وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں خواتین کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق اہم ریلیف اقدامات تجویز کرتے ہوئے سینیٹری پیڈز، خواتین کی صحت سے وابستہ ضروری اشیا اور مانع حمل مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت خواتین کی صحت اور فلاح کو اہمیت دیتی ہے، اسی لیے سینیٹری پیڈز اور خواتین کی صحت سے متعلق مختلف مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان اشیا کو عام خواتین کے لیے زیادہ قابل رسائی اور سستا بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق سینیٹری مصنوعات روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں اور ان پر ٹیکس کے خاتمے سے لاکھوں خواتین کو مالی ریلیف مل سکتا ہے، خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کو اس اقدام سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں خاندانی منصوبہ بندی کو بھی قومی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے تناظر میں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو فروغ دینا ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت مانع حمل اشیا پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے خاندانی منصوبہ بندی کی مصنوعات نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوں گی، جس سے صحت عامہ کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی اور شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
سماجی اور صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں نے بجٹ کی ان تجاویز کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے شعبوں میں ٹیکس ریلیف عوامی فلاح کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تجاویز بجٹ منظوری کے پارلیمانی مراحل مکمل ہونے کے بعد حتمی شکل اختیار کریں گی، تاہم ابتدائی طور پر انہیں عوامی صحت اور سماجی بہبود کے حوالے سے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
سینیٹری پیڈز اور مانع حمل اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز
