پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مئی 2026 کے دوران ملک کے تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی کے باعث تجارتی توازن میں بہتری دیکھی گئی، جسے ماہرین معیشت استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ برآمدات میں اضافے سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملتا ہے بلکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے۔
دوسری جانب درآمدات میں 22 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق غیر ضروری اشیاء کی درآمدات پر کنٹرول، مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی اور متبادل مصنوعات کے استعمال نے درآمدی بل میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارے میں نمایاں کمی ملکی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ برآمدات بڑھانے، درآمدات کو متوازن رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے پر مرکوز ہے۔
خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ معیشت کو صرف تجارتی شعبے سے ہی نہیں بلکہ دیگر ذرائع سے بھی تقویت مل رہی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر بھی مثبت رجحان دکھا رہی ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کسی بھی معیشت کے لیے خوش آئند اشارہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے تجارتی خسارہ کم ہوتا ہے اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ میں کمی آتی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی اقتصادی استحکام میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔
حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ حالیہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملکی معیشت بتدریج درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور معاشی اصلاحات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
پاکستان کا تجارتی خسارہ 39 فیصد کم ہوگیا
