برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی، آئی آر جی سی کی کشتیوں سے آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی۔میری ٹائم ایجنسی نے مزید کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں آئل ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کم از کم دو تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جس دوران فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اطلاعات کے مطابق ایران نے اس اہم بحری راستے کو مختصر وقت کے لیے دوبارہ کھولنے کے بعد ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے باعث راستے پر دوبارہ پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔
برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب، عمان کے شمال مشرقی علاقے میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایک ٹینکر کے کپتان نے رپورٹ کیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی گن بوٹس نے ان کے جہاز کا تعاقب کیا اور فائرنگ کی۔تاہم حکام کے مطابق مذکورہ ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل جب بحری راستہ عارضی طور پر کھولا گیا تھا تو کئی جہاز دوبارہ شپنگ لین میں داخل ہوئے تھے، جسے جنگ شروع ہونے کے بعد جہازوں کی پہلی بڑی نقل و حرکت قرار دیا گیا تھا۔ لیکن تازہ کشیدگی کے بعد یہ قافلہ منتشر ہو گیا ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم کے مطابق حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں موجود بحری قافلہ منتشر ہو چکا ہے اور متعدد جہاز رک گئے یا واپس مڑ گئے ہیں۔دوسری جانب تجارتی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کی شہ رگ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
