سامعہ حجاب نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی شخص کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کا دوسرا موقع نہیں ملتا، جبکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمیشہ توبہ اور بہتری کی راہ اختیار کرنے کا موقع عطا فرماتا ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعہ حجاب، جو ماضی میں اپنے مبینہ اغوا کی کوشش کے دعوے کے باعث خبروں میں رہی تھیں، ایک بار پھر اپنے حالیہ بیان کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد یہ معاملہ عدالت سے باہر طے پا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے بیرونِ ملک سفر شروع کیا اور مختلف تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہیں۔اس دوران ان کے لباس، طرزِ زندگی اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آتی رہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مبینہ اغوا کے واقعے کو ہمدردی اور شہرت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
اب سامعہ حجاب نے انسٹاگرام پر اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خود کو بدلنا چاہتی ہیں، لیکن انہیں سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید اور ٹرولنگ کا خوف بھی لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے اپنی زندگی میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختصر اور نمایاں لباس پہننا ترک کر دیا ہے اور حجاب اختیار کرنے کی بھی کوشش کی ہے، تاہم انہیں خدشہ ہے کہ اس فیصلے پر بھی سوشل میڈیا صارفین انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔
سامعہ حجاب نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ان کے نزدیک سوشل میڈیا کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا، جبکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمیشہ توبہ، اصلاح اور نئی شروعات کا موقع عطا فرماتا ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، جہاں بعض صارفین نے ان کے فیصلے کو سراہا ہے جبکہ بعض نے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔
