Baaghi TV


امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب

‎امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے معاہدے کے لیے پُرعزم ہیں جو امریکی مفادات کا تحفظ کرے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ سے مکمل طور پر باہر کر دے۔
‎اپنے بیان میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے دیگر تمام آپشنز استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
‎امریکی وزیر دفاع کے مطابق جب بھی ایران بین الاقوامی تجارتی راستوں یا بحری گزرگاہوں کو نشانہ بناتا ہے تو امریکی فوج مناسب جواب دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام اور عالمی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے۔
‎دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدے سے قبل نہ تو منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے اور نہ ہی اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان معاملات پر صرف اسی صورت غور کیا جائے گا جب معاہدہ مکمل ہو جائے گا۔
‎ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران مثبت رویہ اختیار کرتا ہے اور طے شدہ شرائط پر عمل کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وہ لبنان کو ایران کے ساتھ کسی ممکنہ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ بنانے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔
‎امریکی صدر نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
‎ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں، اگر اس سے خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں مدد مل سکتی ہو۔

More posts