وزارتِ پیٹرولیم نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 373 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا اور یہ نرخ آئندہ ایک ہفتے تک نافذ العمل رہیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور مختلف تجارتی شعبوں کو کچھ حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔ خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اثر مال برداری اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
عوامی حلقوں نے قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم کئی صارفین کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے تناظر میں مزید ریلیف کی ضرورت ہے تاکہ روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی آ سکے۔
حکومت کی جانب سے آئندہ ہفتے کے لیے قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں بجٹ 2026-27 پر بحث جاری ہے اور عوام معاشی ریلیف کے مزید اقدامات کے منتظر ہیں۔
Blog
-

پیٹرول 4 اور ڈیزل 2 روپے فی لیٹر سستا
-

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سوئٹزرلینڈ کا خراج تحسین
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کیسس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور اسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔
سوئس وزیر خارجہ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے بھی اس موقع پر پاکستان کے مؤقف اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال میں مسلسل رابطے اور سفارتی مشاورت انتہائی اہم ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان قریبی رابطوں کو برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنا ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کوششوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جاری مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی استحکام کے امکانات بھی مزید روشن ہو جائیں گے۔ -

امریکا ایران امن معاہدہ قریب، حتمی متن پر اتفاق ہو گیا: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جامع امن معاہدے کے حتمی متن پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور اب دونوں ممالک کے ساتھ مل کر آئندہ مراحل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے جاری بالواسطہ اور ثالثی کے ذریعے ہونے والے مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی ثالثی کوششوں کے دوران مختلف حلقوں کی جانب سے گمراہ کن اطلاعات اور غلط معلومات پھیلانے کی مہم بھی جاری رہی، تاہم ان تمام عوامل سے ہٹ کر حقیقت یہ ہے کہ امن معاہدے کے حتمی متن پر اتفاق ہو چکا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ معاہدے پر عملدرآمد اور دیگر ضروری اقدامات کو مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے امکانات اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ روشن دکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستان نے اپریل 2026 سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران پاکستان کی ثالثی میں ابتدائی دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کے بعد مختلف سطحوں پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
ابتدائی مذاکرات میں جنگ بندی کے تسلسل، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور خطے کے امن و استحکام جیسے اہم معاملات زیر بحث رہے۔ بعد ازاں اسلام آباد سمیت مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھے گئے۔
وزیراعظم کے بیان کے مطابق اگرچہ مذاکرات کے دوران بعض اوقات دونوں فریقوں کی جانب سے متضاد بیانات بھی سامنے آئے، لیکن سفارتی عمل جاری رہا اور بالآخر معاہدے کے حتمی متن تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
اس پیش رفت کو عالمی سطح پر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امن معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو خطے میں استحکام اور عالمی معاشی منڈیوں میں اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تاحال معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے باضابطہ توثیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں معاہدے پر دستخط یا اس کے نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ -

وزیراعظم شہباز شریف کا گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کے معاملے پر اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، اس لیے اسے حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن جمہوری روایات اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کرے گی۔ ان کے مطابق عوام کے فیصلے کا احترام ہر جمہوری جماعت کی ذمہ داری ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پارٹی کے منتخب اراکین حکومت سازی کے مرحلے میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کریں گے تاکہ اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے میں آسانی ہو۔
وزیراعظم کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی استحکام، جمہوری اقدار اور اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ عزت، احترام اور تعاون کا رشتہ برقرار رکھا ہے اور مستقبل میں بھی یہی روایت جاری رہے گی۔
سیاسی حلقوں میں وزیراعظم کے اس اعلان کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ دنوں میں بجٹ اجلاس اور سیاسی مشاورت کے دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم وزیراعظم کے اس بیان سے دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کا پیغام ملا ہے۔
گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے یہ اعلان سیاسی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے درکار حمایت حاصل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف اتحادی سیاست کو تقویت ملے گی بلکہ وفاقی سطح پر قائم سیاسی تعاون بھی مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ -

