Baaghi TV

برطانیہ میں شدید گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

لندن: برطانیہ میں جاری غیر معمولی ہیٹ ویو نے گزشتہ کئی دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جہاں جون کے مہینے کا نیا بلند ترین درجہ حرارت 36.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مسلسل دوسرے روز جون کے درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کے بعد حکام نے صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی خدمات کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں اسپتالوں، ایمبولینس سروسز، اسکولوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور پانی کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ میں آ گیا ہے، جبکہ متعدد علاقوں میں ریڈ ہیٹ الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔سرکاری اداروں کے مطابق لندن ایمبولینس سروس نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہی روز 642 جان لیوا ہنگامی کالز موصول ہونے کا ریکارڈ بنایا، جس کی بڑی وجہ شدید گرمی قرار دی گئی۔یونیورسٹی ہاسپٹل ساؤتھمپٹن میں متعدد آپریشنز اور آؤٹ پیشنٹ اپائنٹمنٹس ملتوی کر دی گئی ہیں، جبکہ نورفوک اینڈ نوروچ یونیورسٹی ہاسپٹل میں ایم آر آئی مشینوں کے متاثر ہونے سے سینکڑوں مریضوں کی اپائنٹمنٹس منسوخ کرنا پڑیں۔

دوسری جانب ڈربی شائر کے علاقے ٹنٹ وسل مور میں لگنے والی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فائرفائٹرز گزشتہ 24 گھنٹوں سے زائد عرصے سے مصروف ہیں۔ تقریباً 500 مربع میٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پانی بھی گرایا جا رہا ہے۔ فائر اینڈ ریسکیو حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خشک موسم کے باعث معمولی چنگاری بھی بڑے جنگلاتی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

شدید گرمی کے پیش نظر کینٹ میں پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ہوز پائپ بین نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد اسکول اور نرسریاں بند کر دی گئی ہیں۔ ریلوے کمپنیوں نے شہریوں کو غیر ضروری سفر، خصوصاً ساحلی علاقوں کی جانب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ شدید گرمی کے باعث ٹرانسپورٹ نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات نے لندن، جنوب مشرقی اور مشرقی انگلینڈ سمیت متعدد علاقوں کے لیے ریڈ ہیٹ وارننگ میں توسیع کرتے ہوئے اسے جمعہ کی رات تک برقرار رکھا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلسل تین روز تک ریڈ ہیٹ وارننگ جاری کی گئی ہے، جبکہ دیگر کئی علاقوں میں ایمبر اور یلو ہیٹ الرٹس نافذ ہیں۔

ادھر یورپ بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ نیدرلینڈز میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر ملکی تاریخ کا پہلا کوڈ ریڈ ہیٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ فرانس میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گرمی کے دوران نہاتے ہوئے کم از کم 40 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد پیرس میں عوامی مقامات پر دوپہر کے بعد شراب نوشی پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ماہرین موسمیات اور اقوام متحدہ کے موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں کا واضح نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل اخراج نے ایسے شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

More posts