حادثے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا، تاہم علاقے کی جغرافیائی پیچیدگیوں اور جنگلاتی راستوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔ اس کے باوجود ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو تحویل میں لے لیا اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے۔
حکام کے مطابق حادثے میں طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس سے جانی نقصان کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر فضائی سکیورٹی اور چھوٹے طیاروں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں ہنگامی رسائی محدود ہوتی ہے۔ -

ٹرمپ کے بیانات سے پہلے مارکیٹ میں مشکوک سرگرمیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران مالیاتی منڈیوں میں ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے جس نے ماہرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق بعض تاجر ٹرمپ کے اہم اعلانات یا بیانات سے کچھ ہی دیر پہلے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے دیکھے گئے، جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے مختلف عالمی مارکیٹوں کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ان کاروباری سرگرمیوں کا موازنہ صدر ٹرمپ کے اہم بیانات سے کیا گیا۔ اس تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ٹرمپ کے کسی انٹرویو یا سوشل میڈیا پوسٹ سے چند گھنٹے، اور بعض اوقات چند منٹ پہلے ہی مارکیٹ میں غیر معمولی سرگرمی بڑھ جاتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس پیٹرن نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ عام طور پر مارکیٹ اس طرح کے بڑے اتار چڑھاؤ کا شکار تب ہوتی ہے جب کوئی بڑی خبر سامنے آئے۔ لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس دیکھا گیا جہاں خبر آنے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت شروع ہو جاتی تھی۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ممکنہ طور پر ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاکہ غیر منصفانہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ ایسی سرگرمیاں دنیا بھر میں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں اور اس پر سخت قوانین موجود ہیں۔
تاہم دیگر ماہرین اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ تجربہ کار تاجر سیاسی ماحول اور ٹرمپ کے اندازِ سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اندازے لگا لیتے ہیں، جس کی بنیاد پر وہ مارکیٹ میں بروقت فیصلے کرتے ہیں۔ -

پوڈ کاسٹ میں نامناسب سوالات، میرا انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلی گئیں
پاکستانی اداکارہ میرا پوڈ کاسٹ میں پوچھے گئے ذاتی نوعیت کے سوالات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انٹرویو ادھورا چھوڑ کر چلی گئیں۔
پاکستانی اداکارہ میرا ان دنوں اپنی آنے والی فلم سائیکو کی تشہیر میں مصروف ہیں جو عیدالاضحیٰ پر ریلیز کی جائے گی جبکہ فلم میں شان شاہد مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں فلم کی پروموشن کے سلسلے میں وہ مختلف انٹرویوز اور پوڈکاسٹس میں شرکت کر رہی ہیں حال ہی میں وہ سینئر صحافی و تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئیں، جہاں ان سے ذاتی اور متنازع سوالات کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق میزبان کی جانب سے ماضی کی ذاتی زندگی اور افواہوں سے متعلق سوالات بار بار دہرائے گئے جس پر میرا نے گفتگو کو فلم کی طرف موڑ نے کی کوشش کی،تاہم میزبان نے حساس موضوعات کو جاری رکھاصورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب میزبان نے طنزیہ انداز اختیار کیا، جس پر میرا نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے انٹرویو ادھورا چھوڑ دیا۔
-

امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان متحرک
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جس سے خطے میں ایک اہم پیش رفت کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے ساتھ رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے اتوار کے روز سے امریکا اور ایران کے حکام کے ساتھ بیک چینل اور باضابطہ سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں۔ ان رابطوں کا مقصد دونوں ممالک کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا اور جاری تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہو۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ اگر مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات بڑھیں گے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے گا، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کی جائے اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن ہو۔ آنے والے دنوں میں ان سفارتی کوششوں کے نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ -

میگا پراجیکٹس کی راہ میں حائل سینکڑوں کھوکھوں کی مسماری کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع
لاہور سول کورٹ سے حکم امتناعی کی درخواست خارج، این ایچ اے نے تجاوزات فوری ہٹانے کے حتمی نوٹس آویزاں کر دیے
ترقیاتی منصوبے یا سینکڑوں خاندانوں کا معاشی قتل؟ متبادل جگہ کے تعین کے بغیر کھوکھا جات گرانے کے فیصلے سے بے چینی پھیل گئی
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان شہر کی تاریخ کے اہم ترین ترقیاتی منصوبے دو انڈر پاسز کی تعمیر کے سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی اراضی پر قائم 300 سے زائد کھوکھوں کی مسماری کا حتمی مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ گوجرخان انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ کھوکھا یونین کو قانونی محاذ پر بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔تفصیلات کے مطابق، العباس ٹریڈرز کی جانب سے لاہور سول کورٹ میں مسماری کے خلاف دائر کردہ حکم امتناعی کی درخواست خارج کر دی گئی ہے، جس کے بعد این ایچ اے حکام نے ایکشن لیتے ہوئے شہر بھر میں وارننگ نوٹسز آویزاں کر دیے ہیں۔نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت سے ریلیف ختم ہونے کے بعد اب تمام قابضین فی الفور این ایچ اے کے رائٹ آف وے میں قائم کھوکھے خود ہٹا لیں تاکہ میگا پراجیکٹ کا کام بلا تاخیر شروع کیا جا سکے۔ مقررہ وقت میں جگہ خالی نہ کرنے کی صورت میں گرینڈ آپریشن کے ذریعے تجاوزات مسمار کر دی جائیں گی اور مزاحمت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب اس فیصلے نے سینکڑوں دکانداروں اور ان سے وابستہ خاندانوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ متاثرہ دکانداروں کا موقف ہے کہ ان کھوکھوں سے ہزاروں افراد کا چولہا جل رہا ہے، یہ بے دخلی انہیں فاقہ کشی پر مجبور کر دے گی۔ اگرچہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کو کاروبار کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم تاحال کسی مخصوص مقام کا اعلان نہ ہونے کے باعث کھوکھا مالکان تذبذب کا شکار ہیں۔ شہر کے سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت اپنی جگہ، مگر انتظامیہ مسماری سے قبل متبادل جگہ کا پلان واضح کرے تاکہ غریب طبقے کا معاشی استحکام برقرار رہ سک