دفاعی بجٹ 3 ہزار 10 ارب روپے تجویز
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاعی امور اور دفاعی سروسز کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 10 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق موجودہ علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق دفاعی سروسز کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ دفاعی انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 10 ارب 90 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ فنڈز دفاعی اداروں کے انتظامی اور آپریشنل امور کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
بجٹ میں دفاعی ملازمین کے اخراجات کے لیے 967 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر متعلقہ اخراجات پورے کیے جائیں گے۔
دفاعی آپریٹنگ اخراجات کے لیے 743 ارب 46 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مد میں تربیت، آپریشنز، ایندھن، لاجسٹکس اور دیگر ضروری سرگرمیوں کے اخراجات شامل ہیں جو مسلح افواج کی روزمرہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی فزیکل اثاثہ جات کے لیے 925 ارب 83 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم کا مقصد جدید دفاعی سازوسامان، ٹیکنالوجی، آلات اور دیگر عسکری ضروریات کی خریداری اور بہتری کو یقینی بنانا ہے۔
اسی طرح دفاعی سول ورکس کے لیے 363 ارب 15 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مد میں فوجی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے، رہائشی منصوبوں اور دیگر تعمیراتی کاموں کے اخراجات شامل ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ قومی سلامتی کے تقاضوں، جدید جنگی ضروریات اور خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دفاعی اخراجات کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری مستقبل کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
بجٹ تجاویز اب پارلیمانی بحث اور منظوری کے مراحل سے گزریں گی، جس کے بعد ان اخراجات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ -

سینیٹری پیڈز اور مانع حمل اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں خواتین کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق اہم ریلیف اقدامات تجویز کرتے ہوئے سینیٹری پیڈز، خواتین کی صحت سے وابستہ ضروری اشیا اور مانع حمل مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت خواتین کی صحت اور فلاح کو اہمیت دیتی ہے، اسی لیے سینیٹری پیڈز اور خواتین کی صحت سے متعلق مختلف مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان اشیا کو عام خواتین کے لیے زیادہ قابل رسائی اور سستا بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق سینیٹری مصنوعات روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں اور ان پر ٹیکس کے خاتمے سے لاکھوں خواتین کو مالی ریلیف مل سکتا ہے، خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کو اس اقدام سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں خاندانی منصوبہ بندی کو بھی قومی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے تناظر میں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو فروغ دینا ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت مانع حمل اشیا پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے خاندانی منصوبہ بندی کی مصنوعات نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوں گی، جس سے صحت عامہ کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی اور شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
سماجی اور صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں نے بجٹ کی ان تجاویز کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے شعبوں میں ٹیکس ریلیف عوامی فلاح کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تجاویز بجٹ منظوری کے پارلیمانی مراحل مکمل ہونے کے بعد حتمی شکل اختیار کریں گی، تاہم ابتدائی طور پر انہیں عوامی صحت اور سماجی بہبود کے حوالے سے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ -

یہ مجموعی طور پر ترقی اور سرمایہ کاری کا بجٹ ہے، ایس ایم تنویر
فیڈریشن چیمبر ریجنل آفس لاہور میں بجٹ تقریر سننے کے بعد سابق نگراں وفاقی وزیر اور کاروباری شخصیت ایس ایم تنویر نے دیگر صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مجموعی طور پر ترقی، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا بجٹ قرار دیا۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر کے محصولات کے ہدف کو برقرار رکھتے ہوئے معیشت میں استحکام لانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ نان ٹیکس ریونیو کو 4845 ارب روپے تک بڑھانے کے بعض اثرات مہنگائی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 150 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔
ایس ایم تنویر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کا کردار قابل تعریف ہے۔
انہوں نے دفاعی بجٹ کو 3 ہزار ارب روپے تک بڑھانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں کمی ایک مثبت قدم ہے جس سے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا۔ ان کے مطابق لیٹ فائلر کی کیٹیگری ختم کرنا بھی ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنسٹرکشن اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بجٹ میں دی گئی سہولیات سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں دیے گئے ریلیف کو بھی خوش آئند قرار دیا، اگرچہ ان کے بقول ملازمت پیشہ افراد کو مزید سہولت ملنی چاہیے تھی۔
ایس ایم تنویر نے زرعی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے زراعت کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے کو بھی مثبت قرار دیا اور کہا کہ 50 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کا خاتمہ اور اس سے زائد آمدن پر شرح میں دو فیصد کمی کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ سرمایہ کاری، کاروبار اور معاشی ترقی کے فروغ کی سمت میں ایک مثبت کوشش ہے، جس کے نتائج آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے۔ -

ایوانِ صدر کیلئے 2 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز
وفاقی بجٹ 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق ایوانِ صدر کے اخراجات کے لیے 2 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ رقم ایوانِ صدر کے انتظامی امور، دیکھ بھال، عملے اور مختلف آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
بجٹ دستاویزات میں ایوانِ صدر کی مختلف ضروریات کے لیے الگ الگ فنڈز بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ایوانِ صدر کی عمارت کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے ایک کروڑ 17 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ تاریخی اور سرکاری اہمیت کی حامل عمارت کو بہتر حالت میں برقرار رکھا جا سکے۔
اسی طرح ایوانِ صدر کے لانز، باغات اور گراؤنڈز کی دیکھ بھال کے لیے 10 کروڑ 81 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ رقم سبزہ زاروں کی حفاظت، تزئین و آرائش اور دیگر متعلقہ امور پر خرچ کی جائے گی۔
بجٹ میں صدرِ مملکت کے موٹر کیڈ کے اخراجات کے لیے بھی 14 کروڑ 68 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس رقم کا مقصد سرکاری سفری انتظامات، گاڑیوں کی دیکھ بھال اور متعلقہ انتظامی اخراجات پورے کرنا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایوانِ صدر کی ڈسپنسری اور طبی سہولیات کے لیے 8 کروڑ 21 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس فنڈ سے طبی عملے، ادویات اور صحت سے متعلق دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
بجٹ تجاویز کے مطابق یہ تمام اخراجات آئندہ مالی سال کے دوران ایوانِ صدر کے انتظامی اور آپریشنل امور کو مؤثر انداز میں جاری رکھنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ پر پارلیمان میں بحث کے بعد ان تجاویز کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ -

فیس بک اور انسٹاگرام کی سروس متاثر، صارفین پریشان
پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام کی سروس متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث لاکھوں صارفین کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صارفین کے مطابق فیس بک پر پیغامات بھیجنے، نئی پوسٹس شیئر کرنے اور بعض فیچرز تک رسائی میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ کئی صارفین نے شکایت کی ہے کہ ان کی سرگرمیاں معمول کے مطابق انجام نہیں پا رہیں اور پلیٹ فارم بار بار مسائل کا شکار ہو رہا ہے۔
فیس بک کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام کی سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔ متعدد صارفین نے لاگ اِن کے دوران مشکلات، فیڈ لوڈ نہ ہونے اور دیگر تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ بعض علاقوں میں صارفین اپنے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔
سروس میں خرابی کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے متبادل پلیٹ فارم ایکس پر اپنی شکایات اور تجربات شیئر کرنا شروع کر دیے۔ مختصر وقت میں فیس بک اور انسٹاگرام سے متعلق ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے اور بڑی تعداد میں صارفین نے سروس متاثر ہونے کی تصدیق کی۔
تکنیکی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی خرابی عموماً سرورز، نیٹ ورک انفراسٹرکچر یا سسٹم اپ ڈیٹس کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے سامنے آ سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین متعلقہ کمپنی کی جانب سے باضابطہ وضاحت کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
تاحال میٹا کی جانب سے سروس متاثر ہونے کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ صارفین کمپنی کی جانب سے وضاحت اور مسئلے کے فوری حل کے منتظر ہیں۔
عالمی سطح پر فیس بک اور انسٹاگرام کروڑوں افراد روزانہ استعمال کرتے ہیں، اس لیے معمولی تکنیکی خرابی بھی بڑی تعداد میں صارفین کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسئلہ سرورز سے متعلق ہے تو اسے جلد حل کیے جانے کا امکان ہے۔ -

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کردیا
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین، پنشنرز، تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے مختلف ریلیف اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ بجٹ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی آمد پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔
بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اور پاکستان نے گزشتہ برسوں میں معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اسی طرح ترسیلات زر بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف آمدنی سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے اور سرچارج ٹیکس ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ کفالت پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد خریدنے پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدنی پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1050 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 365 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے، سود کی ادائیگیوں کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے جبکہ سبسڈیز کے لیے 1091 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کے محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی حمایت یافتہ ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا جبکہ بعض مواقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس کے باوجود وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر مکمل کی اور حکومت نے بجٹ کو معاشی استحکام اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