Baaghi TV


بجٹ 2026-27: مزدوروں کیلئے کم از کم تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ

‎وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مزدوروں اور سرکاری ملازمین کے لیے اہم ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا۔
‎وزیر خزانہ کے مطابق کم از کم ماہانہ اجرت میں تقریباً 3 ہزار سے 4 ہزار روپے تک اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ اس اقدام سے ملک بھر میں لاکھوں محنت کشوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
‎محمد اورنگزیب نے یہ بھی اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عوامی فلاح اور معاشی دباؤ میں کمی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
‎بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کی مالیت 8 ہزار 54 ارب روپے رکھی گئی ہے۔
‎دستاویزات کے مطابق پنشن کی مد میں مجموعی طور پر 1169 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس میں فوجی پنشن کے لیے 822 ارب روپے جبکہ سول پنشن کے لیے 272 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
‎دفاعی شعبے کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو فراہم کی جانے والی سبسڈی کے لیے 1091 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
‎بجٹ کے مطابق سول حکومت کے اخراجات کا تخمینہ 1071 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ ہنگامی صورتحال اور غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر جاری اخراجات 17 ہزار 495 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
‎وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1050 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھا جا سکے۔
‎وزیر خزانہ نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس وصولی ہدف کا تعین کیا گیا ہے، جو حکومتی آمدنی بڑھانے اور مالی خسارے پر قابو پانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

More posts