Baaghi TV

لاہور،قاری کا تشدد،12 سالہ بچے کی موت

crime

لاہور کے علاقے برکی میں ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم 12 سالہ طالب علم کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد اہلِ خانہ نے ملزم قاری غلام رسول کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت علی حیدر کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع بہاولنگر کا رہائشی تھا اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور کے ایک مدرسے میں مقیم تھا۔ پولیس نے بتایا کہ بچے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ چند روز قبل مدرسے کے قاری غلام رسول نے علی حیدر کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث اس کے جسم پر متعدد سنگین چوٹیں آئیں اور ہاتھوں اور ٹانگوں سمیت جسم کے مختلف حصوں میں فریکچر ہوئے۔ورثا کے مطابق جب بچے کی حالت تشویشناک ہو گئی تو ملزم نے مبینہ طور پر علاج کرانے کے بجائے اسے بس کے ذریعے گھر روانہ کر دیا اور والد کو اطلاع دی کہ بچہ واپس بھیج دیا گیا ہے۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جب علی حیدر گھر پہنچا تو وہ شدید زخمی اور ناقابلِ بیان تکلیف میں تھا۔ اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بہاولنگر منتقل کیا گیا، جہاں وہ دو روز تک زیرِ علاج رہا۔ اہلِ خانہ کے مطابق مجموعی طور پر آٹھ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد علی حیدر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

واقعے کے بعد بچے کے والد نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ بھی پیش آ سکتے ہیں۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ نامزد ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

More posts