Baaghi TV

Blog

  • امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل و گیس نیٹ ورک نشانے پر

    امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل و گیس نیٹ ورک نشانے پر

    امریکا کے محکمہ خزانہ نے آج ایران کے تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات سے منسلک دو درجن سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ تمام عناصر ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو محمد حسین شمخانی کے زیر انتظام چلایا جا رہا تھا۔محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی فہرست میں نو بحری جہاز شامل ہیں، جن میں خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس لے جانے والے ٹینکرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں قائم کئی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق محمد حسین شمخانی کے والد ایران کی اعلیٰ قیادت کے اہم سیاسی مشیر تھے، جو حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے،

    یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل پر تمام پابندیاں دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل تہران کو ایک ماہ کی عارضی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ ٹینکرز میں موجود ذخیرہ شدہ تیل فروخت کر سکے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن مزید سخت اقدامات کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا تیل خریدنے والے ممالک پر بھی "ثانوی پابندیاں” عائد کی جا سکتی ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شمخانی کے شپنگ نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل جولائی میں بھی امریکا نے اس نیٹ ورک سے وابستہ 115 سے زائد افراد، اداروں اور جہازوں پر وسیع پابندیاں عائد کی تھیں۔ماہرین کے مطابق نئی پابندیوں سے ایران کی توانائی برآمدات اور خطے میں معاشی سرگرمیوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے سرجن کا شرمناک کارنامہ غریب مریض کو ٹرخا دیا

    ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے سرجن کا شرمناک کارنامہ غریب مریض کو ٹرخا دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلتھ ویژن کی دھجیاں اڑ گئیں سرجری یہاں نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو یا میرے نجی کلینک 45 ہزار کا پیکج بھی بتا دیا
    بھاری تنخواہیں لینے والے ڈاکٹرز لٹیرے بن گئے وزیر اعلی، سیکرٹری ہیلتھ سے مسیحائی کے روپ میں چھپے قصاب کے خلاف فوری کارروائی کا عوامی مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان کے کمرہ نمبر 64 میں تعینات سرجن ڈاکٹر نے اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غریب مریض کی مجبوری کا سودا کر ڈالا۔ شرقی علاقے کے رہائشی ظہیر نامی شہری، جو جسم پر موجود ایک تکلیف دہ انفیکشن زدہ گلٹی کے علاج کے لیے ہسپتال پہنچا تھا، اسے ڈاکٹر نے یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ یہاں یہ سرجری نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو جبکہ ساتھ ہی اسے اپنے نجی کلینک آیان ہسپتال آنے کی دعوت دے دی جہاں اسی سرجری کے لیے 45 ہزار روپے کا پیکج بھی بتا دیا،

    متاثرہ شہری ظہیر نے میڈیا کو بتایا کہ وہ شدید تکلیف کے باعث جمعہ کے روز ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان پہنچا تھا۔ پرچی کاؤنٹر نے اسے 64 نمبر کمرہ کے سرجن کے پاس بھیجا، لیکن سرجن نے محض ایک پین کلر لکھ کر دی اور ڈراتے ہوئے کہا کہ آج ہی سرجری کروانا بھی ضروری ہے مگر یہ سرجری ٹی ایچ کیو میں نہیں ہو سکتی راولپنڈی سرکاری ہسپتال چلے جاو یا میرے پاس پرائیویٹ ہسپتال آ جاو، میرے استفسار پر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر سودے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو پرائیویٹ 65 ہزار خرچہ ہے لیکن آپ سے 45 ہزار لے لوں گا۔ غریب مریض رقم نہ ہونے کے باعث مایوس ہو کر گھر لوٹ گیا، جہاں ایک مقامی سماجی شخصیت نے اس کی حالت زار دیکھ کر چندہ جمع کیا اور ایک دوسرے نجی ہسپتال میں 30 ہزار روپے میں اس کی معمولی سرجری کروائی۔

    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایک عام نجی ہسپتال میں وہ سرجری ہو سکتی ہے تو کروڑوں روپے کے بجٹ سے چلنے والے ٹی ایچ کیو میں کیوں نہیں؟ کیا سرجن ڈاکٹر صرف نجی کلینک بھرنے اور سرکاری تنخواہ ہضم کرنے کے لیے بھرتی کیے گئے ہیں؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کمرہ نمبر 64 کے اس تاجر ڈاکٹر کے خلاف فوری انکوائری کی جائے اور سی او ہیلتھ راولپنڈی و انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر ان کا محاسبہ کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ہسپتال میں معمولی سرجری کی سہولت بھی میسر نہیں تو انتظامیہ کو چاہیے کہ ہسپتال کو تالا لگا کر چابیاں محکمہ صحت کے حوالے کر دے۔

  • ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    فری ادویات کا اعلان وہ تو سارا دن کہتی رہتی ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کے فری میڈیسن ویژن کا ٹی ایچ کیو میں تمسخر
    آپریشن تھیٹر کے باہر مریض خوار، فارمیسی سے سامان غائب مریضوں کو لوٹنے کا بازار گرم شہریوں کا محکمہ صحت کی غفلت پر شدید احتجاج
    گوجرخان(قمرشہزاد) گوجرخان کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صحت سہولت پروگرام کے بلند و بانگ دعووں کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ہسپتال انتظامیہ اور عملے نے نہ صرف حکومتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھا بلکہ وزیر اعلیٰ کی ذات کے حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ اور توہین آمیز رویہ اپنا کر حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو جس میں آپریشن کے لیے آئی ایک غریب مریضہ کو ہسپتال عملے نے سرجری کا سامان باہر سے خریدنے کا حکم دیا۔ جب مریضہ کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ ہسپتالوں میں تمام ادویات اور سامان مفت ملے گا، تو وہاں موجود عملے نے مبینہ طور پر انتہائی شرمناک جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مریم نواز تو سارا دن یہی کہتی رہتی ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی توہین ہیں بلکہ اس کرپٹ مافیا کی عکاسی کرتے ہیں جو غریب مریضوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ مریضہ کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو نے ہسپتال انتظامیہ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔ فارمیسی سے ادویات کی عدم فراہمی اور ڈاکٹر کی جانب سے طلب کردہ دو جوڑے گلوز تک نہ ملنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں سرکاری ادویات یا تو غائب کی جا رہی ہیں یا پھر جان بوجھ کر مریضوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف مریم نواز پنجاب کے ہسپتالوں کی کایا پلٹنے کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کا یہ ہسپتال ان کے ویژن کے لیے شرمناک دھبہ بن چکا ہے۔


    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف بیانات تک محدود نہ رہا جائے، بلکہ گوجرخان ہسپتال کے اس باغی اور بدتمیز عملے کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ کے احکامات کی اہمیت ان کے اپنے ملازمین کی نظر میں سارا دن کی باتوں سے زیادہ نہیں، تو پھر ایسے ہسپتالوں کو بند کر دینا ہی بہتر ہے۔

  • پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور دوبارہ اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی چیز حتمی نہیں، اور جب تک وائٹ ہاؤس باضابطہ اعلان نہ کرے اس وقت تک کسی فیصلے کو یقینی نہ سمجھا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ ایک ممکنہ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے پُرامید ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر امریکی وفد ایران کے ساتھ اگلے مرحلے کے مذاکرات کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کا امکان ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد ہی جائے، جہاں گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی حکام سے مذاکرات کی قیادت کی تھی،ایران، امریکا جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے۔

    پریس سیکریٹری نے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں درست نہیں ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت امریکا مکمل طور پر مذاکراتی عمل میں مصروف ہے۔

    ذرائع کے مطابق اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کا آپشن اب بھی موجود ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہاں ہے۔

  • اقرار الحسن سیاسی بن گئے،صحافت چھوڑدی، اے آر وائی نیوز سے استعفیٰ

    اقرار الحسن سیاسی بن گئے،صحافت چھوڑدی، اے آر وائی نیوز سے استعفیٰ

    معروف صحافی اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے اے آر وائی نیوز سے 21 سالہ وابستگی کے بعد باقاعدہ استعفیٰ دے دیا ہے۔

    اقرار الحسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اے آر وائی نیوز اور اپنی سیاسی تحریک “عوام راج” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، لہٰذا انہوں نے “عوام راج” کا راستہ اختیار کیا۔اقرار الحسن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 21 سال کا شاندار سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے پروگرام “سرِ عام” کو ملنے والی محبتوں، دعاؤں اور عوامی پذیرائی پر ناظرین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے شمار یادوں کے ساتھ اس نئے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔

    اقرار الحسن نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز اُس وقت کیا تھا جب اے آر وائی نیوز کی نشریات دبئی سے جاری ہوتی تھیں۔ ابتدائی دور میں انہوں نے بطور نیوز کاسٹر اپنی شناخت بنائی، جبکہ بعد ازاں کرپشن کے خلاف اپنے مشہور پروگرام سرِ عام کے ذریعے ملک بھر میں شہرت حاصل کی۔دو دہائیوں سے زائد عرصے تک وہ اے آر وائی نیوز کا نمایاں چہرہ رہے اور پاکستانی میڈیا میں ایک بااثر آواز کے طور پر جانے گئے۔ ان کی صحافتی خدمات اور تحقیقاتی رپورٹس نے انہیں عوامی حلقوں میں خاص مقام دلایا۔

    اقرار الحسن کے استعفے کی بنیادی وجہ ان کی نئی سیاسی جماعت عوام راج کو قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافت اور سیاست کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا ممکن نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت کے مشن کو ترجیح دی۔اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے اے آر وائی نیوز کی قیادت، ساتھیوں اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ 21 سال ان کی زندگی کا یادگار ترین باب رہے گا۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر “پاکستان زندہ باد” اور “عوام راج پائندہ باد” کے نعرے بھی درج کیے

  • عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کروانے کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جہاں ان کا اعلیٰ سطحی استقبال کیا گیا۔

    تہران آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے وفد کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور امریکہ ایران مذاکراتی عمل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات گہرے، تاریخی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شاندار میزبانی اور مثبت کردار قابلِ تحسین ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط روابط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور قریبی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مشترکہ کوششوں سے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

    مبصرین کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف پاک ایران تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں بھی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

  • نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    عصرِ حاضر کی بساط پر بچھا ہوا انسانی معاشرہ ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی کے کسی بھی ورق میں نہیں ملتی۔ یہ صدی اپنے جلو میں ترقی کے جو چراغ لے کر آئی تھی، ان کی چکا چوند نے انسانی بصیرت کو اس حد تک خیرہ کر دیا ہے کہ اب ہمیں روشنی تو دکھائی دیتی ہے مگر راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ہم ایک ایسے ہجومِ ناآشنائی کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے سے جڑا ہوا (Connected) ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر حقیقت میں ہر فرد تنہائی کے ایک ایسے جزیرے پر مقیم ہے جس کے چاروں طرف خاموشی کا سمندر موجزن ہے۔

    قدیم یونانی فلسفہ ہو یا مشرقی تصوف، انسان کو ہمیشہ "حیوانِ ناطق” یا "اشرف المخلوقات” کے طور پر اس کے سماجی اور روحانی رشتوں سے پہچانا گیا، مگر آج کا انسان "حیوانِ مشینی” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہماری زندگیوں میں رفتار کا وہ تلاطم ہے جس نے سکونِ قلب کی متاع چھین لی ہے۔ ہم وقت کی دھول اڑاتے ہوئے اس منزل کی طرف گامزن ہیں جس کا کوئی نشان نہیں، اور اس بھاگ دوڑ میں ہم وہ لمحہ کھو بیٹھے ہیں جسے "ادراکِ ذات” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ان کہی اور ان دیکھی تھکن ہے جو ہڈیوں میں نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر چکی ہے۔

    ٹیکنالوجی کے اس عہدِ غلبہ میں انسانی جذبات کو "مصنوعی بصارت” (Artificial Vision) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ وہ احساسات جن کے اظہار کے لیے کبھی غزل کے قافیے اور نظموں کے استعارے بھی کم پڑ جایا کرتے تھے، اب محض ایک "ایموجی” یا "ری ایکشن” کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ لفظوں کی حرمت پامال ہو چکی ہے کیونکہ اب وہ دل سے نہیں بلکہ مصلحتوں کی اسکرین سے جنم لیتے ہیں۔ ہم نے رفاقتوں کو "ڈیجیٹل سگنلز” میں مقید کر دیا ہے؛ ملاقاتیں اب باہمی لمس اور آنکھوں کی گفتگو سے عاری ہو کر بے جان پکسلز (Pixels) میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

