خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگ کے اثرات سیاحتی صنعت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث دبئی کے لگژری ہوٹلوں کو غیر ملکی سیاحوں کی کمی کا سامنا ہے اور اب وہ بڑی حد تک مقامی رہائشیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں سیکیورٹی خدشات، فضائی آپریشنز اور سفری غیر یقینی صورتحال کے باعث دبئی آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں میں سست روی کے نتیجے میں کئی معروف ہوٹلوں کی بکنگ متاثر ہوئی ہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق بعض لگژری ہوٹلوں نے کم کاروباری سرگرمیوں کو جواز بنا کر تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کے نام پر عارضی طور پر اپنے دروازے بند کر دیے ہیں، جبکہ کئی دیگر ہوٹلوں میں اخراجات کم کرنے کے لیے عملے کی تعداد میں کمی اور تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی کی سیاحتی معیشت کا بڑا انحصار بین الاقوامی سیاحوں پر ہے، تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی نے سیاحتی شعبے کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ متعدد ہوٹل مالکان اور انتظامیہ اس امید پر ہیں کہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کی بحالی کے بعد سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ سکیں گی۔دوسری جانب پام جمیرہ، دبئی مرینا اور دیگر معروف سیاحتی مقامات پر قائم پانچ ستارہ ہوٹلوں نے مقامی رہائشیوں کو متوجہ کرنے کے لیے خصوصی رعایتی پیکجز، ویک اینڈ آفرز اور خاندانی تفریحی پیکجز متعارف کروا دیے ہیں۔ ان رعایتوں کے باعث اب ایسے مقامی افراد بھی لگژری ہوٹلوں میں قیام اور سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو ماضی میں ان کی بلند قیمتوں کے باعث ایسا کرنے سے قاصر تھے۔
سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر علاقائی صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو ہوٹل انڈسٹری کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ سیاحتی بحالی کا انحصار خطے میں امن و استحکام اور بین الاقوامی سفری اعتماد کی بحالی پر ہوگا۔
