اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن کورٹ ویسٹ میں اینکر پرسن جمیل فاروقی پر مبینہ تشدد اور غیر قانونی حراست کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد خاتون کو والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔تفصیلات کے مطابق طارق مسعود و دیگر کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی بیٹی عائشہ مسرت کو اس کے شوہر محمد جمیل الدین نے شادی کے بعد گھر میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے اور اسے والدین سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ خاتون کو جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔عدالت نے درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 15 اپریل کو بیلف مقرر کیا اور تھانہ گولڑہ شریف کو ہدایت دی کہ خواتین پولیس کی مدد سے خاتون کو 16 اپریل کو عدالت میں پیش کیا جائے۔گزشتہ روز سماعت کے دوران عائشہ مسرت کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے شوہر پر مسلسل ظلم و زیادتی اور والدین سے نہ ملنے دینے کا الزام عائد کیا۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وہ بالغ ہے اور اپنی مرضی سے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔عدالت نے خاتون کے بیان کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ وہ بالغ ہے اور اپنی آزاد مرضی سے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے، لہٰذا اسے والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ عدالت نے کیس نمٹا کر فائل ریکارڈ روم منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
اسلام آباد: تشدد کیس میں خاتون کو والدین کے ساتھ جانے کی اجازت

additional session court west Islamabad anchor person Jameel Farooqi case Baaghitvbhera خونی پل پر ایک اور حادثہ منڈی بہاوالدین کا رہائشی جاوید اقبال سکنہ جوہد منڈی بہاؤالدین سے اسلام آباد جارہا تھا court hearing updates court orders Pakistan domestic abuse case Islamabad domestic violence case Pakistan family dispute case harassment case Pakistan human rights Pakistan illegal detention case Islamabad court decision judicial decision Pakistan law and justice Pakistan legal news Pakistan legal proceedings Islamabad Pakistan court news police action Islamabad women protection laws Pakistan women rights Pakistan