Baaghi TV

‎یہ مجموعی طور پر ترقی اور سرمایہ کاری کا بجٹ ہے، ایس ایم تنویر

فیڈریشن چیمبر ریجنل آفس لاہور میں بجٹ تقریر سننے کے بعد سابق نگراں وفاقی وزیر اور کاروباری شخصیت ایس ایم تنویر نے دیگر صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مجموعی طور پر ترقی، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا بجٹ قرار دیا۔
‎ایس ایم تنویر نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر کے محصولات کے ہدف کو برقرار رکھتے ہوئے معیشت میں استحکام لانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ نان ٹیکس ریونیو کو 4845 ارب روپے تک بڑھانے کے بعض اثرات مہنگائی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
‎انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 150 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔
‎ایس ایم تنویر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کا کردار قابل تعریف ہے۔
‎انہوں نے دفاعی بجٹ کو 3 ہزار ارب روپے تک بڑھانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
‎پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں کمی ایک مثبت قدم ہے جس سے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا۔ ان کے مطابق لیٹ فائلر کی کیٹیگری ختم کرنا بھی ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔
‎انہوں نے کہا کہ کنسٹرکشن اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بجٹ میں دی گئی سہولیات سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں دیے گئے ریلیف کو بھی خوش آئند قرار دیا، اگرچہ ان کے بقول ملازمت پیشہ افراد کو مزید سہولت ملنی چاہیے تھی۔
‎ایس ایم تنویر نے زرعی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے زراعت کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے کو بھی مثبت قرار دیا اور کہا کہ 50 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کا خاتمہ اور اس سے زائد آمدن پر شرح میں دو فیصد کمی کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی۔
‎انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ سرمایہ کاری، کاروبار اور معاشی ترقی کے فروغ کی سمت میں ایک مثبت کوشش ہے، جس کے نتائج آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے۔

More posts