Baaghi TV

قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص

وزیر خزانہ نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بھی بڑے اقدامات کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کفالت پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا، جبکہ تعلیمی وظائف کے پروگرام کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
‎بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جس کا مقصد کمزور اور مستحق طبقات کو مزید سہارا فراہم کرنا ہے۔
‎وزیر خزانہ نے کہا کہ جاری اخراجات کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے جائیں گے تاکہ ان علاقوں میں ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کو جاری رکھا جا سکے۔
‎انہوں نے قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 224 ارب روپے شامل ہیں۔
‎بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے یہ سرمایہ کاری اہم کردار ادا کرے گی۔
‎وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 365 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

More posts