امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار د یتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہی مؤثر قیادت مذاکرات کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیو یارک پوسٹ کے نمائندے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو دن میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے اور امریکا مذاکرات کے لیے پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک موزوں اور قابل اعتماد مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کا انتخاب اس لیے بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں کی قیادت مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی نے امریکا کو دوبارہ پاکستان میں مذاکرات پر غور کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کا امکان ہے اور وہ خود بھی اس میں شرکت کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات پاکستان میں ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی اور پاکستان کا عالمی سطح پر کردار مزید مضبوط ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اگر یہ عمل جاری رہا تو مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح بھی پاکستان بن گیا، ٹرمپ کا مزاکرات کیلئے پاکستان آنے کا اشارہ
