وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کے تحت 39 ہزار نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں آئی ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی اقدامات کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق مختلف بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا کی کئی بڑی اور معروف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں یا اپنے کاروباری منصوبوں کو وسعت دے رہی ہیں۔ ان میں گوگل، آرامکو، علی بابا گروپ، اے ڈی پورٹس اور ترکش پیٹرولیم جیسی عالمی کمپنیاں شامل ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کاروباری ماحول بہتر بنانے، سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے نفاذ اور معاشی استحکام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ نہ صرف کاروباری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ پاکستان کی برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی، توانائی، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں عالمی کمپنیوں کی موجودگی مستقبل میں مثبت معاشی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں مزید اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے گا تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔
39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹر، عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد
