آج گوجرخان کی گلیوں میں گھومتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی کے لیے جانا جاتا تھا، آج مسائل کی گرد میں اٹا ہوا ایک ایسا لاوارث علاقہ معلوم ہوتا ہے جہاں سفید پوش طبقہ اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے روزانہ ایڑھیاں رگڑنے پر مجبور ہے۔ گوجرخان کے باسیوں کے لیے بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ واپڈا اور گیس آفس کے افسران کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گھنٹوں بجلی غائب رہنا معمول بن چکا ہے، جس نے کاروبارِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر گیس کی نایابی نے پوری کر دی ہے مائیں بہنیں ٹھنڈے چولہوں کے سامنے بیٹھی دہائیاں دے رہی ہیں، مگر سلنڈر مافیا کی چاندی ہے۔ بل تو ہزاروں میں آتے ہیں مگر سہولیات کے نام پر صرف ذلت اور رسوائی شہریوں کا مقدر بن چکی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت نے شہر کو ایک نئے انسانی المیے سے دوچار کر دیا ہے۔ پانی کی سپلائی کا نظام درہم برہم ہے۔ فلٹریشن پلانٹس صرف نمائشی رہ گئے ہیں، اور غریب آدمی مہنگے داموں پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ کیا اس جدید دور میں بھی گوجرخان کے شہریوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایک بوند صاف پانی مانگتے ہیں؟افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن نمائندوں کو ہم نے اپنا درد بانٹنے کے لیے ووٹ دیا، ان کی سیاست اب صرف جنازوں، ولیموں اور شادیوں میں حاضری لگوانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے ولیمے پر مسکرا کر مل لینا یا کسی کے جنازے میں صفِ اول میں کھڑا ہو جانا ہی عوامی خدمت ہے۔ جناب، ان متاثرین سے پوچھیں جن کے گھر میں گیس نہیں کہ روٹی پکا سکیں، ان کے لیے آپ کی ان رسمی حاضریوں کی کیا اہمیت ہے؟ عوامی مسائل پر فوکس تو جیسے ان کے منشور سے ہی خارج ہو چکا ہے۔خوشامدی ٹولہ اور مصلحت پسند فلاسفر
شہر میں مصاحبوں، مالشیوں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالنے والوں کی ایک ایسی فوج تیار ہو چکی ہے جس نے حقائق اور نمائندوں کے درمیان دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔ حیرت تو ان نام نہاد سماجی تنظیموں اور دانشوروں پر ہے جن کے پاس ہر مسلے پر فلسفہ تو موجود ہے، مگر جب حق کی بات کرنے یا عوام کے لیے سڑک پر نکلنے کا وقت آتا ہے تو مصلحت کی چادر اوڑھ کر کونوں میں دبک جاتے ہیں۔ نجانے یہ لوگ سچ بولنے سے کیوں خوف کھاتے ہیں؟ کیا تعلقات نبھانا عوامی حقوق سے زیادہ مقدم ہے؟ واپڈا ہو، گیس آفس، بلدیہ ہو یا پولیس اسٹیشن غریب آدمی کے لیے یہاں صرف تذلیل لکھی ہے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں عوام کو ناکوں چنے چبوانا روز کا معمول ہے۔ اور بات کریں سرکاری ہسپتال کی، تو وہاں علاج کے بجائے کھجل خواری مقدر بن چکی ہے، جہاں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ گوجرخان کا یہ حال دیکھ کر علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجامِ گلستاں کیا ہوگا۔ جب تک اس شہر کے باسی اپنے شعور کو بیدار نہیں کریں گے، جب تک ہم تعلقات پالنے کے بجائے حقوق مانگنے کو ترجیح نہیں دیں گے، یہ خوشامدی ٹولہ اسی طرح بھنگڑے ڈالتا رہے گا اور ہمارا شہر اسی طرح سسکتا رہے گا۔
گوجرخان مسائل کی آماجگاہ، سسکتی عوام اور تماشائی نمائندے،تحریر : قمر شہزاد مغل
