Baaghi TV

رنگ برنگے انڈرگارمنٹس پہننے سے روکا جاتا تھا ،اداکارہ کا انکشاف

اداکارہ کنیکا مہیشوری نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق کئی ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ معاشرتی دباؤ اور "لوگ کیا کہیں گے” کے خوف نے ان کی زندگی کے کئی اہم فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا، حتیٰ کہ کم عمری میں شادی اور جلد ماں بننے کا فیصلہ بھی اسی دباؤ کا نتیجہ تھا۔

بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ کنیکا مہیشوری، جنہوں نے سپر ہٹ ڈرامہ "دیا اور باتی ہم” میں میناکشی راٹھی کا کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی، ان دنوں اپنے نئے شو "سحر ہونے کو ہے” میں منفی کردار کے باعث خبروں میں ہیں۔ تاہم اس بار ان کی اداکاری نہیں بلکہ ان کی نجی زندگی سے متعلق اعترافات توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ایک حالیہ انٹرویو میں کنیکا نے بتایا کہ بچپن سے ہی انہیں لباس کے انتخاب پر سخت پابندیوں کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق انہیں رنگ برنگے انڈرگارمنٹس پہننے سے بھی روکا جاتا تھا کیونکہ گھر والوں کو خدشہ تھا کہ اگر ان کا رنگ لباس سے نمایاں ہوا تو لوگ کیا کہیں گے۔اداکارہ نے کہا کہ انہیں اکثر یہ سننے کو ملتا تھا کہ سیاہ یا سرخ رنگ کے زیرِ جامہ نہ پہنو کیونکہ اگر وہ کپڑوں سے جھلک گئے تو لوگ غلط رائے قائم کریں گے۔ ان کے بقول معاشرے نے خواتین کے لباس اور ذاتی پسند کو بھی تنقید کا موضوع بنا رکھا ہے۔

کنیکا مہیشوری نے اپنی شادی کے حوالے سے بھی چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت کم عمر میں صرف اس خوف سے شادی کر لی کہ اگر تاخیر ہوئی تو لوگ باتیں بنائیں گے۔ شادی کے بعد بھی یہی دباؤ برقرار رہا اور انہیں جلد بچہ پیدا کرنے کے لیے مختلف انداز میں قائل کیا گیا۔اداکارہ کے مطابق ان کے شوہر اپنے دوستوں کی مثال دیتے تھے جن کے ہاں بچے ہو چکے تھے، جبکہ ان کی ساس کا کہنا تھا کہ گھر میں بچے کی آمد سے میاں بیوی کے درمیان محبت بڑھتی ہے اور اختلافات کم ہو جاتے ہیں۔ کنیکا نے اعتراف کیا کہ وہ اس سماجی دباؤ کے آگے جھک گئیں اور جلد ماں بننے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یہ فیصلہ مکمل طور پر ان کی اپنی خواہش پر مبنی نہیں تھا، لیکن آج وہ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتی ہیں۔ کنیکا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ بچے کی پیدائش کے صرف بارہ دن بعد دوبارہ شوٹنگ پر واپس پہنچ گئی تھیں، جسے وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک مشکل مرحلہ قرار دیتی ہیں۔

کنیکا مہیشوری کے یہ انکشافات سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں، جہاں کئی صارفین نے ان کی بے باکی کو سراہا، جبکہ بعض نے معاشرتی دباؤ کے باعث خواتین کو درپیش مسائل پر سنجیدہ بحث کی ضرورت پر زور دیا۔

More posts