چلاس: گلگت بلتستان کے ضلع چلاس کی تھور ویلی میں اچانک ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، باغات، فصلیں، رابطہ پل، گاڑیاں اور قیمتی سامان سیلابی پانی میں بہہ گئے۔
پولیس حکام کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے فوراً بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو شدید نقصان پہنچایا۔ متاثرہ علاقوں میں متعدد رہائشی مکانات، زرعی اراضی، باغات، تیار فصلیں اور بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔سیلابی پانی واپڈا کالونی میں بھی داخل ہوگیا، جس سے کالونی اور اس سے ملحقہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ تھور میک کے مقام پر واقع ایک مسجد بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی۔ادھر تھور شیتن کے علاقے میں وسیع پیمانے پر زرعی زمینیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ مقامی افراد کے مال مویشی، نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی سیلاب کی نذر ہو گئے، جس سے متاثرین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
پولیس کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے فوراً بعد ریسکیو اور بحالی کی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ امدادی ٹیموں کی کوششوں سے متاثرہ تھور کے دو اہم مقامات پر رابطہ سڑکیں بحال کر کے ٹریفک کی آمدورفت جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
