Baaghi TV

مجوزہ معاہدے کے 14 نکات،ایران کا ایٹمی معاملہ ملتوی کر دیا گیا ہے،ایرانی وزیرخارجہ

america

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا اہم بیان سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تاحال ایران اور امریکا کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کیے جائیں گے اور اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدے کی تمام تفصیلات طے ہونے کے بعد عوام کو مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدہ 14 نکات پر مشتمل ہوگا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ عبوری معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا پہلا مرحلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عبوری معاہدہ نافذ العمل نہ ہو سکا تو جوہری مذاکرات کا عمل بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

عباس عراقچی کے مطابق عبوری معاہدے میں ایران کے منجمد مالیاتی فنڈز کی بحالی، امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سمیت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنائے گا، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایران اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے میں خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے گا، جن میں لبنان کی صورتحال بھی اہم ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیلی افواج کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلاء ہے۔ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران لبنان میں حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے گا اور اسے کسی بھی مرحلے پر تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ان کے بقول خطے میں امن و استحکام کے لیے سیاسی حل اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔

More posts