    ادب ہمیشہ سے انسانی ضمیر کا آئینہ دار رہا ہے، مگر آج کا انسان خارجی دنیا کے مصنوعی شور میں اتنا محو ہے کہ اسے اپنے اندر سے اٹھنے والی کراہیں سنائی نہیں دیتیں۔ ہم دوسروں کے "ڈیجیٹل اسٹیٹس” کو دیکھ کر اپنی زندگی کے معیار مقرر کرتے ہیں، مگر اپنی روح کے اس بوجھ کو بانٹنے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں پاتے جو اسے روز بروز کچل رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب آنسو بھی اسٹوریز میں "نمائش” کے لیے رکھے جاتے ہیں اور دکھ کو بھی "پبلک ڈسپلے” کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ کرب جو کبھی صیغہِ راز میں رہ کر انسان کو کندن بناتا تھا، اب محض سستی شہرت کا ذریعہ بن گیا ہے۔

    یہ دورِ ترقی دراصل "اجتماعی بیگانگی” کا عہد ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے کئی افراد کے درمیان رہ کر بھی ان سے میلوں دور ہوتے ہیں۔ قربت کا مفہوم اب جسمانی موجودگی نہیں بلکہ "آن لائن” ہونا رہ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنہائی ہے جو صحراؤں میں نہیں بلکہ بھرے مجمعوں میں پیدا ہوتی ہے—ایسی تنہائی جہاں آپ کے پاس "فرینڈ لسٹ” میں تو ہزاروں لوگ ہوں، مگر دستک دینے کے لیے کوئی ایک بھی دروازہ حقیقی نہ ہو۔
    شاید مستقبل کا مورخ ہماری اس تہذیب پر نوحہ لکھتے ہوئے کہے گا کہ وہ لوگ کائنات کی تسخیر کے خواب دیکھتے تھے مگر اپنے وجود کی سرحدوں سے ناواقف تھے۔ انہوں نے جینے کے تمام اسباب تو فراہم کر لیے تھے، مگر "جینے کے ڈھنگ” سے محروم رہے۔ ہم نے سب کچھ پا لیا، مگر افسوس کہ اس سارے عمل میں ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا۔ یہ عہد دراصل اس حقیقت کا شاہد ہے کہ اگر احساس مر جائے تو انسان محض ایک گوشت پوست کا مشینی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے

  • امن کا مرکز، اسلام آبادتحریر: رانا شہزادہ الطاف

    امن کا مرکز، اسلام آبادتحریر: رانا شہزادہ الطاف

    دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والی چنگاریاں کسی بھی وقت پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے کر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ لیکن ایسے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نے ایک بار پھر "امن کے پیامبر” کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا۔

    حالیہ امریکہ و ایران مذاکرات کا اسلام آباد میں کامیاب انعقاد اور ان کا حل ہونا محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کی بہت بڑی جیت ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے تو شاید آج دنیا ایک ایسی تباہی کا منظر دیکھ رہی ہوتی جس کا تصور ہی لرزہ خیز ہے۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ ٹکراؤ کا مطلب نسلِ انسانی کا خاتمہ تھا۔

    پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست ہے جو جنگوں میں فریق بننے کے بجائے امن کے پل تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام آباد کی پرسکون فضاؤں میں ہونے والے ان فیصلوں نے ثابت کیا کہ بڑی سے بڑی غلط فہمی اور دیرینہ دشمنی کا حل بھی بندوق کی گولی میں نہیں بلکہ میز پر موجود مکالمے میں ہے۔اس کامیابی نے جہاں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکالا ہے، وہاں پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ آج پوری دنیا سکھ کا سانس لے رہی ہے، اور اس امن کا سہرا ان تمام قوتوں کے سر ہے جنہوں نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے تباہی کے دہانے سے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔بلا شبہ، اسلام آباد نے آج تاریخ کا رخ موڑ کر دنیا کو ایک نئی زندگی کی امید دی ہے۔

  • تیسری عالمی جنگ کا ٹل جانا اور اسلام آباد کا تاریخی کردار،تحریر: جان محمد رمضان

    تیسری عالمی جنگ کا ٹل جانا اور اسلام آباد کا تاریخی کردار،تحریر: جان محمد رمضان

    تاریخ کے صفحات جب بھی پلٹے جائیں گے، اکیسویں صدی کے اس عشرے کو انسانیت کے لیے انتہائی نازک دور قرار دیا جائے گا۔ ایک ایسا وقت جب جدید ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں نے انسان کو طاقت کے نشے میں چور کر دیا تھا، عین اسی وقت مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں سے اٹھنے والی امریکہ اور ایران کی کشیدگی نے دنیا کو ہولناک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ عالمی مبصرین پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں ہے، جس کے بعد شاید زمین پر زندگی کے آثار باقی نہ رہیں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اور امن کی اس تلاش کا مرکز بنا پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد۔

    حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے کامیاب مذاکرات محض دو ممالک کے درمیان مفاہمت نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کی بقا کا پروانہ ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے، وہاں ایک معمولی سی چنگاری بھی عالمی آتش فشاں کو پھاڑنے کے لیے کافی تھی۔ بحیرہ عرب سے لے کر خلیجِ فارس تک پھیلے ہوئے تنازعات نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کو مفلوج کر دیا تھا۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ بڑی طاقتیں بھی بے بس نظر آ رہی تھیں۔
    ایسے میں اسلام آباد کا بطورِ میزبان سامنے آنا اور دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر جرات مندانہ فیصلے کروانا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے اس کا کردار ناگزیر ہے۔ ان مذاکرات کی کامیابی نے ان تمام سازشی نظریات کو دفن کر دیا جو پاکستان کو تنہائی کا شکار دیکھنا چاہتے تھے۔

    اس امن معاہدے کے اثرات دور رس ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا اس ہولناک ایٹمی جنگ سے بچ گئی جو شاید انسانی تہذیب کا آخری باب ثابت ہوتی۔ اسلام آباد کی پُرکشش فضاؤں میں ہونے والے ان مکالموں نے ثابت کیا کہ سفارت کاری وہ ہتھیار ہے جو بڑی سے بڑی فوج اور مہلک ترین میزائل سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس کامیابی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور درمیان میں پاکستان جیسا مخلص ثالث موجود ہو، تو دہائیوں پرانی دشمنی بھی دوستی اور مفاہمت میں بدل سکتی ہے۔

    آج جب دنیا کے بڑے بڑے دارالحکومت جنگ کے سائے میں سہمے ہوئے تھے، اسلام آباد سے نکلنے والی امن کی اس کرن نے پوری دنیا کو امید کی نئی روشنی دی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری موقع ہے کہ وہ خود کو خطے میں معاشی اور سفارتی مرکز کے طور پر منوائے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ ترقی کا راستہ صرف اور صرف امن کی شاہراہ سے گزرتا ہے۔ جان محمد رمضان کی یہ تحریر اس بات کی گواہ ہے کہ آج اسلام آباد نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکال کر تاریخ کا رخ موڑ دیا ہے۔

  • ایرانی سفیر کی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد

    ایرانی سفیر کی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد

    ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے وفد کے ہمراہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں حالیہ امریکا ایران جنگ کے اثرات ، مضمرات سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    جے یو آئی کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق ایرانی سفیرکا کہنا تھا کہ ایران امریکا جنگ کے بارے میں آپ کے جاندار مؤقف پر ایرانی قوم کی طرف سے شکرگزار ہوں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی میزبانی پاکستان کا اعزاز ہے، جنگ بندی کی توقع اور مستقل امن کی تمنا کے ساتھ اسلامی بلاک کا قیام ہماری تمنا ہے، اسلامی بلاک جے یو آئی کے منشورکا حصہ ہے، اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہیے، وحدت کے بغیر ہم ہمیشہ استعمال ہوں گے، اسلامی ممالک کی خود مختاری کا احترام ہونا چاہیے، مسلم اُمّہ کا مل بیٹھ کر مضبوط قوت سے مسائل کو حل کرنا وقت کا تقاضہ ہے، بیت المقدس کا تحفظ اور اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزادکرانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

    ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ میں آپ کے اس مؤقف کی تائیدکرتا ہوں، امریکی جارحیت پر مولانا فضل الرحمان سمیت پاکستانی عوام کا ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستانی عوام، علما اور مختلف طبقہ فکرکا مضبوط اور متوازن مؤقف قابل تحسین ہے۔

    قبل ازیں امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔جے یو آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں اہم امور ، عالمی حالات اور خطے کو درپیش امن وامان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،اعلامیے کے مطابق ملاقات میں امریکا ایران مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران مجوزہ قانون سازی کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا،ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری،کامران مرتضٰی، اسلم غوری، مولانا اسعد محمود اور مولانا اسجد محمود شریک تھے۔